Categories
آرٹیکلز

علم الاعداد میں طاقتور ترین عدد 11 کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق اور موجود پاکستانی سیاست ۔۔۔۔ ایک خصوصی تحریر ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منصور آفاق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔علم الاعداد سے میری دلچسپی ’’ اسم ِمحمد ‘‘ اور ’’اسم ِ علی ‘‘ کے عددی تعلق سے پیدا ہوئی۔ محمدﷺ کی میم اور علیؓ کی عین کے عدد جمع کئے جائیں تو 110بنتے ہیں جو علیؓ کے عدد ہیں

اور باقی حمد اور لی کے عدد جمع کئے جائیں تو 92 بن جاتے ہیں جو محمدؐ کے عدد ہیں۔ 92کو بھی آپس میں جمع کیا جائے تو 11بن جاتے ہیں۔ یعنی محمدؐ اور علیؓ دونوں کےعدد ایک سطح پر 11 ہیں کیونکہ اعداد کے علم میں صفر کی کوئی حیثیت نہیں۔ حسینؓ کے اعداد بھی 11 بنتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہندو ‘کلدانی ‘عبرانی ‘مصری او ر یونانی علم الاعداد سے بخوبی واقف تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں یہ علم اپنے پورے عروج پر تھا۔ آصف بن برخیاجو پلک جھپکنے میں ملکہ بلقیس کا تخت لے آیا تھا، اعداد کے علم کا بہت بڑا عالم تھا۔حضرت سلیمانؑ کی سات کونوں والی مہر میں 9نمبرشامل تھے۔ ہاں یاد آیا سلیمانؑ کے عدد بھی 11 بنتے ہیں۔ اعداد کے علم سے لوگ زندگی کے حالات بھی معلوم کرتے ہیں۔ نام رکھتے ہوئے بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اس نام کی عددی کیفیت کیا ہے؟ عبرانی کی قدیم کتابوں میں لکھا ہے کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو یہ علم فرشتے رازئیل کی مدد سے عطا کیا کہ وہ زمین پر قدرت کے رازوں‌سے آگاہ ہو سکیں‌۔یونانیوں کے خیال میں تو کائنات اعداد کی جمع ‘تفریق سے ہی وجود میں آئی ہے۔11کے عدد سے میری بہت پرانی علیک سلیک ہے۔ کبھی میں سوچتا تھا کہ جب کسی ہوٹل میں ٹھہرتا ہوں تو کمرے کا نمبر جمع ہو کر 11 کیوں بن جاتاتھا۔یقین کیجئے اکثر اوقات جن نمبروں سے واسطہ پڑتا تھاوہ کسی نہ کسی حوالے سے 11ضرور بن جاتے تھے

اور میں اسے اتفاق سمجھ کر نظرانداز کردیتا تھا مگر محمدﷺ اور علیؓ کے تعلق کو دیکھ کر میں نے 11 کے عدد پر باقاعدہ غور کرنا شروع کیا۔ خاص طور پر اپنے حوالے سے ۔ گھروالوں نے میرا نام محمد منصور آفاق رکھا تھا۔ محمد کے عدد 92 یعنی 11 بن جاتے ہیں۔ منصور کے عدد 386 بنتے ہیں۔انہیں آپس میں جمع کیا جائے۔ 17 بن جاتے ہیں۔ 17 جو میری تاریخ پیدائش بھی ہے۔ 17کو آپس میں جمع کیا جائے تو 8 بن جاتا ہے۔یعنی محمد منصور آفاق دو گیارہ کے درمیان ایک آٹھ کا عدد ہے۔ میں جس گھر میں پیدا ہوااس کا نمبر141 ہے۔ یعنی گیارہ کے بیچ میں آدھا آٹھ۔میں یوکے میں جس گھر میں رہتا ہوں۔ اس کے نمبر میں دو مرتبہ گیارہ آتا ہے۔ میرے بیٹے وہاں جس گھر میں رہتے ہیں اس کا نمبر 53 ہے۔ یعنی پھر وہی آٹھ۔پاکستان میں آج کل بھی میں جس گھر میں رہ رہا ہوں اس کا نمبر بھی 11 ہے۔ میرے بیٹے کا نام صاحب منصور ہے۔ ’’صاحب ‘‘ کے عددبھی 11 بنتے ہیں۔ جس وقت صاحب کا نام رکھا گیا تھا اس زمانے میں مجھے اعداد کی فسوں کاری کا علم ہی نہیں تھا۔سلطان باہوؒ کے سلسلے سے تعلق رکھنے والے ایک فقیر نے کسی زمانے میں مجھے ’’ یاہو ‘‘ کا ورد کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ کچھ عرصہ میں نے کیا بھی۔ یہ تو بہت بعد میں پتہ چلا کہ ’’یا ‘‘ کے عدد بھی 11 ہیں اور ’’ ہو ‘‘ کے عدد بھی گیارہ ہیں۔

بچپن میں میانوالی میں میری دوستی ایک ’’ عطو کملے‘‘ نامی مجذوب سے ہو گئی تھی۔ وہ اکثر پڑھتا تھا۔ ’’یا میاں محمد بخش۔ یامیاں محمد بخش ‘‘ اسی سبب میاں محمد بخش کی طرف رغبت محسوس کی۔ خاص طور پر ان کی شاعری کی طرف۔ ایک مرتبہ یونہی غور کررہا تھا تو خیال آیا کہ ’’یا‘‘ کے عدد تو 11 ہیں ہی۔ ’’ میاں ‘‘کے عدد بھی 11 ہیں۔ محمد کے بھی گیارہ اور’’ بخش‘‘ کے عدد بھی 11 ہیں۔ اللہ کے بہت سے نام ایسے ہیں جن کے عدد گیارہ ہیں۔ مثال کے طور پرخالق، رازق، ذوالجلال و اکرام، خلاق، مخفی، مغنی، ضار، دافع، کبیر، فاطر، دیان، ہو،واسع، خبیروغیرہ۔ غوث اعظم کے ساتھ 11 کے عدد کے تعلق کو تو خیر ساری دنیا جانتی ہے۔گھر گھر گیارہویں شریف کا ختم دلایا جا رہا ہوتا ہے۔ میں یوکے میں شادی کی تقریب میں شریک ہوا جس کے دعوت نامے پر انہوں نے نکاح کا دن اور وقت یہ درج کیا تھا۔11:11:11 11.11.11۔یعنی وہ نکاح موجودہ صدی کے 11 ویں سال کے 11 ویں مہینے کے 11 ویں دن، صبح 11 بج کر 11 منٹ اور 11 سیکنڈ پرکیا گیا تھا۔ چین میں بھی اس تاریخ کو مبارک قرار دیا گیا اور ہزاروں نےاسی تاریخ کو شادی کی۔علم اعداد میں 11 کو طاقت کا عدد سمجھا جاتا ہے۔ انگریزعلمِ اعداد کے ماہرین کے نزدیک 11 کا عددروحانیت کا عددہے۔ یہی عدد دنیا میں الوہیت کو فروغ دیتا ہے۔سورج کا سائیکل بھی گیارہ سال پر محیط ہوتا ہے۔ سب سے گہرے سمندر کی گہرائی 11کلو میٹر ہے۔

فٹ بال، کرکٹ اور ہاکی وغیرہ میں گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ دنیا کی قدیم زبانوں میں گیارہ کا مطلب ’’بے انتہا ‘‘اور’’ لا محدود ‘‘ہیں، اسپین میں بولی جانے والی زبان Basque میں آج بھی گیارہ کا یہی مفہوم ہے۔ سائنس بھی گیارہ سمتوں پر یقین رکھتی ہے۔ قمری اور شمسی سال میں گیارہ دن کا فرق ہے۔امریکہ نے چاند پر جو پہلا راکٹ بھیجا تھا اس کا نام بھی اپالو11 رکھا تھا۔پہلی ورلڈ وار جب ختم ہوئی تو تاریخ گیارہ نو مبر اورگیارہ بجے طے کیا گیا۔قائداعظم کی تاریخ وفات میں 9/11 ہے۔ علامہ اقبال کی تاریخ پیدائش 11/9ہے۔ یعنی پاکستان سے بھی گیارہ کا ہندسہ جڑا ہوا ہے۔ پاکستان 47 میں وجود میں آیا وہاں بھی وہی گیارہ چمک رہا ہے۔پاکستان کا دنیا کےلیے فون کوڈ بھی 92 یعنی 11 ہے۔نیویارک میں 9/11کے واقعہ سے بھی گیارہ کا بہت گہراتعلق رہا ہے۔نیویارک امریکہ کی گیارہویں ریاست ہے۔ نیویارک کے عدد بھی 11 بنتے ہیں۔ ٹوئن ٹاور سےدو فلائٹس ٹکرائی تھیں ایک کانمبر 65 یعنی 11 تھا اور اس میں سوار مسافروں کی تعداد بھی 65 ہی تھی۔ دوسری فلائٹ کا نمبر بھی گیارہ تھا۔اس میں 92 مسافر سوارتھے۔ پھر وہی گیارہ۔ 11 کے عدد کو اگر پاکستان کی سیاست میں دیکھا جائے تو عمران خان، آصف علی زرداری، نواز شریف یا شہباز شریف کا گیارہ سے بظاہر کوئی خاص تعلق دکھائی نہیں دیتا لیکن ان سے آگے معاملات گیارہ کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ مریم کے عدد بھی گیارہ ہیں۔ حسین کے عدد بھی گیارہ ہیں۔ حسن نواز کے اعداد بھی گیارہ ہیں۔حمزہ شریف کے عدد بھی گیارہ ہیں۔