Categories
آرٹیکلز

منحرف اراکین کا معاملہ : پی ٹی آئی کا کیس سیاسی طور پر مضبوط لیکن قانونی طور پر کمزور ہے۔۔۔۔۔۔ عمر چیمہ نے اہم حقائق سامنے رکھ دیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی عمر چیمہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔منحرف ایم پی ایز کے حوالے سے پی ٹی آئی کا سیاسی طور پر مضبوط لیکن قانونی طور پر کمزور کیس ہے۔ بانی پلڈاٹ کا کہنا ہے کہ وکیل کے دلائل سن کر اپنی رائے پر نظرثانی کی اور میں اسے غیر پیچیدہ کیس نہیں سمجھتا۔

تفصیلات کے مطابق، احمد بلال محبوب کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے منحرف ایم پی ایز کا کیس واضح ہے۔ تاہم، پلڈاٹ کے بانی نے اپنے ٹوئٹ میں مزید وضاحت کی ہے کہ انہیں جہانگیر ترین کے حامی ایم پی ایز کی نمائندگی کرنے والے وکیل کے دلائل سننے کے بعد اپنے رائے پر نظرثانی کرنی پڑی ہے۔وکیل کی جانب سے اٹھایا گیا یہ نکتہ کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر نے کبھی یہ باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی کہ ووٹ کسے دینا ہے۔ لہٰذا، میں اسے غیرپیچیدہ کیس نہیں سمجھتا۔ منحرف ایم پی ایز کے خلاف ریفرنس اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بھیجا تھا اور اس کی سماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہوئی۔پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ کیس کا فیصلہ فوری طور پر ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مذکورہ ایم پی ایز کو معطل کیا جائے تاکہ وہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ووٹ نہ دے سکیں۔ تاہم، کیس کی کارروائی 13 مئی تک ملتوی کردی گئی۔منحرف ایم پی ایز کے دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ احمد بلال محبوب جیسا شخص بھی اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ تاہم، منحرف ایم پی ایز کے موقف پر بحث سے قبل ان اہم باتوں پر بھی روشنی ڈالنا ضروری ہے جو عوام کے علم میں نہیں۔ یہ اس حقیقت سے متعلق ہے کہ مذکورہ منحرف ایم پی ایز نے پارٹی لائن کی خلاف ورزی اس لیے نہیں کی کیوں کہ

پارٹی کا کوئی امیدوار ووٹ کے لیے موجود ہی نہیں تھا، چوہدری پرویز الہیٰ جنہیں نامزد کیا گیا تھا انہوں نے الیکشن کا ہی بائیکاٹ کردیا تھا۔ اسی طرح کی نوعیت کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ایسی صورت حال میں مخالف امیدوار کو ووٹ دینے سے رکن منحرف نہیں ہوجاتا۔ کیس کا فیصلہ 2018 میں سنایا گیا تھا جس کی سماعت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور موجودہ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کی تھی۔یہ کیس لکی مروت (خیبر پختون خوا) میں 2015 کے دوران ضلعی ناظم اور نائب ناظم کے الیکشن سے متعلق تھا۔ اس وقت جے یو آئی ف نے اے این پی کے ساتھ اور پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی کے ساتھ الائنس کیا تھا اور وہ اپوزیشن میں تھے۔ جب حکومتی الائنس نے ضلعی ناظم کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو جے یو آئی ف کے پانچ ارکان نے پی ٹی آئی-پیپلزپارٹی اتحاد کو ووٹ دیا۔ جس پر منحرف ہونے کی شق کے تحت ای سی پی نے منحرف ارکان کو ڈی۔سیٹ کردیا تھا۔ تاہم، ای سی پی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ چوں کہ ان کی پارٹی نے ناظم کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا تھا لہٰذا باقی ماندہ امیدوار کے خلاف ووٹنگ جے یو آئی ف امیدوار کے خلاف ووٹنگ تصور نہیں ہوگی۔ لہٰذا اس حقیقت کے باوجود کہ پارٹی سربراہ نے کوئی خصوصی ہدایت پارٹی کے نامزد امیدوار کو ووٹ دینے سے متعلق دی ہے یا نہیں، اگر یہ ہدایت اگر دی بھی ہے تو وہ پارٹی کے نامزد امیدوار کی جانب سے الیکشن بائیکاٹ کی وجہ سے قابل عمل نہیں رہتی۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شوکاز نوٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ درخواست گزاروں نے اپنے ووٹ پارٹی امیدواروں کے خلاف دیئے لہٰذا انہوں نے انحراف کیا، جس کے جواب میں خصوصی طور پر اپیل کنندہ اول نے ذکر کیا کہ ناظم اور نائب ناظم کے الیکشن سے متعلق پارٹی پالیسی اور مستقبل کی منصوبہ بندی واضح نہیں تھی حالاں کہ اس ضمن میں متعدد اجلاس بھی ہوئے. ووٹنگ کے وقت صرف پانچ ووٹ جے یو آئی ف کے ارکان نے ڈالے، جس کے بعد وہ ایوان سے چلے گئے، اس صورت حال میں پارٹی قیادت کی ہدایت نہ ہونے کے سبب انہوں نے ووٹ پیپلز پارٹی امیدوار کو دیا تاکہ ایوان تحلیل ہونے سے بچا جاسکے۔