Categories
آرٹیکلز

عمران خان خطرناک ترین راستے پر گامزن ۔۔۔۔۔ نتیجہ کتنا خوفناک نکل سکتا ہے ؟ بڑی آگاہی دے دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار افضل ریحان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔درویش کی تمنا ہوتی ہے کہ جو لوگ حکومت سے نکالے جا چکے ہیں ان کا محاکمہ کرتے چلے جانے کی بجائے ایک پھیرا اس نئی عبوری شہباز حکومت پر بھی آئے لیکن کیا کریں، کپتان صاحب اس کا موقع ہی نہیں آنے دے رہے،

روز کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ چھوڑ دیتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی ادھر متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ مہینے بھر سے آسمان سر پر اٹھارکھا تھا کہ ’’امریکی سازش، امریکی مراسلہ‘‘، میں دنیا کا اتنا بڑا لیڈر ہوں کہ عالمی سپرپاور میرے خلاف سازشیں کر رہی ہے، اس نے نور عالم سے لے کر جہانگیر ترین، علیم خان اور راجہ ریاض تک پر ڈالروں کی بارش کر رکھی تھی، سندھ ہائوس پر برستے ہوئے ڈالروں کے یہ اولے آگے بڑھتے ہوئے براستہ کراچی کوئٹہ تک پہنچ گئے، اس لیے میرے پاکستانیو، یہ امپورٹڈ حکومت نامنظور ہے۔گھر کے ایک بھیدی نے اگرچہ بہت پہلے ہی کھلے بندوں راز فاش کر دیا تھا کہ ہماری حکومت تو طاقتوروں نے گرائی ہے اگر وہ یہ سب نہ کرتے تو ہم آج بھی اقتدار میں ہوتے۔ پوچھا گیا کہ آپ نے بگڑے ہوئے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کیوں نہ کی؟ جواب ملا کہ بہت کوشش کی، بڑا زور لگایا مگر گھائو شاید اتنا شدید تھا کہ بھرا نہ جا سکا۔میڈیا کے سامنے سازشی نظریات کے تمام تعویزوں کو بنی گالہ کے گھڑے میں ڈبوتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ تھی کہ وہ شخص جو میری حکومت کے کان اور آنکھیں تھا یعنی جس کے سہارے میری حکومت بنی تھی یا چل رہی تھی جب اسی کا تبادلہ میری مرضی کے خلاف کہیں دور کر دیا گیا، اس کے بعد تو یہی کچھ ہونا تھا، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ مجھےتو اس ساری اسکیم کا علم پچھلے سال جولائی سے تھا جب ن لیگ والے اس کی تیاریاں کر رہے تھے، اسی لیے میں چاہتا تھا کہ ان

اسکیموں کو ناکام بنانے کیلئے ’’وہ‘‘ میرے پاس رہے۔ماشاء اللہ کیا سچائی ہے، کوئی لگی لپٹی نہیں رہنے دی، درویش اِس پر کالم لکھنا چاہتا تھا کہ سازشی بلی تھیلے سے باہر آ گئی مگر نہیں، اس میں ہنوز کچھ کسر باقی تھی جو ایبٹ آباد کے عوامی جلسے میں پوری کر دی گئی۔ مہینے بھر سے میر جعفر کی جو رٹ لگا رکھی تھی اس جلسے میں اس کی پوری وضاحت و صراحت فرما دی تاکہ کوئی کسر نہ رہ جائے اور سند یہ رہے کہ بنگال کے نواب سراج الدولہ کا میر جعفر کون تھا؟ وہ تو اس کا اپنا کمانڈر انچیف یا سپہ سالار تھا جو اندر خانے اس کے دشمنوں سے ملا ہوا تھا۔ اس اشتعال انگیزی و زبان درازی پر برہم تو ہونا ہی تھا، فوری جواب آیا کہ فوج کو سب سے یہ توقع ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں گے اور ہمیں ملک کے بہترین مفاد میں سیاست کے اندر نہیں گھسیٹیں گے۔اس اشتعال انگیزی کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار دادِ مذمت منظور کی گئی اور وزیراعظم شہباز شریف نے کھل کر کہا کہ سراج الدولہ اور میر جعفر کا نام لیکر جو مثال دی گئی ہے، اس سے بری حرکت کوئی نہیں ہو سکتی۔ قوم تقسیم در تقسیم ہو چکی ہے، یہ نہ روکا گیا تو ملک مزید تقسیم ہو جائے گا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ شخص جس نہج پر جا رہا ہے اس سے ملک توڑنے کی بو آ رہی ہے۔ اس ہرزہ سرائی کے پیچھے مبینہ بدعنوانی کیسز اور فارن فنڈنگ کیس کا خوف ہے۔اپنے

پریشر گروپ کو بکھرنے سے بچانے کیلئے ہر روز جھوٹ پر مبنی نت نئی امیدیں دلائی جاتی ہیں، یہ حکومت تو بس چند ہفتوں کی مار ہے، ہم نے نومبر سے پہلے پہلے بہرصورت اقتدار میں واپس آنا ہے، کوئی بھلا مانس پوچھے کہ حضور کیسے واپس آنا ہے؟ الیکشن کے ذریعے؟ کیا گارنٹی ہے کہ الیکشن میں آپ لوگ ہی جیتیں گے؟ نہیں نہیں اس مرتبہ ہم ٹو تھرڈ میجارٹی سے آئیں گے! وہ کیسے؟ جب اتنی ماورائی طاقتوں کی بھاری سپورٹ حاصل تھی تب پوری زور آزمائی کے باوجود سادہ اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہ گئے، اب یہ بڑھکیں کیسی؟ فرض کیا اگر آپ الیکشن ہار گئے تو پھر کیا کریں گے؟ پھر ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے، احتجاجی دھرنوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیں گے، ماشاء اللہ یہ ہیں عزائم۔پورا میڈیا اور قوم کے سنجیدہ طبقات حیران و پریشان ہیں کہ ایسی اشتعال انگیزی و الزام تراشی تو کبھی ان لوگوں نے بھی نہیں کی جنہیں صریحاً آئین شکنی کرتے ہوئے ایوان اقتدار سے نکالا جاتا رہا، آپ لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ کیسے آئین کے مطابق نہیں ہے؟ آئین و جمہوریت کی رو سے تحریک عدم اعتماد کیا اپوزیشن کا حق نہیں ہے؟ اگر آپ کی اپنی پارٹی کے باضمیر لوگ آپ کی حرکات سے متنفر ہو کر الگ کھڑے ہوئے ہیں تو شاید اس میں کسی دوسرے کا کیا قصور ہے اور پھر جن 174 اراکین اسمبلی نے اپنے ووٹ کی طاقت سے آپ کو آئوٹ کیا ہے، کم از کم ان میں تو آپ کی پارٹی کا کوئی ایک ممبر بھی نہیں تھا، ان حالات میں آئینی و جمہوری طور پر برسراقتدار آنے والی حکومت اور تمام اداروں کا فرض بنتا ہے کہ جن لوگوں نے آئین شکنیاں کی ہیں انہیں کٹہرے میں لانے کا اہتمام کریں۔