Categories
آرٹیکلز

میر جعفر میر صادق اور سراج الدولہ میں سے ہیرو کون تھا اور غدار کون تھا ؟ تحریک انصاف کے ناراض رکن اسمبلی رمیش کمار وانکوانی کی معلوماتی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آجکل ہماری ملکی سیاست میں برصغیر کے دو صدیوں قبل کے ان دو کرداروں کا بہت چرچا ہے جنکی غداری کو برصغیر میں برطانوی سامراج کی فتح کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے، پارلیمان کے ایک آئینی عمل

کے نتیجے میں سبکدوش ہونے والے سابق وزیراعظم عمران خان اپنے عوامی جلسوں میں تواتر سے میر جعفر اور میر صادق کا تذکرہ کررہے ہیں، حالیہ ایبٹ آباد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تمام حدیں پار کردیں، سیاسی تجزیہ نگاروں نے خان صاحب کی مذکورہ تقریر کو براہ راست اعلیٰ عسکری قیادت پر اٹیک قراردیا جبکہ خود پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو دفاع کرنا مشکل ہو گیا، اس حوالے سے آئی ایس پی آر کی جانب سے ایک اہم بیان سامنے ٓیاکہ فوج کو سیاست میں ملوث نہ کیا جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا، پی ڈی ایم اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ردعمل میں عمرا ن خان کو ہی اصل میر جعفر میر صادق قراردیا، تاہم اب سابق وزیراعظم نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے اپنی تقاریر میں میر جعفر اور میر صادق کا استعارہ شریف برادران کیلئے استعمال کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خان صاحب کو برصغیر کی تاریخ کے د و کرداروں کے نام استعمال کرنے سے قبل تاریخ کابغورمطالعہ کرنا چاہئے ۔ آج سے ڈھائی سو سال قبل سراج الدولہ بنگال کا خودمختار حکمراں تھا جسے انگریزوں کے دھاوؤں کا سامنا تھا، ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کی آڑ میں پورے ہندوستان میںاپنا غاصبانہ قبضہ جمانا چاہتی تھی، کہا جاتا ہے کہ پلاسی کی لڑائی 1757کے موقع پر انگریزوں کی فوج تین ہزار پر مشتمل تھی جبکہ سراج الدولہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج تھی، تاہم سراج الدولہ کے قابل اعتماد ساتھی میر جعفرنے

عین موقع پراپنے حلف سے انحراف کرتے ہوئے انگریزوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اس دغابازی کے نتیجے میں سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ، انگریزوں نے میر جعفر کو بنگال کا حکمراں تسلیم کرلیا جبکہ عملی طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا راج قائم ہوگیا۔اسی طرح میسور کا حکمراں ٹیپو سلطان انگریز کے توسیع پسندانہ عزائم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا، بہادر سلطان مختلف محاذ پر ایسٹ انڈیا کمپنی کوشکست سے دوچار کرچکا تھا،تاہم انگریزوں نے میر صادق کو اپنا ہمنوا بنا لیا اور مئی 1799میں سرنگاپٹم کے محاذ میں میر صادق کی حمایت سے انگریز فوج قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی، ٹیپو سلطان انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے ش ہ ی د ہوگئے جبکہ میر صادق کو زندگی سے محروم کردیا گیا، ٹیپو سلطان کا ش ہ ادت سے قبل ادا کیا جانے والا فقرہ ’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘آج بھی زبانِ زدعام ہے۔ اگر دو صدیوں قبل کی صورتحال کا آج کے پاکستان کے حالات سےموازنہ کیا جائے تو نہ یہاں بادشاہت ہے اور نہ ہی ہمیں کسی غیرملکی سامراجی طاقت کے دھاوے کا خطرہ ہے۔ اٹھارویں صدی میں انگریز کم و بیش آدھی دنیا کو اپنی کالونی بنا چکے تھے، بنگال اور میسور کی ریاستیں اگر غداروں کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوئیں تو باقی ہندوستان اور دیگر محاذوں پر انگریز کو کیسے فتح حاصل ہوئی ؟ درحقیقت ہمارا قومی المیہ یہی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس بیانیہ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کہ ہم تو بہت اچھے ہیں لیکن ہمارے اپنے ہمارے خلاف سازشیں کرتے ہیں، حیرت ہےکہ ہمارے حکمراں اپنے دورِ حکومت میں ہرمیدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہوتے ہیں توآخر سازشوں کا مقابلہ کرنے سے کیوں قاصر رہتے ہیں؟ میر جعفر اور میر صادق کے زمانے میں شخصی حکمرانی تھی لیکن پاکستان دورِ جدید کا ایک جمہوری ملک ہے جس کے 1973کے متفقہ آئین سے وفاداری ہر شہری پر لازم ہے،اکیسویں صدی میں آئین سے انحراف کرنا ہی اصل غداری ہے۔آج ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں تو اس کی بڑی وجہ ہماری بہادر افواج کی بے مثال قربانیاں ہیں، اعلیٰ عدلیہ نے آئین کی تشریح کرتے ہوئے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کردیا ہے، الیکشن کمیشن سمیت ریاست پاکستان کے دیگر قومی ادارے آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،ایسے حالات میں قومی اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنانا ریاست سے غداری کے مترادف ہے۔ سیاسی حالات میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ میر جعفر اور میر صادق کے ملامتی کردارکون ادا کررہا ہے ، تاہم پھر بھی اگر کسی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے تو اسے تاریخ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے کیونکہ تاریخ کبھی غداروں کو معاف نہیں کرتی۔