Categories
آرٹیکلز

موجودہ حکومت سے زیادہ ہمت والا تو وہ نکلا جس نے چار ماہ میں تیسری شادی کو عدالت میں پہنچا دیا ۔۔۔۔۔ شہباز اینڈ کمپنی کی کارکردگی پر ایک خاتون صحافی کی انوکھی تنقید

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار کشور ناہید اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیں تو موجودہ حکومت نے اس ایک ماہ میں کیا نکالا! ایک عورت کا قصہ! ان سے تو زیادہ ہمت والا وہ نابکار نکلا کہ جس نے تیسری شادی کو چار ماہ میں عدالت تک پہنچا دیا۔

نئی بات جو موجودہ حکومت کررہی ہے۔ وہ آٹے کی قیمت کے حوالے سے، جو کہنے میں دو روپے کی روٹی والا فکاہیہ ہی معلوم ہوتی ہے۔ اب تک احکامات دینے والی قوتوں کے ساتھ ایسی مفاہمت اور انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہوئی جو عوام میں مقبولیت حاصل کرتی۔ عام آدمی کی اس ملک میں اتنی تھوڑی ضروریات ہیں کہ دو وقت کی روٹی، پانی اور بجلی میسر ہوتو سرکار کو دعائیں دے۔ آج کل کے وزیر اعظم، نہ پہلے والے نہ اب والے، اپنی اہلیہ کو ہی کام پہ لگا دیتے کہ کم از کم خواتین کی بھلائی کے منصوبے بناتیں۔ بیگم بھٹو اور بیگم لیاقت علی خان کی مثال سامنے ہے۔ کلثوم بی بی نے بھی جب ان کے شوہر پہ وقت پڑا تو کیسی استقامت دکھائی تھی۔ جبکہ اباجی نے بہت پاپندیاں لگائی تھیں۔ اس نے پابندیاں بھی خوش اسلوبی سے نبھائیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے حکومت غائب میڈیا اور اس کے اداروں کے ساتھ کیا کرتی رہی اور اب حکومت موجود کس رنگ میں ہے۔ گزشتہ پونے چار سال شہزاد اکبر کی ہر روز پریس کانفرنسیں اور پھر فواد چوہدری کا ہر روز ایک نئے ساتھی کے ساتھ وہ گفتگو جسے آپ اظہارِ رائے یا غلط بیانی کچھ بھی سمجھیں، پھر سارے میڈیا پر ہونق بنے اینکر جب کبھی اعتراض یا مخالفت کرتے، پھر صلاح کار، ان کی ٹیلیفون اور تحریر میں کھنچائی کرتے ۔ ریڈیو پاکستان کو تو اپنی ستر سالہ سنہری تاریخ کے ساتھ دفن کردیا گیا تھا۔ پھر ایک مطبوعات کا ادارہ تھا، جس میں اردو اور انگریزی کے جریدے شائع ہوتے تھے۔

اس میں ماہ نو اور پاکستان پکٹوریل بھی انگریزی میں شائع ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں فلم کا پورا سیکشن تھا، جس میں دستاویزی اور سنجیدہ فلمیں جیسے غالب اور علامہ اقبال کے بارے میں، بہت اچھی فلمیں بنی تھیں۔ یہ سب یاد کرنے کے بعد، واپس آج کے حالات پر آجائیں۔ اب صرف ٹی وی ہی نظر آتا تھا اور اس میں اپنی پسند کی شخصیات اینکر سے لے کر تبصرہ کرنے والے۔ بیشتر ریٹائرڈ افسران ہوتے یا پھر وزارت خارجہ کے بڈھے افسران، کسی کو کبھی اختلاف کرنے کی جرات نہیں تھی۔ اب کچھ چہرے بدلے ہیں۔ مگر وہی زندہ باد، مردہ باد صدائوں کے ہیروز بدل گئے ہیں۔ پی ٹی آئی میں بڑی دبنگ خواتین ہیں۔ اینکر بے چارہ سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ یہ بریک لگائیں تو بات کو آگے بڑھائوں۔ ویسے مشرف اور عاصم باجوہ کے زمانے سے ہی ISPRنے بہت اہمیت اختیار کرلی تھی۔ فلمیں، نغمے، قومی دنوں کے پروگرام سب ان کی پروڈکشن تھے۔اب ذرا معاشی صورتِ حال کا جائزہ لیں۔ کوئی بھی ادارہ، ملک یا بزنس مین، ملک میں بحرانی کیفیت ہوتو، آگے بڑھ کر سرمایہ لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس لیے سعودیہ اور ابوظہبی نے ملاقات بھی کی اور وعدے بھی کئے مگر ابھی وعدوں پر جینے کی فضا ہے۔ وہ بھی روز لفظ سازش سن کر، تیل اور تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ البتہ آئی ایم ایف کے وفد کا بے چینی سے انتظار ہورہا ہے۔کرنا کیا ہے:’’امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے‘‘۔ ہم جو گزشتہ برس تک روس کا نام سننے کے سرکاری طور پر روادار نہیں تھے روس کی فیاضی کے گن گا رہے ہیں۔ حکومت موجود، ابھی تک وزارتوں کی چھان پھٹک میں مصروف ہے۔ سی پیک کو یاد کررہی ہے کہ چار سال کے شکوک کیسے دور کریں۔ انڈیا جس طرح کشمیر میں بندر بانٹ کر رہا ہے ا سکی جانب، دنیا کی توجہ مبذول کریں۔ صرف دفتروں کی ٹائمنگ بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ تربیلہ ڈیم اور پانی کے ذخائر کو سنبھالنا ہوگا۔ یہ سب باتیں ریفارمز کے زمرے میں آتی ہیں۔ سارے ملک میں نفرتوں کو ختم کرنے کی نفسیاتی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔