Categories
اسپیشل سٹوریز

شہباز شریف وزیراعظم بننے کے بعد کیوں زیادہ خوش نظر نہیں آرہے ؟؟؟ اصل اختیارات کس کے پاس ہیں؟؟؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

لاہور: (ویب ڈیسک) ترہب اصغر لکھتے ہیں کہ” کیا میاں صاحب سب سے ہاتھ ملا کر ملیں گے یا پھر ویسے ہی کھڑے کھڑے سب صحافیوں کو اجتماعی سلام کریں گے؟ چند صحافی آپس میں بیٹھے یہ سوال کرکے ایک دوسرے سے تبصرہ کر رہے تھے۔ کسی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ سب سے آکر الگ الگ ملیں گے تو کسی نے ان کے پرانے رویے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہوگا۔

ایک صحافی بولے کہ ’مجھے یاد ہے کہ جب ان کے بھائی عباس شریف کی وفات ہوئی تو تعزیت کے لیے جاتی امراء میں لوگوں جمع تھے۔ میاں محمد نواز شریف وہاں آئے اور فرداً فرداً سب سے ہاتھ ملایا اور تعزیت وصول کی۔ میں آخری قطار میں بیٹھا تھا اور وہاں تقریبا چار پانچ سو بندہ تھا۔ جب میاں محمد نواز شریف مجھ تک پہنچے تو اسی وقت شہباز شریف صاحب پنڈال میں آئے اور سامنے کرسی لگوا کر لائین بنوا لی تاکہ وہاں ہی لوگ آئیں اور ان سے آکر تعزیت کر لیں۔ جیسے سے میاں محمد نواز شریف نے یہ منظر دیکھا تو اپنے ساتھ کھڑے چند مسلم لیگ کے ساتھیوں کو کہنے لگے کہ اسے کوئی سمجھائے یہ مناسب طریقہ نہیں ملنے کا۔۔۔‘ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی اور انتظامی امور پر میٹنگز کے علاوہ میڈیا کے نمائندگان سے بھی ملاقات کرنا شروع کر دی ہیں۔ گذشتہ روز لاہور میں ان کی جانب سے میڈیا نمائندگان کے چار الگ گروہوں سے باری باری ملاقات کی گئی۔ ان ملاقاتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں تو یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایک دن میں کسی وزیر اعظم نے ایک دن میں چار میٹنگز کی ہوں میڈیا والوں سے۔ ‘ انہی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جیسے ہی وزیر اعظم شہباز شریف ہال میں داخل ہوئے تو انھوں نے باری باری سب صحافیوں سے خود جا کر ہاتھ ملایا۔ جس کے بعد وہ اپنی نشست پر جا کر بیٹھے اور پھر گفتگو کا آغازانھوں نے شکریہ سے شروع کیا اور کہنے لگے کہ ’آپ سب لوگ میرے مشکل وقت کے ساتھی ہیں۔ اور یہ وہ تمام چہرے ہیں جو عدالت میں روزانہ میرے کیسز کو کوور کرنے کے لیے آتے تھے۔‘

ان کے ہمراہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، عطاء اللہ تارڑ اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔ اس کے بعد انھوں نے سوالات لینے کا سلسلہ شروع کیا۔ جس میں انھوں نے ہر قسم کے سوالات کے جواب دیے۔ لیکن جن سوالات کےجواب وہ نہیں دینا چاہتے تھے اس کے جواب میں وہ کہتے تھے کہ اس پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ جیسا کہ ان سے پوچھا گیا کیا آپ آرمی چیف کو ایکسٹنشن دیں گے؟ یا پھر کیا الیکشن جلدی ہوں گے؟ ویسے اس سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں 2023 تک تو آئینی مدعت پوری کروں گا۔‘ معیثت کے بارے میں تو انھوں نے اپنے سیاسی حریف عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’جو کچھ وہ کر کے گئے ہیں اس کی وجہ سے ہمارے دوست ممالک سخت ناراض ہیں۔ چین سے ہمارے دوستی ہے لیکن اس وقت وہ بھی سخت ناراض ہے کیونکہ جو منصوبے انھوں نے ہمیں پلیٹ میں رکھ کر دیے تھے گزشتہ حکومت نے ان کو تباہ کر دیا ہے۔‘ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ آنے والے دنوں میں چین کا دورہ کریں گے؟ تو اس پر انھوں نے جواب تو دے دیا لیکن ان کے جواب میں مایوسی تھی۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے پر آپ کیا کہیں گے اور کیا آپ اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف انتقامی کاروائیاں کریں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا ’امریکہ سپر پاور ہے اور میں امریکہ مخالف بیانیے کے بالکل حق میں نہیں ہوں۔ ‘جبکہ سیاسی طور پرانتقامی کارروائی پر ان کا کا کہنا تھا کہ ’میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔‘عمران خان کے دھرنے کی کال پر انھوں نے مائیک رانا ثناء اللہ کے حوالے کر دیا۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ’اگر عمران خان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے تو انھیں روکا نہیں جائے گا لیکن اگر وہ کوئی ایسی بات کریں کے جو قانون کے خلاف ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ‘ ان میٹنگز کے بعد ہی وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف اداروں کے خلاف بات کرنے پر کارروائی کا اعلان کیا گیا۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے جو اس میٹنگ میں موجود تھے کہا کہ جب ’شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ مریم نواز بھی تو فوج کے افسر کے خلاف بات کررہی ہیں تو انھوں نے کہا کہ ایسی باتیں جذبات میں ہو جاتی ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسی باتیں ہونی نہیں چاہئیں۔‘ تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم شہباز شریف ان میٹنگز میں پر اعتماد بھی نظر آئے جبکہ ایسا بھی لگ رہا تھا کہ وہ کسی دباؤ کا شکار ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کی باتوں سے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے پاس مکمل طور پر پاور نہیں ہے۔ اور ان کی عادت ہے کہ وہ وہ سیاسی طور پر بھی اور اداروں کے ساتھ بھی الجھتے نہیں ہیں اس لیے وہ کوشش یہ کررہے ہیں کہ اپنی پرفارمنس کے ذریعے معاملات کو بہتر کریں۔‘ دوسری جانب تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے تو اب کے وزیر اعظم اور پہلے کے وزیر اعلیٰ میں کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آیا ہے۔ باقی یہ ہے فرق ضرور نظر آیا ہے کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے سے زیادہ خوش نظر آرہے ہیں اور پہلے سے زیادہ خوش دلی سے سب سے ملے بھی۔‘