عبدالعلیم خان اور حمزہ شہباز میں قربتیں بڑھنے لگیں،حمزہ شہباز نے علیم خان کو بڑا ٹاسک سونپ دیا

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے جیلوں کےنظام میں بہتری کے لئےکمیٹی تشکیل دیدی،ایم پی اے عبدالعلیم خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی قیدیوں کو بہتر سہولیات دینے کیلئے تجاویز بھی دیگی، وزیراعلیٰ کو 16مئی کورپورٹ پیش کرےگی۔ تفصیلات کےمطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے جیلوں کے نظام میں بہتری کے حوالے سے عبدالعلیم خان کی سربراہی میں کمیٹی

Almarah Advertisement

تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کی پہلی میٹنگ دس مئی کو ہوگی۔خصوصی کمیٹی میں رکن پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق،عائشہ نواز،عنیزہ فاطمہ،سید علی رضا شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،آئی جی جیل خانہ جات،ڈائریکٹر جنرل پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس،سابق آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر،اسامہ خاور گھمن،احد خان چیمہ،فاطمہ بخاری،مدیحہ طلعت،میری جیمز کل، سپریٹنڈکوٹ لکھت جیل اورہیومن رائٹس کمیشن کا نمائندہ شامل ہوگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبازشریف کی ہدایت پر قائم خصوصی کمیٹی صوبہ بھر میں جیلوں کی صورتحال کا جائزہ لیکر فوری طورپر بہتری لانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی۔کمیٹی قیدیوں کی فلاح وبہبود اورجیل مینجمنٹ میں بہتری کیلئے تجاویز بھی پیش کرے گی۔کمیٹی متعلقہ سٹیک ہولڈر سے عملی مشاورت کر کے جیل کے بوسیدہ سسٹم میں اصلاحات مرتب کرے گی۔کمیٹی جیل قوانین اورانتظامی امور کے درمیان تفاوت کو دور کرنے پر کام کرے گی۔دوسری خبر کے مطابقحمزہ شہباز کی حلف برداری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان لارجر بینچ کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں ۔چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نےحمزہ شہباز کی حلف برداری کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر پانچ رکنی لارجربنچ تشکیل دیا ، بینچ میں جسٹس شاہدجمیل،جسٹس شہرام سرور، جسٹس ساجدمحمودسیٹھی اورجسٹس طارق سلیم شامل ہیں ۔ خیال رہے کہ جسٹس ساجدمحمودنےلارجربنچ تشکیل دینےکی سفارش کی تھی۔ادھر اکستان تحریک انصاف کے حکومت مخالف لانگ مارچ کیلئے کپتان کا پلان فائنل ہو گیا، ملک بھر سے لاکھوں مظاہرین کو اسلام آباد بلانے اور بڑے شہروں کو جام کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی۔ حکومتی ہتھکنڈوں سے نمٹنے سمیت گرفتاریوں سے بچنے کی منصوبہ بندی بھی مکمل کر لی گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے پارٹی رہنماوں کو اہم ہدایت جاری کر دی ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا سے 5 لاکھ، پنجاب اور سندھ سے 6 لاکھ مظاہرین مارچ میں شریک ہوں گے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان سے ایک لاکھ مظاہرین اسلام آباد کی جانب رخ کریں گے