Categories
عید اسپیشل

حیران کن اور سبق آموز واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک شخص گھر آیا تو اس کی بے حد حسین بیوی نے شکوہ کیا۔۔ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔

وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔وقت گزرتا رہا۔۔ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہی تھی۔۔ اسے بہت دْکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے عمائدین میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا۔۔یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کْچلے جائیں۔۔ وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا۔۔ جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔۔جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرْوقہ اْسی شیخ سے برآمد ہوا۔ کوتوال نے حیرانی سے کہا،ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟اس نے کہا۔میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی۔۔جو لوگ ضرورت سے زیادہ نیک نظرآنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔