Categories
پاکستان

گوگی کا خان ! 100 بار اعوذ باللہ پڑھیں

مان لیا عمران خان بہت ہینڈسم ہیں، مان لیا وہ دنیا کے عظیم لیڈر ہیں۔ تسلیم کر لیا وہ بہت اچھے مقرر بھی ہیں مگر کم از کم وہ صادق و امین نہیں۔ یہ لقب صرف میرے نبی اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیلئے مخصوص ہے اور عمران خان جیسے شخص کیلئے ایسے الفاظ کا استعمال بھی گستاخی اور توہین ہے۔ توشہ خانہ کے تحفوں سے

جس طرح خان صاحب نے قومی دولت لوٹی اور جس طرح انہوں نے اس دولت کو چھپایا کیا اس کے بعد بھی انہیں صادق و امین کہلاتے ہوئے اور ان کے چاہنے والوں کو صادق و امین کہتے ہوئے تھوڑی سی بھی شرم نہیں آئے گی۔میں اس شخص کو کیسے ایماندار مان لوں جو چودہ کروڑ کی گھڑی دو کروڑ میں خریدے اور پھر اسے اٹھارہ کروڑ میں بیچ ڈالے۔ میں اس شخص کو کیسے صادق اور امین تسلیم کروں جو اپوزیشن میں ہو تو سائیکل پر وزیراعظم ہاؤس جانے کی مثالیں دیتے نہ تھکے مگر جب یہی شخص اقتدار میں آ جائے تو وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالہ کا صرف بیس کلومیٹر کا سفر بھی ہیلی کاپٹر کے بغیر نہ کرے اور پونے چار سال میں اس شاہی سواری پر غریب قوم کے اٹھانوے کروڑ روپے پھونک دئیے جائیں۔ میں اس عمران خان کو کیسے دیانت دار سمجھ لوں جو فلاحی ریاست کے نام پر سادہ دل عوام سے ووٹ بٹورے اور پھر جب اقتدار میں آئے تو سب سے پہلے تجاوزات کے نام پر غریبوں کی جھونپڑیوں کو زمین بوس کر دے مگر اپنا تین سو کنال کا غیر قانونی گھر صرف بارہ لاکھ روپے میں لیگل لائز کروا لے۔ میں اس شخص کو کیسے صادق کہوں جو شوکت خانم کے نام پر اربوں روپے کے خیرات و صدقات اور عطیات وصول کرے، بیرون ملک سے ڈالروں کی صورت یہ خیرات وصول کرے، ٹیکس سے بچنے کیلئے خیراتی ادارہ کو ڈھال بنائے اور ان رقوم سے سیاسی پارٹی بھی چلائے اور اپنی عیاشیوں پر بھی خرچ کرے۔ میں اس شخص کو کیسے امین کہوں جو کرپشن کے خاتمے، لوٹی دولت کی واپسی کا نعرہ لگائے، لوگوں کو تبدیلی کے خواب دکھائے اور مخملی ایوانوں میں داخل ہو کر گندم کے نام پر، چینی کے نام پر، آٹے کے نام پر اور ادویات کے نام پر اربوں ڈکار جائے، جو بی آر ٹی کے نام پر، مالم جبہ اراضی کے نام پر اور ہیلی کاپٹر کے استعمال پر قوم کو اربوں کا چونا لگا جائے۔ میں اس عمران خان کو کیسے سچا مان لوں جو اپوزیشن میں ڈاکو، قاتل اور چپڑاسیوں کو پارٹی میں نہیں لینا چاہتا تھا مگر حکومت میں آتے ہی ان سب سے اتحاد کر لیا، قاتل اور ڈاکو نہ صرف اتحادی ہو گئے بلکہ کابینہ میں بیٹھ گئے، چپڑاسی کو تو وزیرداخلہ کا منصب عطا کر دیا۔ میں اس عمران خان کو کیسے امت مسلمہ کا لیڈر مان لوں جسے پہلا کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا اور جس کی خاتم النبین کے لفظ پر زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ میں اس عمران خان کو کیسے امت کا رہبر مان لوں جو اپنے دور میں غیر ملکی سکھوں پر گوردوارے کے دروازے فی سبیل اللہ کھول دے مگر اس کے دور میں پاکستانی عوام کیلئے حج اور عمرہ کرنا ناممکن ہو جائے، حج کے ریٹ چار لاکھ سے بڑھ کر دس لاکھ اور عمرہ کے ریٹ ایک ڈیڑھ لاکھ سے چار پانچ لاکھ تک چلے جائیں۔

میں اس شخص کو کیسے عظیم لیڈر تصور کر لوں کہ جس ازلی دشمن سے ہماری ازلوں سے لڑائی کشمیر پر ہے یہ عمران خان وہ کشمیر تھالی میں رکھ کر ہندوستان کو پیش کر دے اور تین منٹ کے خاموش احتجاج میں نہتے کشمیریوں کے خون کا سودا کر لیا جائے۔ دوسروں کو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والا خود بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن کمپین چلائے، خود اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دے اور قوم کو خودداری کا درس دے ۔ میں اس عمران خان کو کیسے امت کا لیڈر مان لوں جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ازلی دشمن بھارت کو ووٹ ڈال دے اور پھر ملک میں سب سے بڑا محب وطن بنتا پھرے۔ میں اس عمران خان کو کیسے حقیقی سیاستدان مان لوں، کیسے جمہوریت پسند تسلیم کر لوں جو اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے آئین کو پامال کر دے، اسپیکر اور صدر کو غیر آئینی اقدام پر مجبور کرے۔ سب سے بڑے صوبے کو آئینی بحران میں دھکیل دے۔ میں اس عمران خان کو کیسے ملک کا مسیحا جان لوں جو پونے چار سال میں ملک کو پچیس ہزار ارب سے زیادہ کے قرض تلے دبا دے، معاشی گروتھ کو پانچ اشاریہ اٹھ سے منفی پر لے جائے اور اشیائے خورونوش اور ادویات کی قیمتوں میں تین سو سے پانچ سو فیصد اضافہ کر دے۔ میں اس عمران خان کو کیسے اس ملک کا درد دل رکھنے والا سیاستدان مان لوں جو پٹرول کو ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر اور ڈالر کو ایک نوے روپے تک لے جائے، کارخانے بند ہو جائیں اور پونے چار سال میں مزید دو کروڑ لوگوں کوخط غربت سے نیچے دھکیل دے۔ میں اس عمران خان کو کیسے عظیم لیڈر مان لوں جو پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دے کر عوام کو ورغلائے اور اس کے دور میں بے روزگاری میں تاریخی اضافہ ہو جائے۔ دیانت داری کے نعرے لگائے مگر ملک کرپشن انڈیکس میں ایک سو چالیسیویں نمبر پر پہنچ جائے۔میں کیسے اس عمران خان کو صادق و امین مان لوں جسے صداقت و امانت کا سرٹیفکیٹ دینے والے پر خود ڈیم فنڈ کو خورد برد کرنے کے الزامات ہوں اور جو سرٹیفکیٹ دینے کے بعد اسی عمران خان سے اس کے گھر میں جا کر ملاقاتیں کریں۔ نہیں بھئی میں صرف ایسے عمران خان کو جانتا ہوں جو بات کرے تو جھوٹ بولے، جو قوم سے وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جس کے پاس قومی تحفے آئیں تو وہ بیچ کھائے اور ایسے شخص کو صادق و امین کہنے سے پہلے سو بار اعوذ باللہ پڑھنی چاہئے۔

نوٹ : ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں