Home منتخب کالم ڈالر کی قدر کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے مشہور...

ڈالر کی قدر کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے مشہور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستانی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کیا کر ڈالا ؟ اندر کی خبر

7
0

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اطہر قادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔میاں شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی حکومت کا ڈول ڈالا جا چکا ہے لیکن اتحادی حکومت آغاز میں ہی مسائل کا شکار نظر آرہی ہے۔کابینہ کی تشکیل کا مشکل مرحلہ تو جیسے تیسے طے کر لیا گیا ہے

، لیکن سب سے بڑا اور مشکل مرحلہ معیشت کی بحالی کا ہے جسے حل کرنے کے لیے مفتاح اسماعیل براستہ لندن واشنگٹن پہنچے۔ لندن میں انھوں نے مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملکی معیشت کے متعلق رہنمائی حاصل کی اور ان کی ہدایات کی روشنی میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے گئے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کو مزید قرض دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے لیکن پریشان کن خبریں یہ ہیں کہ پاکستانی عوام کو مزید مہنگائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے دروازے پر دستک دے رہا ہے، ان دونوں اشیاء پر سبسڈی کے خاتمے کے بعد دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا جس کا حل فی الحال اتحادی حکومت کے پاس نہیں ہے۔یہ وہی معاشی حالات ہیں جن کا الزام سابقہ حکومت پر لگایا جاتا رہا ۔ اب یہ بار میاں شہبازشریف کی حکومت اٹھانے جارہی ہے ، سوچنے والی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن یہ بوجھ لے کر عام انتخابات میں کیسے جائے گی کیونکہ اتحادی حکومت کا تما م تر بوجھ شہباز شریف اور نواز لیگ کے کندھوں پر ہے۔ شہباز شریف نے بطور حکمران ایک اعلیٰ پائے کے منتظم کے طور پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیںلیکن اس وقت وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے اور انھیں وفاقی حکومت کی بھرپور مدد حاصل تھی، اب صورتحال اس کے برعکس ہے۔میاں شہباز شریف مخلوط حکومت کے وزیر اعظم ہیں اور اس حکومت کی مدت بہت قلیل ہے، اس مختصر مدت میں نتائج دینا جاں

جوکھوں کا کام ہے۔ اس مرتبہ شہباز شریف کی انتظامی صلاحیتیوں کو کڑا امتحان درپیش ہے، اگر وہ اس امتحان میں سرخرو ہو گئے تو آیندہ انتخابات میں نواز لیگ کے لیے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی لیکن اگرصورتحال عوام کی توقع کے برعکس رہی تو اس کا خمیازہ اور نقصان نواز لیگ کو بھگتنا پڑے گا۔پیپلز پارٹی چونکہ عوام کی پارٹی ہے اور اس کے لیڈر حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ وفاق کی پارٹی ہے ۔ اس پارٹی نے اپنے قیام کے بعد سے مسلسل قیادت کا نقصان برداشت کیا ہے۔بھٹو صاحب کے بعد محترمہ بینظیر نے پارٹی کو قائم دائم اور عوام سے جوڑے رکھا ، ان کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور ایک نازک وقت میں پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو انارکی سے بچایا جس کے انعام میںوہ ملک کی حکمرانی کے حقدار ٹھہرے۔ انھوں نے اپنی حکمرانی کی مدت مکمل کرنے کے لیے ہر وہ سمجھوتہ کیا جس سے ان کی حکمرانی کا عرصہ تو دراز ہو گیا لیکن ان کی پارٹی بہت پیچھے چلی گئی۔ آج نوجوان بلاول بھٹو پارٹی کے چیئرمین ہیں اور وہ اس تگ ودو میں ہیں کہ اپنے ناناکی پارٹی کو عوام میں ایک بار پھر مقبول بنائیں ۔انھوں نے عمران خان کی حکومت کے خلاف کراچی سے اسلام آباد تک مارچ کر کے پیپلز پارٹی کے جماندروں کارکنوں کوکامیابی سے متحرک کیا ہے اور ان کا یہ بیان کہ عمران خان کے خلاف سازش امریکا نے نہیں کی بلکہ بلاول ہاؤس سے ہوئی ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ پیپلز پارٹی آیندہ انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنے کی خواہاں ہے، اس کردار کے لیے وہ سیاسی سمجھوتے بھی کر رہے ہیں اور یہ سیاسی سمجھوتے زمین اور آسمان کا فرق ہیں اور آسمان اور زمین بھلا کہاں مل سکتے ہیں ، اس پر مجھے ایک مصرع یاد آگیا ہے کہ۔۔’’زمین ضرورکہیں آسمان سے ملتی ہے‘

‘لیکن شاعروں کی باتوں کا کیاا عتبار وہ تو خیالات اور توہمات کی وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ اسی لیے میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستانی سیاست کے میدان میں پیپلز پارٹی اور نوا زلیگ دو انتہائیں ہیں جن کا ملاپ ممکن نہیں لیکن شاید شاعر سچا نکلا ہے اور زمین آسمان سے مل گئی ہے ۔بلاول بھٹو نے اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لندن میں جناب نواز شریف سے ملاقات کی ہے اور شنید یہ ہے کہ انھوں نے مستقبل کے انتخابات میں پنجاب سے پیپلز پارٹی کے لیے قومی اسمبلی کے دس حلقوں کے لیے حمایت مانگی ہے ۔ لندنی ملاقات میں مطلوبہ پیشرفت کا کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا البتہ میاں نواز شریف نے انتخابی اصلاحات پر بھر پور حمایت کا عندیہ ضروردیا ہے۔انتخابی میدان جب سجے گا تو معلوم ہو گا کہ آج کی متحدہ اپوزیشن کی شیر و شکر پارٹیاں الیکشن میں دست و گریبان ہوتی ہیں یا پھر وہ اپنے واحد سیاسی مخالف عمران خان کو ہدف بنانے کے لیے اکٹھی رہتی ہیں لیکن ہر ایک پارٹی کا اپنا الگ منشور ہے، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے سیاسی مفادات اور نظریات بھی الگ الگ ہیں، اس لیے اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کا متحدہ سیاسی پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنا ناممکنات میں سے ہے ۔نواز لیگ پنجاب پر حکمرانی کی داعی ہے تو پیپلز پارٹی سندھ کو اپنا مضبوط قلعہ سمجھتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے مضبوط سیاسی قلعوں میں عمران خان کی تحریک انصاف نے مزہ خراب کر دیا ہے اوربلاشبہ ان کی سیاسی قوت کوبھر پور انداز میں للکارا ہے اور یہ للکار ہی ہے جس کی وجہ سے دیرینہ سیاسی مخالفین کا وقتی ملاپ ممکن ہوا اورتحریک عدم اعتماد کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔اب یہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے سیاسی داؤ پیچ ہیں جن کو استعمال کر کے وہ آیندہ الیکشن میں مقبولیت کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے عمران خان کے مقابلے کے لیے کیا حکمت عملی طے کرتے ہیں ۔ملک کے نوجوانوں اور اشرافیہ میں سیاسی شعور کو جس طرح عمران خان نے بیدار کیا ہے اور قومی وقار اور خودمختاری کی جو لہر اٹھائی گئی ہے۔اس لہر کے آگے کیسے بند باندھتے جاتے ہیں، اس کا علم تو وقت آنے پر ہوگا لیکن اگر سیاستدانوں اور مقتدر حلقوں کی جانب سے دانش مندی اور سیاسی بصیرت سے فیصلے نہ کیے گئے تو نتائج کچھ بھی ہو سکتے ہیں، بعد میں الزام لگانے اور پچھتانے سے بہتر ہے کہ سیاسی قیادت شفاف اور جلد الیکشن کے لیے درست فیصلے کرلے۔