Categories
منتخب کالم

کل تک سوشل میڈیا کولگام ڈالنے کی باتیں لیکن آج عمران خان سوشل میڈیا کے اتنے دیوانے کیوں بن گئے ؟ نصرت جاوید نے راز کی بات بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا کی حرکیات کو کمال مہارت سے سمجھ کر استعمال کرتے ہوئے عمران خان صاحب بھی اپنے مداحین کے ذہنوں پر سحر طاری کئے ہوئے ہیں۔مذکورہ سحر کی بدولت ان کے مداحین بضد ہیں کہ پاکستان کی اپوزیشن

جماعتوں نے اپنے تئیں باہم مل کر عمران خان صاحب کو قومی اسمبلی میں پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے فارغ نہیں کیا۔ درحقیقت امریکہ ان کی آزاد خارجہ پالیسی سے گھبرا گیا تھا۔واشنگٹن نے بالآخر انہیں اقتدار سے فارغ کروانے کی سازش تیار کی اور پاکستان کے طاقت ور اداروں میں بیٹھے اہم افراد اس کے سہولت کار بن گئے۔امریکی سازش کا ڈھول پیٹنے کی وجہ سے ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا میں یہ بحث ہی نہیں ہورہی کہ اگست 2018ء سے اپریل 2022ء کے دوران عمران خان صاحب کا اندازِ حکومت کیسا تھا۔وہ معاشرے کو مستحکم وخوش حال بنانے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔عام آدمی کی روزمرہّ زندگی بہتر ہوئی یا نہیں۔تحریک انصاف کے سیاسی مخالف بھی مؤثر انداز میں یہ سوالات اٹھا نہیں پائے ہیں۔عمران خان صاحب کا دیا پیغام ہی ہر طرف گونج رہا ہے۔اپنے جارحانہ رویے اور میڈیا کے ماہرانہ استعمال کی بدولت عمران خان صاحب اپنے مداحین کے ذہنوں میں اب یہ بات بٹھاچکے ہیں کہ انہیں ایک ’’گلاسٹرا‘‘ نظام ورثے میں ملا۔وہ اس کی وجہ سے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو عبرت کا نشان نہیں بناپائے۔کڑے احتساب کو یقینی بنانے کے لئے لازمی تھا کہ ان کے پاس سلطانوں جیسے اختیارات ہوتے۔ایسے اختیارات میسر ہوتے تو وہ شاید شہباز شریف جیسے ’’عادی مجرموں‘‘ کو کسی کنوئیں میں پھینک کر بھول جاتے۔ ’’چور اور لٹیرے‘‘ اقتدار میں واپس نہ آتے۔ہمارے متوسط طبقے میں کئی دہائیوں سے اُبلتی ’’کڑے احتساب‘‘ کی خواہش کو اب وہ یہ تاثر پھیلانے کے لئے استعمال کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ پارلیمانی نظام پاکستان جیسے ملکوں میں فقط ’’چور اور لٹیروں‘‘

ہی کو اقتدار میں لاتا ہے۔ یہ ’’انگلوسیکسن‘‘ نظام ہے۔برطانیہ میں تو چل سکتا ہے مگر پاکستان میں نہیں جو ’’اسلامی‘‘ ہونے کی وجہ سے اپنی ترکیب میں خاص ہے۔پارلیمانی نظام کو اپنی کوتاہ پروازی کا سبب ٹھہراتے ہوئے عمران خان صاحب اور ان کے مداحین یہ حقیقت فراموش کردیتے ہیں کہ بنگلہ دیش بھی ایک اسلامی ملک ہے۔جب پاکستان کا حصہ تھا تو بہت غریب اور پسماندہ تھا۔الگ ملک بن جانے کے بعدبھی کم از کم تین دہائیوں تک ’’بھکاری کا کاسہ‘‘ نظر آتا رہا۔ اس کے بانی شیخ مجیب الرحمن نے بھی کامل اختیارات کے ساتھ وہاں کا صدر بننا چاہا تھا۔فوجی بغاوت کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوگیا۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کو کئی برسوں تک مارشل لاء کے ذریعے چلانے کی کوشش ہوئی۔ہر طرح کے تجربے سے گزرنے کے بعد بالآخر پارلیمانی نظام ہی پر اکتفا کرنا پڑا اور ان دنوں بنگلہ دیش کی شرح نمو جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے۔آبادی کے اعتبار سے اس خطے کا سب سے بڑا ملک بھارت بھی اس ضمن میں مقابلہ نہیں کرپارہا۔ترکی کے اردوان نے بھی پارلیمانی جمہوریت کی حدود وقیود میں رہتے ہوئے ہی اپنے ملک میں خوش حالی کی رونق لگائی تھی۔یہ رونق لگادینے کے بعد وہ صدارتی نظام کی جانب مائل ہوا۔آئینی تبدیلیوں کے بعد ترکی کا صدر بنتے ہی ’’سلطان‘‘ ہوگیا۔ اس کی ’’سلطانی‘‘ مگر اب ترکی کو معاشی ابتری اور بدحالی کی جانب دھکیلنا شروع ہوگئی ہے۔عمران خان صاحب کے مداحین مگر مذکورہ بالا حقائق پر توجہ ہی نہیں دیں گے۔انہیں گماں ہے کہ ’’امریکی سازش‘‘ کے ذریعے اقتدار سے ہٹانے جانے کے بعد ان کے دیومالائی ہیرو کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔فوری انتخاب کروادئے جائیں تو ان کی جماعت دو تہائی اکثریت کیساتھ اقتدار میں لوٹ آئے گی۔ متوقع اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان صاحب ہمارے نظام کو پارلیمانی کے بجائے صدارتی بنادیں گے۔ کامل اختیارات کے ساتھ ’’صدر عمران خان‘‘ کڑے احتساب کو بآسانی یقینی بنادیں گے۔ جو خواب دیکھا جارہا ہے وہ مجھ جھکی کی نگاہ میں نہایت معصومانہ ہے۔کاش اس کی تعبیر فراہم ہوسکے۔