لائٹ چلی جانا تو بچوں کے لئے عید کی طرح ہوتا تھا!!! میرے بچپن کے دن کیسے تھے؟ چند چیزیں جن سے آج کے بچے محروم ہیں

لاہور: (ویب ڈیسک) بچپن ایک انتہائی معصوم دورہوتا ہے جب ہم چالاکیوں سے عاری ہوتے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جب بچپن سے نکل کر میچیور ایج میں داخل ہو جاتا ہے تو اپنے بچپن کو شدید یاد کرتا ہے کیونکہ وہ زمانہ بےفکری کا ہوتا تھا اور اس زمانے سے جڑے لوگوں سے ہمیں قدرتی محبت اور خلوص ہوتا ہے۔یہ سچ ہے کہ انسان کے بچپن میں جو تجربات ہوتے ہیں وہ اس کی سیکھنے، دوسروں کے ساتھ مل کر چلنے اور روزمرہ کے دباؤ اور چیلنجز کا سامنا کرنےکی صلاحیت کو تشکیل دیتے ہیں۔

90 کی دہائی میں ایسا بھی نہیں تھا کہ ٹیکنالوجی کے بغیر زندگی گزار رہے ہوں۔ ہمارے پاس ویڈیو گیمز تھے، کارٹونز تھے اور کمپیوٹر تھا۔ لیکن یہ چیزیں اس وقت اختیاری تھیں جس چیز نے ہمیں سب سے زیادہ متحرک کیا ہوا ہوتا تھا وہ اپنا ہوم ورک جلد از جلد ختم کرنا تھا تاکہ ہم باہر جا کر کھیل سکیں۔ چھپن چھپائی کھیلنے کا ایک اپنا مزا تھا!!!!!چھپنے کے لیے سب سے غیر معمولی جگہیں تلاش کرنا تاکہ ہم سب سے آخر میں بازیاب ہوں۔ لنگڑی پالا کے لئے ٹیموں کا انتخاب، سب سے بہترین کھلاڑیوں سے بنا کر رکھنا کہ وہ کہیں دوسری ٹیم میں نہ چلے جائیں، اپنی ہار پر افسردہ ہونا لیکن دوسرے دن اس سے ڈبل انرجی کے ساتھ مخالف ٹیم کا مقابلہ کرنا، دوستوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا۔ سونے پہ سہاگہ گرمیوں کی چھٹیاں جو جدید سمر کیمپوں کی طرح چار دیواری کے اندر نہیں گزاری جاتی تھیں، بلکہ باہر کیچڑ، مٹی اور پسینے میں کھیل کر گزاری جاتی تھیں۔ ہاپ اسکاچ کھیلنے کے لیے زمین پر لکیریں کھینچنا یا کرکٹ میچ ہونا۔ گرمیوں کی زیادہ تر شامیں خاندان کے ساتھ بورڈ گیمز جیسے کیرم، لوڈو یا سکریبل کھیلنے میں گزاری جاتی تھیں۔ محلے بھر کے لوگ ٹورنامنٹ منعقد کرتے تھے۔ لائٹ چلی جانا تو بچوں کے لئے عید کی مانند ہوتی تھی کیونکہ بچے بڑے سب اپنے گھروں سے باہر نکل آتے اور لائٹ آنے تک ایک دوسرے کی کمپنی انجوائے کرتے۔ مرد حضرات سیاست پر بحث کر تے خواتین اپنی خوش گپیوں میں مصروف ہوتیں اور بچوں کے تو وارے نیارے۔۔۔۔۔۔۔ ۔ یہ حسین یادیں ہماری زندگی بھر کا سرمایہ ہیں!!! آپ جانتے ہیں کہ ان دنوں کو کس چیز نے زیادہ خاص بنا دیا؟ ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی۔ بورڈ گیمز ہمارے اسمارٹ فونز کی ایپلی کیشنز میں چھپ گئے ہیں اور صرف ایک انگلی کی پور پر ہیں، لیکن یہ گیمز حقیقی انسانوں سے منسلک تفریح جیسے تو نہیں اور یقینی طور پر بہتر بھی نہیں ہے۔ بے شک ٹیکنالوجی اہم ہے، لیکن جب 90 کی دہائی کا سوچا جائے تو وہ وقت سادہ اور آسان ہوتا تھا جب لوگوں کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کا وقت ہوتا تھا۔

پڑوسی پورے وقت اپنے دروازے بند نہیں رکھتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے بات چیت کرتے تھے۔ اگر موجودہ وقت پر مبنی بچپن کا جائزہ لیا جائے تو آج جنریشنز Z and alpha کا زمانہ ہے ۔ نام سے ہی ظاہر ہے کتنے ایڈوانس اور نازک مزاج ہیں- یقین کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بچوں کو اندازہ ہی نہیں ہو گا کہ وہ جس کمرے میں بیٹھے ہیں وہاں کتنے لوگ بیٹھے ہیں کیونکہ وہ سب اپنے اسمارٹ فونز میں مصروف ہوتے ہیں۔ کیا وہ کبھی گھر سے باہر واکی ٹاکیز کے ساتھ ڈراؤنا ایڈونچر کر سکتے ہیں؟ شاید کبھی بھی نہیں! ان کے مطابق تو مزا تو اس میں ہے کہ ایک گروپ چیٹ میں تمام چیزوں پر تبادلہ خیال کریں۔ یہ آسان ہوگا لیکن یقینی طور پر اتنا دلچسپ نہ ہوگا جتنا دوستوں کے ساتھ بذات خود رہ کر انجوائے کرنا۔ ٹیکنالوجی یقینی طور پر زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو آسان بناتی ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا خلفشار اور بہت سارے وقت اور توانائی کا ضیاع ہوسکتا ہے۔ آج کے بچے کو ہماری طرح ایک محفوظ ماحول چاہئے تاکہ وہ اپنا بچپن انجوائے کر سکیں۔ آج بچے اکیلے گیجٹ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جو یقیناً انھیں تنہا کر رہا ہے۔ موجودہ دور کے والدین اپنے بچوں کی تربیت میں بھر پور وقت نہیں دے رہے۔ کیونکہ بچے کی تربیت وقت مانگتی ہے، والدین خود ہی موبائل فون میں لگے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اپنے بچوں پر بھرپور توجہ دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ بچے نے ظاہر ہے اسمارٹ فون میں اپنی دنیا آباد کر لی ہے۔ بچہ قول سے زیادہ عمل دیکھ کر سیکھتا ہے۔ لیکن ابھی بھی چند والدین اپنی اولاد کی تربیت نئے اور پرانے زمانے کے تربیت کے امتزاج سے کررہے ہیں تاکہ بچہ ٹیکنالوجی میں بھی پیچھے نہ رہے اور اسٹریٹ اسمارٹ بھی بنے۔ انٹرنیٹ کی سہولیات سے کوئی انکار نہیں اگر یہ انٹرنیٹ نہ ہوتا تو اپنے طویل عرصے سے کھوئے ہوئے اسکول کے دوستوں کے ساتھ دوبارہ رابطہ ممکن نہیں تھا یا اپنے گھر پر بیٹھ کر آرام سے شاپنگ نہ ہو پاتی۔ ٹیکنالوجی اہم ہے اور بہت سے طریقوں سے ناگزیر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے بچے ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں، لیکن ضرورت ہے کہ وہ بھی کچھ مزہ کرنا سیکھیں اور بچپن کی خوبصورت یادیں تخلیق کریں، والدین اپنے آرام کو بالائے طاق رکھ کر اپنے بچوں کو ٹائم دیں ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ عادی کر کہ ان سے انکا بچپن نہ چھینیں- انکا بھی حق ہے کہ وہ اپنے جیتے جاگتے ایڈونچرز اپنی اگلی نسلوں سے فخریہ طور پر شئیر کر سکیں۔