اگر ایسا نہ کیا گیا تو ۔۔۔۔شہباز اینڈ کمپنی نہیں چل سکے گے،سینئر صحافی انصار عباسی نے بڑا دعویٰ کر ڈالا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)انصار عباسی اپنے کالم میں لکھتے ہیں پہلے کہا تھا کہ عمران خان کو جس انداز میں گھر بجھوایا جا رہا ہے، وہ ناقص ہے۔ اُس میں Unfair Means استعمال ہوئے ہیں اس سے کیا بہتری برآمد ہو سکتی ہے؟ بھئی پانچ سال پورے ہونے دیتے لیکن نجانے کیوں اتنی جلدی تھی۔

Almarah Advertisement

اس کے باوجود کہ سب کو معلوم تھا کہ اُس وقت کی اپوزیشن پر مشتمل نئی حکومت وہ سیاسی استحکام نہیں لا سکتی جو اس ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ کوئی ایک درجن تو اتحادیوں نے مل کر174 ووٹوں کے ساتھ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیا۔ یعنی صرف تین ووٹ روٹھ گئے تو حکومت گئی۔ابھی کئی دن گزرنے کے بعد کابینہ نے حلف اُٹھایا ہی تو اختلافات کی خبریں آنے لگیں۔ زرداری پیپلز پارٹی کے لیے مزید عہدے مانگ رہے ہیں اور اسی لیے بلاول کو میاں نواز شریف سے ملنے لندن بھیج دیا۔ بی این پی اختر مینگل گروپ نے چاغی میں فائرنگ کے واقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٹ کیا اور اسی واقعہ کی وجہ سے کابینہ میں ابھی تک شمولیت بھی اختیار نہیں کی۔ بلاول بھٹو بھی ابھی کابینہ میں شامل نہیں ہوئے جبکہ محسن داوڑ اور عوامی نیشنل پارٹی کے متعلق بھی کچھ مسائل درپیش ہیں۔ میں نے پہلے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو بہتر ہو گا کہ فوری الیکشن کی طرف جایا جائے کیوں کہ پاکستان کی قومی معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز سے نپٹنے کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے۔ اس کے برعکس جو غیر فطری اتحاد اس وقت حکومت میں ہے وہ کیسے چند ماہ بھی چل سکتا ہے؟ اللہ کرے میں غلط ثابت ہوں لیکن مجھے کوئی اچھے اشارے نہیں مل رہے۔ فوری الیکشن بہترین حل تھا لیکن معلوم نہیں الیکشن کمیشن نے ایسا کیوں کہہ دیا کہ اکتوبر سے پہلے انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔

جس روز عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم قومی اسمبلی کی تحلیل اور نوے دن میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا اُس کے دوسرے دن ڈان اخبار میں ذرائع کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی کہ الیکشن کمیشن نوے روز میں انتخابات نہیں کرا سکتا۔ لیکن جس دن یہ خبر شائع ہوئی اسی روز ٹی وی چینلز پر الیکشن کمیشن کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ نوے دن میں الیکشن نہ کروانے والی خبر درست نہیں۔ شہباز شریف بلاشبہ موجودہ سیاسی قیادت میں حکومت چلانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اُن کو ماضی کے برعکس اس وقت ایک ایسی سیاسی حمایت حاصل ہے جو بہت کمزور ہے، جو قابلِ اعتباربھی نہیں اور جس کی وجہ سے شاید وہ ایسا کچھ نہ کر سکیں جس کی وہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں جیسا کہ پہلے ذکر کر چکا اصل چیلنج معیشت کا ہے۔ اور چیلنج بھی ایسا ہے جو فوری حل مانگتا ہے کیوں کہ ذرا سی بھی دیر پاکستان کو خدانخواستہ سری لنکا جیسی صورتحال میں دھکیل سکتی ہے۔ معیشت کو سب سے بڑا خطرہ پٹرول کی اُن قیمتوں کے تعین سے متعلق ہے جن کا فیصلہ اپنے دور حکومت کے آخری ہفتوں میں عمران خان نے کیا۔ حکومت پاکستان ہر ماہ تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے پٹرول پر سبسڈی دیتی ہے۔ اس سبسڈی کو جاری رکھنے کا مطلب پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف لے جانا ہے، جس کا مطلب تباہی ہے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے اگر ایک طرف آئی ایم ایف سے ڈیل ضروری ہے تو دوسری طرف حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں کم سے کم 20 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 50روپے فی لیٹر اضافہ کرنا ضروری ہو چکاہے۔ یہ اضافہ آئندہ ایک دو ماہ میں کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس اضافے سے حکومت پیٹرول اُس ریٹ پر بیچے گی جو قیمت خرید ہے۔ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ عمران خان حکومت نے کیا تھا اُس کے مطابق پیٹرول پر 30 روپے کا ٹیکس بھی لگنا ہے۔ اب شہباز شریف حکومت کے لیے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جاتا تو پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا سکتا ہے اور اگر ان قیمتوں کو بڑھایا جائے تو اس پر سیاسی ردعمل کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل بھی آئے گا۔ اس فیصلے کے بغیر کوئی چارا نہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ شہباز شریف کو اس بارے میں اتحادیوں کی حمایت حاصل ہو گی یا نہیں۔
تحریک انصاف کے لیے تو شہباز شریف حکومت کے خلاف یہ ایک بہت بڑے سیاسی وار کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن یہ مسئلہ پاکستان کی سالمیت کا ہے۔ حقیقت کا سب کو علم ہے لیکن سیاست میں اپنے مخالف کو کسی بھی حالت میں ناکام کرنا اپنی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ خبردار! یہ معاملہ بہت نازک ہے، یہ پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ میری حکومت اور اپوزیشن میں شامل تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش ہے کہ سیاست ضرور کریں لیکن پاکستان کی معیشت کے ساتھ مت کھیلیں، ایسا نہ ہو کہ پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔ مل بیٹھ کر کم از کم معیشت کی بہتری کے لیے ایک فیصلہ کر لیں، ایک چارٹر آف اکانومی بنالیں۔