نئے وزیر اعلٰی کے بغیر صوبہ پنجاب کا نظام کیسے چلایا جارہا ہے؟ تہلہ خیز انکشافات افشان

لاہور: (ویب ڈیسک) رائے شاہنواز لکھتے ہیں کہ” پاکستان کے صوبہ پنجاب میں یکم اپریل سے حکومت نہیں ہے اور نومنتخب وزیر اعلٰی پنجاب کب حلف اٹھائیں گے اس حوالے سے بھی کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کو کیسے چلایا جا رہا ہے؟

Almarah Advertisement

یہ سب سے اہم سوال ہے اور اس کا جواب دینے کے لیے بھی کوئی موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے اردو نیوز نے پنجاب میں مختلف عہدوں پر فائز سرکاری افسران سے بات چیت کی کوشش کی تاہم کوئی بھی اس معاملے پر آن ریکارڈ بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ پنجاب کے علامتی وزیر اعلٰی عثمان بزدار نے ابھی تک اپنے دفتر کا چارج نہیں چھوڑا کیونکہ آئینی طور پر وہ اس وقت تک دفتر میں ہی رہیں گے جب تک نیا وزیر اعلٰی حلف لینے کے بعد چارج سنبھال نہیں لیتا۔ وزیر اعلٰی آفس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ’یکم اپریل کو وزیر اعلٰی سردار عثمان بزدار نے استعفیٰ دیا تو اس کے بعد انہوں نے کسی بھی فائل پر دستخط نہیں کیے ہیں۔‘ ’سینکڑوں کی تعداد میں وزیر اعلٰی آفس میں آنے والی فائلوں کو واپس ان کے محکموں میں بھجوا دیا گیا ہے۔ جو فائلیں وزیر اعلی کی میز پر بھی پہنچ گئی تھیں ان پر بھی انہوں نے دستخط نہیں کیے۔‘اعلٰی افسر نے بتایا کہ ’ویسے تو کئی ایسے کام ہیں جو معمول کے ہیں تاہم عثمان بزدار نے کچھ زیادہ ہی احتیاط سے کام لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر وزیر اعلٰی آفس سے کوئی بھی سرکاری کام نہیں کیا جا رہا۔‘ ’البتہ کچھ عرصے تک جرائم کے حوالے سے عثمان بزدار نے نوٹسز لیے اور پولیس سے رپورٹ طلب کی لیکن 16 اپریل کو نئے وزیر اعلٰی حمزہ شہباز کے انتخاب کے بعد انہوں نے یہ کام بھی چھوڑ دیا ہے۔‘ اعلٰی افسر کی اس بات کی تصدیق وزیر اعلٰی آفس کے بنائے گئے آفیشل واٹس ایپ گروپ سے بھی ہوتی ہے جو صحافیوں کو وزیر اعلٰی کی سرکاری سرگرمیوں سے آگاہ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

اس سرکاری واٹس ایپ گروپ پر آخری خبر 16 اپریل کو ہی جاری کی گئی تھی جس میں ان کا پنجاب اسمبلی میں نئے وزیر اعلٰی کے لیے ووٹنگ کے عمل کا حصہ بننے اور شمالی وزیرستان میں فوج پر حملے اور اسرائیل کی مسجد اقصیٰ میں فلسطینوں پر تشدد کی مذمت کرنے کی خبریں جاری کی گئیں۔ شام سات بجے جب ڈپٹی سپیکر نے حمزہ شہباز کے وزیر اعلٰی منتخب ہونے کا اعلان کیا تو سرکاری واٹس گروپ سے عثمان بزدار کی تصویر ہٹا کر پنجاب حکومت کا لوگو لگا دیا گیا اور اس کے بعد سے یہ واٹس ایپ گروپ خاموش ہے۔ پنجاب میں سرکاری کام معطل ہونے کی وجہ ہے نئے وزیر اعلٰی کا ابھی تک حلف نہ اٹھانا، کیونکہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار کر رکھا ہے۔ منگل کے روز اس حوالے حمزہ شہباز نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم تکنیکی اعتراض لگا کر ان کی درخواست واپس کردی گئی۔ ادھر نئے وزیر اعلٰی کے حلف کا معاملہ مزید گھمبیر ہوچکا ہے۔ گورنر پنجاب نے آئینی اور قانونی ماہرین سے اس بات پر مشاورت شروع کردی ہے کہ یکم اپریل کو وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کا استعفیٰ قانونی ہے بھی یا نہیں؟ ’یہ استعفیٰ چونکہ انہوں نے وزیراعظم کے نام لکھا تھا جس کو اس وقت کے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اپنے دستخطوں سے منظور کیا تھا۔‘ آئینی ماہرین کے مطابق کسی بھی صوبے میں پیدا ہونے والی یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے، اور بظاہر ایسا لگا رہا ہے کہ اس کا فیصلہ بھی اب عدالت ہی کرے گی۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے سیکریٹری ٹو وزیر اعلٰی کو تبدیل کردیا ہے جبکہ سیکریٹری ٹو گورنر پنجاب نے ایک خط کے ذریعے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو خبردار کیا ہے کہ وزیر اعلٰی منتخب ہونے کے بعد حلف میں رکاوٹ کھڑی کرنا ایک غیر آئینی عمل ہے۔