شہباز سپیڈ نے دوڑیں لگوا دیں!!! وزیراعظم شہباز شریف سے کون کون ناخوش ہے ؟ حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور: (ویب ڈیسک) عمار مسعود اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ ایک عہد ستم بیت گیا۔ تاریخ کا ایک تاریک باب بند ہوا۔ نفرت، بہتان، الزام اور جبر کی حکومت تمام ہوئی۔ سیاہ رات گزر گئی۔ سیاست نے ایک نئی کروٹ لی۔ ایک طویل جمہوری جدوجہد کامیاب ہوئی۔ شہباز شریف نے انتہائی مخدوش حالات میں وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔

Almarah Advertisement

حالات ایسے ہیں کہ نہ خزانے میں کوئی پائی بچی نہ بیرون ملک پاکستان کی کوئی عزت رہی تھی۔ ایک وسیع تر اتحاد نے نئے وزیر اعظم کو قیادت کا منصب سونپا اور جمہوریت کی گاڑی ایک نئے سفر پر نکلی۔ شہباز شریف کی ابھی تک کی پرفارمنس پر بات کرنا اگرچہ نا مناسب ہے کہ چند دنوں میں کسی وزیر اعظم کے کام اور ارادوں کا اندازہ لگانا بہت نا انصافی ہے۔ پھر بھی اب تک کی جو کارکردگی اس پر ایک طائرانہ نظر ضرور ڈالی جا سکتی ہے۔ شہباز سپیڈ نے وفاق میں اپنی جو رفتار دکھانا شروع کر دی ہے وہ لوگوں کے لیے حیرت کا سبب ہے۔ لوگوں کو اس طرح کے وزیر اعظم کی عادت ہی نہیں رہی۔ کیونکہ ابھی تک شہباز شریف نے نہ کسی خطاب میں عمران خان کو گالیاں دی ہیں نہ ان پر غداری کا الزام لگایا ہے۔ گزشتہ دور تاریک میں ہونے والی کرپشن کے بے پناہ ثبوت سامنے آ رہے ہیں اس کے باوجود ابھی تک نہ چور، ڈاکو کا نعرہ بلند کیا نہ کفر کے فتوے لگائے نہ بہتان و الزام کا بازار گرم کیا نہ ذاتی حملے کیے گزشتہ چار سال کے اذیت ناک تجربے کے بعد قوم کے بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم تو وہ ہوتا ہے جو نہ آئین کو مانے نہ قانون کی عملداری کرے نہ عدالتوں کے فیصلے کو تسلیم کرے نہ ایوان کو عزت دے۔ عمران خان نے بتایا کہ وزیر اعظم کہلانے کا مستحق وہ ہوتا ہے جو اپنے ہی عشق میں گرفتار رہے۔ جسے نہ ملک میں ہونے والی مہنگائی کی پرواہ ہو، نہ احباب کی جانب سے ہونے والی کرپشن پر اس کو کوئی شکوہ ہو۔ جو ہر بات کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا اہل ہو، جو کبھی اپنی غلطی تسلیم نہ کرے، جو ہر شخص، جماعت، قاعدے، قانون اور اصول کو اپنی ذات سے ہیچ سمجھے۔

عمران خان نے قوم کو یہی درس دیا ہے کہ سیاست ان کی ذات کا نام ہے۔ باقی سب چور، ڈاکو اور لٹیرے ہیں صرف خان ہی آئین ہے خان ہی قانون ہے اور خان ہی عدالت ہے۔ جس قوم کا یہ مزاج گزشتہ چار سالوں میں بنا دیا گیا ہو اس قوم کو شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے سے تسلی نہیں ہو رہی۔ سوشل میڈیا والے پریشان ہیں کہ ہیں ابھی تک شہباز شریف کی نماز پڑھتے ہوئے ہر اینگل سے لی گئی تصاویر کا اجرا کیوں نہیں ہوا۔ ابھی تک نیب کے تعاون سے موجودہ اپوزیشن کا کوئی ایک بھی رہنما گرفتار کیوں نہیں ہوا۔ ابھی زرخرید اینکروں کے ساتھ ملاقاتوں کا آغاز کیوں نہیں ہوا۔ عوام بہت حیران و پریشان ہیں کہ شہباز شریف نے ابھی تک اپنے ترجمانوں کا انتخاب تک نہیں کیا۔ اب نہ میڈیا پر کوئی فیاض چوہان جیسا بدزبان نظر آ رہا ہے، نہ فردوس عاشق کے خطبات عالیہ سننے کو مل رہے ہیں نہ فواد چوہدری جیسے کسی کی توہین کر رہے ہیں نہ شہباز گل جیسے گالم گلوچ کر رہے ہیں۔ شہباز شریف آتے ہیں جس طرح معیشت کی بہتری، خارجہ تعلقات کی بحالی اور بہتر گورننس میں تن تنہا جٹ گئے ہیں یہ لوگوں کے لیے اچنبھے کی بات ہے۔ ورنہ خان صاحب نے بتایا تھا کام کرنا ہے تو بزدار کی طرح کرو، معیشت کو سمجھنا ہے تو دور جدید کے ارسطو اسد عمر سے سمجھو، خارجہ پالیسی کو سمجھنا ہے شاہ محمود قریشی کی چالبازیوں کے ذریعے سمجھو۔ ہمارا چار سالہ تجربہ بتاتا ہے کہ وزیر اعظم کو عوامی فلاح سے کوئی غرض نہیں ہوتا، ٹماٹر پیاز کی قیمت کو کنٹرول کرنا اس کے منصب سے کہیں نیچے کی بات ہے۔

اس کا کام تو جھوٹ بولنا ہوتا ہے، مہنگائی سے مارے ہوئے عوام کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ ملک سب سے سستا ملک ہے، ایک سو پچاس روپے پٹرول بھی قوم پر احسان ہے۔ شہباز شریف پر صرف گورننس اور کارکردگی کا پریشر نہیں۔ ان کو مخلوط حکومت کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے۔ سب پارٹیوں کو خوش رکھنا ہے۔ سب کی بات ماننی ہے۔ پنجاب میں گورننس کا معیار اور تھا۔ وہاں وفاقی کابینہ کو نظر انداز کر کے بیوروکریسی پر ڈنڈا چلا کر پراجیکٹ مکمل کیے جا سکتے تھے۔ یہ وفاقی حکومت ہے اور مخلوط حکومت ہے۔ اس کے چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ ایک طرف خان صاحب ہیں جو اس خدشے کے پیش نظر جلد الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے کیسسز نہ کھل جائیں اور کرپشن کرپشن کے نعرے کے پیچھے چھپی کرپشن لوگوں کو نظر نہ آ جائے۔ دوسری جانب اتحادی جماعتیں ہیں جس میں سے ہر ایک کا اپنا سیاسی ایجنڈا ہے۔ ان سب کو ساتھ ملا کر چلنا دشوار ہے۔ لیکن ابھی تک سب سہولت سے ہو رہا ہے۔ ہم نے دیکھا ابھی تک شہباز شریف کسی جگہ اپنی شان میں نعرہ بلند نہیں کرتے۔ وہ پہلے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں پھر نواز شریف کی سیاست اور قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہیں اور اس کے بعد پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے شکر گزار ہوتے ہیں۔ وہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی پذیرائی کرتے ہیں۔ چین کے سی پیک کو جلد آگے بڑھانے کا مصمم ارادہ کرتے ہیں۔ امریکہ سے تعلقات کو سرہاتے ہیں۔ کسی ملک کو الزام نہیں دیتے، کسی ملک کو سازشی قرار نہیں دیتے شہباز شریف پر بہت بھاری ذمی داری عائد ہوتی ہے۔ ان کی کامیابی اس خان صاحب کے دور تاریک کی بعد جمہوریت کی کامیابی گردانی جائے گی اور ان کی ناکامی سے لوگوں کا جمہوریت پر اعتبار ختم ہو جائے گا۔ اقتدار کے ابتدائی چند دنوں سے سب ہی خوش ہیں۔ نہ اسٹیبلشمنٹ کو ان سے سے کوئی شکایت ہوئی ہے نہ اتحادی جماعتیں جماعتوں نے کوئی شکوہ کیا ہے نہ نواز شریف کے نظریے کو انہوں نے کوئی زک پہنچائی ہے نہ آئین کو پامال کیا نہ عدلیہ کے کسی حکم کو پاؤں تلے روندا نہ عوام کی شکایات کو نظر انداز کیا ہے۔ سب ہی خوش ہیں سوائے ان بیوروکریٹس کے جن کو آدھی آدھی رات کو شہباز شریف جگا کر کہتے ہیں چلو بھئی کام پر چلیں۔