رمیز راجہ کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر رہنا چاہئے یا نہیں؟؟؟ عاقب جاوید نے اہم بیان دے دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید نے پی سی بی جونئیر لیگ کی مخالفت کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی پی ایس ایل ہچکولے کھارہی ہے، دن رات کوشش کی جارہی ہے کہ اسے کسی طریقے سے نیچے لے جائیں، ہمسایہ ملک بھارت میں آئی پی ایل کی موجودگی میں دس سال تک وہاں کوئی لوکل لیگ نہیں ہوئی،پی سی بی کو بھی چاہیے کہ پہلے پی ایس ایل کو سنبھالنے پر توجہ دے۔
لاہور میں بات کرتے ہوئے عاقب جاوید نے واضح کیا کہ جتنی بھی پارٹیز ہیں اگر ان کو کوئی آپشن دو گے تو اس سے چیزیں ادھر ادھر ہونا شروع ہوجائیں گی۔کرکٹ بورڈ حکام پہلے پی ایس ایل کے مسائل حل کریں، اسے بڑی پراڈکٹ بنائیں پھر کچھ اور سوچیں۔پوری دنیا دائیں جانب چلتی ہے، ہم بائیں جانب چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے سری لنکا اور بھارت میں تھری ڈے کرکٹ کرائی جاتی ہے، اسی طرح اگر آپ آسٹریلین ماڈل فالو کرتےہیں وہاں گریڈ کرکٹ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ہر بچہ ہفتے اور اتوار کو ریڈ بال کرکٹ کھیلتاہے، اس کا مقصد ہوتاہےکہ وہ ابتدائی عمر سے ہی زیادہ زیادہ بال کھیلنے کی عادت اپنائے اور اپنی تکنیک کو بہتر اور اسکلز کو مضبوط کرے تاکہ جب وہ فرست کلاس کرکٹ میں جائے تو وہ لمبے عرصے تک کھیل سکے۔ چئیرمین پی سی بی کے حوالےسےسوال پر عاقب کا موقف تھا کہ کرکٹر یا نان کرکٹر ایشو نہیں،ایڈمنسٹریشن کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو جو چیزیں خراب چل رہی ہوں، انہیں درست کرنےپر توجہ دینی چاہیے۔اس وقت کرکٹ بھی ہاکی کی طرح زوال کا شکار ہے، پورے لاہور میں کسی بھی گراؤنڈ میں سپائیکس پہن کر کھیلنے کی اجازت نہیں۔ کلب کرکٹ کتنے سالوں سےمعطل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں ہفتے اور اتوار کو لیگ کرکٹ ہوتی ہے، ہم پتہ نہیں کس دنیا میں رہ رہےہیں اور کس کا مقابلہ کرنےجارہےہیں۔مانی اور وسیم خان نے پورے سسٹم کو ہلاکر رکھ دیا، بڑی خواہش تھی کہ چھ ٹیم بناکر ہم آسٹریلیا بن جائیں گے، لیکن نیچے کچھ بھی نہیں کیا، عمران خان ان کو ہٹاکر رمیز راجہ کو لائے مگر انہوں نے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا، پاکستان میں ڈراپ ان پچز کی ضرورت ہی نہیں، پہلے سے موجود پچز کو بہتر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکول جانےا ور کام کرنے والے بچوں کے لیے کوئی پلان نہیں، پی سی بی کو چاہیے کہ وہ چھ، سا ت ماہ ہفتے اور اتوار کوریڈ بال سے دو روزہ کرکٹ کرائے۔ سابق دور میں صرف کرکٹرز کا بیڑہ غرق نہیں ہوا، دوسری ڈیپارٹمنٹل اسپورٹس بھی بند کردی ہیں۔ ڈھائی ماہ میں آپ اپنا شوق پورا کرلیں، باقی چار ماہ میں اگر ڈیپارٹمنس کرکٹ ہوتی ہے اور لڑکوں کو نوکریاں مل جاتی ہیں توآپ کو پرابلم کیاہے۔ چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ کےمسقبل کے حوالے سے سوال پر عاقب جاوید نے کہا کہ جس طرح انہوں نے عمران خان کو سپورٹ کیا، اب لگ نہیں رہا کہ وہ رکیں گے، اخلاقی طورپر انہیں عہدے سےمستعفی ہوجانا چاہیے۔میرے خیال میں نجم سیٹھی اور ذکا اشرف میں سے کسی ایک کے چیئرمین بننے کے زیادہ امکانات ہیں۔ماضی میں دونوں نے بڑے اچھے کام کیے ہیں۔

Almarah Advertisement