پیپلز پارٹی میں جشن کا سماں ، ہر طرف سے مبارکبادیں ملنے لگیں

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے انتخابات کے بعد آصف علی زردار ی اور بلاول بھٹو کے ضمنی الیکشن میں حائل رکاوٹ ختم ہو گئی ہے، دونوں پارٹیوں کے نئے سیٹ اپ میں طاقت کا اصل مرکز آصف علی زرداری ہونگے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے تنظیمی انتخابات کی چار سالہ مدت پوری ہو چکی تھی جس وجہ سے نئے انتخابات منعقد کر کے الیکشن کمیشن پاکستان کو نئے عہدیداروں کے نام پیش کرنا ضروری تھے تاکہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری ضمنی الیکشن میں حصہ لے سکیں۔ اگلے مرحلہ میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے ضمنی الیکشن کے لئے ایاز سومرواین اے 204لاڑکانہ اور ڈاکٹر عذرا پلیچو این اے 213نوابشاہ کی نشستوں سے اپنے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کریں گے جس کے بعد الیکشن کمیشن پاکستان خالی ہونے والی نشستوں کے لئے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کر ے گا۔ الیکشن کمیشن میں پاکستان پیپلز پارلیمنٹرین کی رجسٹریشن کی وجہ سے بلاول بھٹو زردار ی بھی اسی کے ٹکٹ اور انتخابی نشان تیر سے ضمنی الیکشن میں حصہ لیں گے جس کے لئے قانونی ضرورت کی خاطر جلددونوں پارٹیوں میں اتحاد کا امکان ہے۔ دونوں پارٹیوں کے نئے سیٹ اپ میں دلچسپ بات ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام عہدیدار بلاول بھٹو زرداری، نیئر بخاری، حیدر زمان قریشی اور چودھری منظور احمد غیر منتخب ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین میں آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں امیدوار، فرحت اللہ بابر اور سلیم مانڈی والا سینٹ کے ارکان اور مولا بخش چانڈیو سندھ حکومت میں مشیر اطلاعات ہیں۔ مستقبل میں پیپلز پارٹی کےقومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے ارکان آصف علی زرداری کو جوابدہ ہوں گے اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر نااہل بھی ہو سکیں گے، پیپلز پارٹی انتخابی امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی لیکن ٹکٹوں کا حتمی اختیار آصف علی زردار ی کو حاصل ہو گا، گویا دونوں پارٹیوں کا بالواسطہ کنٹرول آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے (یا)