سندھ میں کتنے لاکھ افراد ایمرجنسی صورتحال سے دوچار ہیں ؟ حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا صوبہ سندھ پانی کے بحران کا شکار ہے جہاں 11 لاکھ سے زائد افراد ہنگامی صورت حال کا شکار ہیں۔یورپی یونین سول پروٹیکشن اینڈ ہیومنٹیرین ایڈ آپریشنز (ای سی ایچ او) کے فنڈز سے چلنے والے اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر (ایف اے او) نے 2 رپورٹس جاری کی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے بعد فصلوں اور لائیو اسٹاک کے استعمال کے بعد زون کی 75 فیصد آبادی کو ضروریات زندگی کے استعمال کا پانی حاصل ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ‘مختصرا یہ کہ 11 لاکھ ایک ہزار 6 سو 23 افراد ایمرجنسی کی صورت حال سے دوچار ہیں’۔ہاؤس ہولڈ اکنامک اینالسٹ (ایچ ای اے) اور سندھ ڈروٹ نیڈس اسسمنٹ (ایس ڈی این اے) کے نام سے جاری رپورٹ کے مطابق 2015-2013 کی خشک سالی کے باعث سندھ میں پانی کی قلت میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے شدید متاثرہ علاقوں میں کاشت میں نمایاں کمی آئی۔

رپورٹ میں خشک سالی سے متاثرہ لوگوں کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، پہلے حصے میں ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو مال مویشیوں پر گزارا کررہے تھے اور خشک سالی کے باعث انھوں نے اپنے دو تھائی مویشی اور آمدنی کھو دی۔

دوسرے نمبر پر ان متاثرہ افراد کو رکھا گیا ہے جو مغربی زون میں مزارے (کسی اور کی زمین پر کاشتکاری کرنے والے) کا کام کررہے تھے اور انھیں یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑی تاکہ وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوسرا ذریعہ معاش تلاش کرسکیں، ‘یہ پہلے ہی سے انتہائی غریب طبقہ تھا’۔تیسرا طبقہ وہ ہے جو خشک سالی سے متاثر ہونے والے شعبہ ذراعت میں مزدوری سے وابستہ تھے، ان میں زیادہ ترعورتیں شامل ہیں اور ان کیلئے مزدوری کے مواقع روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کی ترجیحات میں یہاں کے لوگوں کیلئے گھریلوں ضروریات کی اشیاء کی فوری فراہمی شامل ہونا چاہیے۔خیال رہے کہ ایس ڈی این اے رپورٹ کا مقصد سندھ کے مختلف شعبوں پر خشک سالی کے اثرات معلوم کرنا ہے، جن میں ذریعہ معاش، غذائی تحفظ، غذائیت، صحت، پانی اور صحت و صفائی شامل ہے۔ایف اے او کا کہنا تھا کہ ایچ ای اے رپورٹ کا مقصد صوبہ سندھ میں 2015-2013 میں ہونے والی خشک سالی کے بعد ذریعہ معاش پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا تھا کہ ‘مذکورہ رپورٹ کے نتائج سے سٹیک ہولڈرز، وفاق اور سندھ حکومت، نیشنل اور انٹر نیشنل ہیومینٹیرن کرداروں کو فیصلہ سازی، مداخلتوں اور پروگرامز ترتیب دینے مدد ملے گی۔ایف اے او کے مقامی نمائندے ناصر حیات کا کہنا تھا کہ خشک سالی سے متاثرہ طبقے کو ہماری مدد کی ضرورت ہے، اس میں سب سے زیادہ متاثر بے زمین گھرانے، مزارے اور چھوٹے تاجر ہیں، اس کے علاوہ درمیانی درجے کے زمیندار بھی خشک سالی سے متاثر ہورہے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی این اے) کے ڈائریکٹر ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ ان رپورٹس کی مدد سے صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کو ہنگامی حالات اور آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹس ایک تقریب میں پیش کی گئی تھی جس میں ایف اے او، ڈبلیو ایف پی، او سی ایچ اے، سندھ بیورو آف اسٹیٹس اسٹک، سندھ ایگریکلچر اینڈ لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ، این ایچ این، پی ایچ ایف اور ای سی ایچ او کے نمائندے شریک تھے۔(ت،ع)