غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون ضروری ،مگر تصویر کا ایک پہلو یہ بھی تو ہے

لاہور(سپیشل رپورٹ) پاکستان بھر میں بہنوں اور بیٹیوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنا اب عام ہو چکا ہے گویا ہم نے تو آمد محمدمصطفیٰ ؐ سے قبل کے عرب معاشرے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ کہ شاید وہ بھی اپنی بیٹیوں کو ایسے ظالمانہ طریقوں سے قتل نہ کرتے ہونگے جتنا کہ ہم۔ گزشتہ ہفتے قتل ہونیوالی پاکستان کی متنازعہ ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کے بعد حکمرانوں کو خیال آیا کہ ایسا قانون بنایا جائے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان حالات میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون بنانا اور قاتلوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جا کھڑا کرنا مناسب اقدام ہوگا ۔ کیا اس سےہمارے معاشرہ میں زیادہ اور گھمبیر مسائل تو پیدا نہیں ہو جائیں گے۔ اس ضمن میں چند باتوں پر غور کرنا قانون بنانے والوں کے ساتھ ساتھ پورے معاشرہ کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ تاکہ بلاسوچے انتہائی اقدام اٹھا کر اسکے نتیجے میں پیدا ہونیوالے کئی مسائل سے بچا جا سکے۔
(جاری ہے...)

1۔ کیا چند دیگر قوانین بنائے بغیر اس طرح کے قتل کے واقعات کے لیے سزا تجویز کرنیوالا قانون بنا دینے سے گھروں سے بہنوں اور بیٹیوں کے بلا ججھک نکل بھاگنے کو تحفظ نہیں مل جائے گا۔ اور گھر سے بھاگ کر شادی کرنا ہمارے معاشرہ میں بالکل عام نہیں ہو جائیگا ۔

2۔ کیا اس طرح کا قانون ہماری سماجی روایات اور دین کی تعلیمات کے برعکس تو ثابت نہیں ہو گا۔

3۔ کیا اس طرح کا قانون ہمارے معاشرے کے والدین کو اس طرح بے بس نہیں بنا دے گا جس طرح کہ امریکہ یا برطانیہ کے والدین ہیں جو اپنی بیٹی کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر بھی اسے روک نہیں سکتے۔

4۔ اور کیا یہ ضروری نہیں کہ اس طرح کے قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی ملک گیر مہم چلائی جائے جو نہ صرف بیٹیوں اور بہنوں کی جان کا تحفظ یقینی بنائے ۔ والدین اور بھائیوں میں اس کا شعور اجاگر کرے اور ہماری بہنیں اور بیٹیاں اپنے گھر اور والدین کو ہی اپنے لیے محفوط ترین جگہ سمجھیں ۔ ٹیلی ویژن ڈش انٹینا انٹرنیٹ فیس بک اور موبائل فون کے برے اور مضر اثرات اور عشق و محبت کی دماغ خراب کردینے والی کہانیوں سے بچ کر دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں ۔ اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کریں ۔(ایس ایس ملک)