الیکشن کمیشن زیادہ تر کیسز میں (ن)لیگ کی حمایت کیوں کرتا ہے؟ اہم انکشاف نے ہلچل مچادی

لاہور (نیوزڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان کا انتہائی بڑا اسکینڈل سامنے آگیا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ نگار رؤف کلاسرانے انکشاف کیا کہ الیکشن کمیشن کیوں بہت سے کیسز میں مسلم لیگ ن کی حمایت کرتا ہے؟ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب الیکشن کمشن کے 4صوبائی ارکان کو رکھا گیا جوکہ ریٹائرڈ ججز تھے۔اس وقت یہ مشکل پیش آئی کہ ان کو تنخواہ کتنی اور کن اصول و ضوابط کے تحت دی جائے گی۔رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ان ارکان کو تنخواہیں دینے کےلئے پہلے پارلیمنٹ سے بل پاس کروانا تھا ،اور پھر اس قانون کے تحت ان کو تنخواہ ملنا تھی۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔بلکہ ارکان نے خود ہی حکومت کو لکھ کر بھیجا کہ ہمیں یہ تنخواہ اور الاؤنس چاہئیں۔جوکہ فی رکن ساڑھے 8 لاکھ روپے بنتے تھے۔حکومت نے یہ سمری آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھیجی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نےحکومت کو پیغام بھیجا کہ ان ارکان سے لکھوا لو کہ ان کو یہ ساڑھے8 لاکھ روپے فی ماہ دیے جائیں گے۔لیکن اگر بعد میں پارلیمنٹ نے بل پاس نہ کیا تو یہ تنخواہیں ان کو واپس دینا پڑیں گی۔جس کے بعد ان کو یہ تنخواہیں جاری کردی گئیں۔رؤف کلاسرا نے یہ بھی انکشاف کیا یہ ریٹائرڈ ججز آٹھ لاکھ روپے پنشن بھی لے رہے تھے،یعنی کل ملا کر ان کی ایک ماہ کی آمدنی 16لاکھ روپے ہوگی۔انھوں نے کہا کہ ان ارکان کا معاہدہ 5سال کا تھا۔یعنی انہوں نے 5سال تک ہر ماہ16لاکھ روپے لئے۔اور یہ رقم 10کروڑ روپےفی رکن بنتی ہے۔

اب جو اتنی زیادہ تنخواہ لے گا۔کیا وہ اس آدمی کے خلاف فیصلہ دے گا جس کے ہاتھ سے اس کے لئے اتنی بڑی رقم آتی ہو۔یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ارکان ن لیگ کے خلاف فیصلے نہیں دیتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب پھر نئے ارکان آ رہے ہیں ۔اور یہ حکومت ان کے ساتھ بھی یہی گیم کھیلے گی۔