آخری آرام گاہ

ہم جو بھی ہوں اور جیسے بھی ہوتے ہیں

بالآخر سب قبروں میں جا سوتے ہیں

...مزید

گمنام

گمنام سا رکھا کبھی بدنام سا رکھا

آوارہ خیالی نے مجھے خام سا رکھا

...مزید

جدائی

کب ہاتھ مرا دستِ حنائی کے لئے تھا

تجھ سے مرا ملاپ جدائی کے لئے تھا

...مزید

غم

بہت سادہ ہیں نقشے میرے تاریخی خزانے کے

کچھ اپنے غم ہیں جاناں اور تھوڑے سے زمانے کے

...مزید

سمندر ذات

میں سمندر ذات، تیرا نہ ڈوبا ہوں کبھی

اپنے اندر ڈوبتا اور تیرتا رہتا ہوں میں

...مزید