نواز شریف لاہور کی طرف اور ملک بحران کی طرف بڑھ رہا ہے:بین الاقوامی میڈیا گروپ نے شریفوں کی سیاست پر شاندار تبصرہ کر ڈالا

لاہور (ویب ڈیسک)  بین القوامی  صحافتی ادارے ڈی ڈبلیو  نے پاکستان کے حالات حاضرہ پر  اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔عدالتی فیصلے کی وجہ سے عہدے سے ہٹائے جانے والے پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پچھلے پچاس گھنٹوں سے اسلام آباد سے لاہور کی طرف محو سفر ہیں۔ عام طور پر یہ فاصلہ پانچ سے چھ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔

وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد لاہور واپس آتے ہوئے سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل مسلم لیگی کارکنوں کا ایک بڑا قافلہ بھی ان کے ساتھ جی ٹی روڈ پر اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ جوں جوں لاہور قریب آتا جا رہا ہے میاں نواز شریف کے لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سفرمیں عدلیہ کے خلاف کی جانے والی تقریروں پر نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست بھی دائرکر دی گئی ہے۔ اس طرح پاکستان میں جاری سیاسی بحران کی سنگینی میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف لاہور کی طرف اور ملک بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔

گھر واپسی کے اس سفر کے تیسرے روز نوازشریف آج جمعہ 11 اگست کو جہلم سے روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ موجود تھا۔ نواز شریف کے قافلے میں شامل گاڑیوں پر مسلم لیگ نون کے پرچم لگے ہوئے ہیں اور پارٹی کے ترانے بجائے جا رہے ہیں۔ جی ٹی روڈ کے اطراف موجود انتخابی حلقوں میں زیادہ پر مسلم لیگ نون ہی جیتی تھی اس لیے جی ٹی روڈ پر موجود تمام شہروں اور قصبوں کو خیر مقدمی بینروں سے سجایا گیا ہے اور جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں۔

سکیورٹی کے انتظامات کافی سخت دکھائی دے رہے ہیں۔ نواز شریف جہاں جہاں سے گزر رہے ہیں وہاں جی ٹی روڈ کے اس حصے کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف کاروباری سرگرمیاں بھی بند کرا دی گئی ہیں۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نواز شریف کی نقل و حرکت کے حوالے سے بیک وقت متعدد پلان جاری کیے جاتے ہیں۔ ابتدائی پلان کے مطابق نواز شریف کو آج جمعے کے روز لاہور پہنچنا تھا لیکن اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آج رات گجرات یا گوجرانوالہ میں قیام کر کے ہفتے کی شام لاہور پہنچ سکتے ہیں۔

دھر لاہور میں نواز شریف کے استقبال کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے پنجاب کے دیگر علاقوں سے بھی نفری بڑی تعداد میں منگوا لی گئی ہے۔ نواز شریف کے قافلے کے راستے میں امامیہ کالونی سے داتا صاحب کے مزار تک 120 کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پولیس کا فلیگ مارچ بھی جاری ہے اور اس روٹ کے قریب تین ہیلی پیڈ بھی بنائے گئے ہیں۔

دربار داتا صاحب کے سامنے والی سڑک کو قافلے کے پہنچنے سے ایک دن پہلے ہی کنٹینر لگا کر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مینار پاکستان والے گریٹر اقبال پارک اور شاہی قلعے کو بھی سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان حفاظتی انتظامات کی نگرانی پنجاب کے وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف خود کر رہے ہیں جبکہ ان کی ایک اہلیہ تہمینہ درانی نے اپنے متعدد ٹویٹس میں اس احتجاجی ریلی کے انتظامات کی وجہ سے عام آدمی کو درپیش مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ میں آج جمعہ 11 اگست کو نواز شریف کی طرف سے جی ٹی روڈ پر کی جانے والی مبینہ عدلیہ مخالف تقریروں کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ جہلم میں کی جانے والی اپنی تقریر میں تو نواز شریف نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو تنقید کا ہدف بنایا۔ ان کا کہنا تھا انہیں ووٹروں نے منتخب کر کے اسلام آباد بھیجا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی لیکن پانچ ججوں نے ایک منٹ میں انہیں اپنے عہدے سے ہٹا دیا۔ نواز شریف کے بقول ان کا اس طرح سے ہٹایا جانا کروڑوں ووٹروں کی توہین ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عدالتیں ڈکٹیٹروں کو قانونی جواز مہیا کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 70 سال سے پاکستانی قوم کی توہین ہو رہی ہے اور اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو اس روایت کو بدلنا ہو گا۔

نواز شریف کے احتجاجی قافلے کے روٹ پر واسا اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں تاکہ ان علاقوں میں پانی کھڑا نہ ہو سکے۔ ہسپتالوں میں بھی ضروری عملے کو موجود رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔اس ریلی کے اختتام پر ہونے والے ایک جلسے کے لیے داتا دربار کے قریب 120 فٹ لمبا سٹیج بھی تیار کیا گیا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں سے بھی لوگ اس جلسے میں شرکت کے لیے لاہور پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ آج لاہور سے ایک بڑا قافلہ نواز شریف کو لینے گوجرانوالہ بھی جا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما سید محمد مہدی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے یا لوگوں کو زبردستی لانے کے الزامات درست نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس ریلی میں شرکت کے لیے باقاعدہ کال دی گئی اور نہ ہی کسی کو ٹارگٹ دیا گیا۔ لوگ اپنی مرضی سے اپنی گاڑیوں میں اس ریلی میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں بڑے عوامی اجتماعات کے لیے خطرات تو ہوتے ہی ہیں تاہم بہتر حفاظتی انتظامات کے ذریعے ان خطرات سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔(ش س م۔ ن)