نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان اور قائد اعظم محمد علی جناح کی پہلی ملاقات

لاہور ( انتخاب : شیر سلطان ملک )  نواب  ملک امیر محمد خان  20 جون 1910 کو کالا باغ میں پیدا ہوئے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ ان کا شمار ملک کے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا۔

 1940 ء میں منٹو پارک لاہور میں جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو نواب ملک امیر محمد خان اس میں خود بنفس نفیس شامل ہوئے۔ قائد اعظم نے اس جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تحریر و تقریر کے ذریعے عوام کو بیدار کرنا ہوگا۔ ان کاموں کے لیے فنڈ زکی ضرورت ہوگی لہٰذا آپ تمام دوست تحریک کے لیے فنڈ زدیں۔ اجلاس میں موجود ہر آدمی نے اپنی حیثیت کے مطابق چندہ دینے کا اعلان کیا۔
اس دوران قائداعظم کا سیکرٹری چندہ نوٹ کرتا رہا۔ جب تمام لوگوں نے امداد کا اعلان کردیا تو اجلاس میں بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک خوبصورت دراز قدلنگی سر پر سجائے ہوئے نوجوان پچھلی قطار سے اُٹھے اور اعلان کیاکہ سیکرٹری صاحب جتنا چندہ سب لوگوں نے جمع کرانے کا اعلان کیا ہے اس تمام چندے کے برابر تحریک پاکستان کے لیے میرا چندہ شامل کیا جائے۔
اجلاس میں شامل تمام روسائے پنجاب اور خود قائداعظم محمد علی جناح یہ اعلان سن کر دنگ رہ گئے ۔قائداعظم نے فرنٹ لائن سے پچھلی لائن میں لگی کرسیوں پر بیٹھے اس نوجوان کی طرف دیکھا اور اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے نواب ممتاز دولتانہ سے پوچھا؛ یہ نوجوان کون ہے؟ جس کے جواب میں دولتانہ نے کہا؛ جناب !یہ ملک امیر محمد خان نواب آف کالاباغ ہیں۔
اس کے بعد قائداعظم نے ممتاز دولتانہ سے کہاکہ آپ میرے ساتھ والی اپنی کرسی ان کے لیے چھوڑیں تاکہ وہ میرے ساتھ بیٹھ سکیں ۔ چنانچہ قائداعظم نے نواب صاحب کو پچھلی قطار سے بلا کر اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھا دیا۔
ملک امیر محمد خان نے زرعی پیدوار بڑھانے کے سلسلے میں کاشت کاری کے جدید طریقوں اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم سے فائدہ اٹھایا۔ 1958ء کے مارشل لاء کے بعد جب ملک میں زرعی اصلاحات نافذ ہوئیں تو انھوں نے کالا باغ کی زرعی جائداد میں سے بائیس ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین زرعی کمیشن کے سپرد کر دی۔ مارشل لا سے پہلے کی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے رکن تھے۔ سابق حکومتوں کی طرف سے دوبار عہدوں کی پیش کش ہوئی ۔ ایک دفعہ مرکزی وزارت اور دوسری دفعہ صوبائی گورنری ۔ لیکن انھوں نے قبول نہ کی۔ 9 دسمبر 1958ء کو پی آئی ڈی سی کے صدر مقرر ہوئے ۔ یکم جون 1960ء کو صدر ایوب خان نے انھیں مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا۔ ستمبر 1966ء میں مستعفی ہوئے۔ اس سے اگلے سال اپنے آبائی وطن میں شہید کر دیے گئے۔( ش س  م۔ ن)