’’ اپنا نقاب ہٹا دے‘‘

قاضی موسیٰ بن اسحاقؒ کی عدالت میں ایک میاں بیوی کا جھگڑا پیش ہوا جھگڑا کیا تھا؟ میاں بیوی ایک دوسرے سے ذرا خفا تھے۔ بیوی چاہتی تھی کہ یہ مجھے طلاق دے دے اور میرا مہر مجھے دے دے۔ مہر کی رقم بہت زیادہ تھی اس لیے خاوند کہتا تھا کہ میں طلاق تو دے سکتا ہوں مگر مہر نہیں دوں گا۔مقدمے کے گواہوں میں سے کسی نے کہا: جی مجھے کیا پتہ کہ پردے میں لپٹی کون عورت ہے؟اگر یہ اپنا چہرہ کھول دے تو پہچان کر تصدیق کر سکتا ہوں کہ یہ اس

کی بیوی ہے۔ وہ کوئی قریبی غیر محرم بندہ ہوگا۔ تو قاضی نے کہا: ہاں ایسے موقع پر گواہ اگر کہیں تو شرعاً وہ دیکھ سکتے ہیں۔ ’’الا ما ظھر منھا‘‘ کا یہی معنی ہے کہ ضرورت کے وقت ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ اب خاوند نہیں چاہتا تھا کہ میری بیوی کسی غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولے۔ قاضی نے تو کہہ دیا کہ اگر گواہ مطالبہ کریں گے تو اس کو اپنی شناخت ثابت کرنا پڑے گی۔ خاوند نے جیسے ہی بات سنی، وہ کہنے لگا: قاضی صاحب! آپ میری بیوی کو چہرہ کھولنے کے لیے مت کہیں، میں اس کا پورا مہر پانچ سو دینار دینے کے لیے تیار ہوں۔ جب خاوند نے یہ بات کہی کہ میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ یہ غیر کے سامنے چہرہ کھولے، میں پانچ سو دینار دے کر اس کی بات مان لیتا ہوں، تو بیوی کے دل میں بھی یہ احساس پیدا ہوا کہ جب میرا خاوند میرے بارے میں اتنا غیرت مند ہے تو پھر میں بھی اس ارادے سے باز آ جاؤں۔ چنانچہ وہ کہنے لگی قاضی صاحب! نہ میں خاوند سے طلاق چاہتی ہوں اور نہ ہی حق مہر مانگتی ہوں۔ چنانچہ قاضی صاحب نے دونوں کو ہنسی خوشی واپس گھر بھیج دیا۔