’’ اِسے کون لڑکی دے گا‘‘

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سکھ گھرانے سے تھے، اسلام قبول کرلیا، دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے آ گئے، یہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے سسر بڑے سمجھ دار آدمی تھے، انہوں نے احمد علی کو اس وقت پہچانا جبکہ احمد علی احمد علی نہیں تھا، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ یہ ولایت کبری کے مقام کے لوگوں میں سے تھے، مستجاب الدعوات بزرگوں میں سے تھے، ان کا درس قرآن بہت مقبول تھا،بہت مانی ہوئی غیر متنازع شخصیت تھی، اپنی شادی کا واقعہ سناتے ہیں، ذرا شوق و توجہ سے سنیں، فرماتے ہیں کہ میرے سسر کو بیوی نے اطلاع

دی کہ میری بیٹی کی عمر پوری ہو گئی کوئی مناسب رشتہ ہو تو اس کا فرض نبھائیں، تو میرے سسر پنجاب کے مدارس میں اپنی بیٹی کے لیے مناسب بچہ ڈھونڈنے کے لیے نکلے، مدارس میں راؤنڈ کرتے کرتے بالآخر دارالعلوم میں پہنچے، شیخ الہندؒ کے خصوصی دوست تھے، ان سے ملاقات ہوئی تو دورۂ حدیث کے طلباء پر نظر ڈالی، فوراً ان کی نظر میرے اوپر ٹک گئی، انہوں نے شیخ الہندؒ سے پوچھا کہ یہ بچہ شادی شدہ ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں اسے کون لڑکی دے گا، یہ سکھ گھرانے کا لڑکا ہے اور یہاں کئی دفعہ بیٹھا ہوتا ہے، پڑھنے کے لیے تو اس کی ماں جو سکھ ہے وہ آتی ہے اسے گالیاں نکال کر چلی جاتی ہے، چپ رہتا ہے بے چارہ، اس درویش کو کون بیٹی دے گا؟ انہوں نے کہا کہ اچھا آپ ان سے پوچھیں اگر یہ تیار ہوں تو میں اپنی بیٹی کے ساتھ نکاح کر دوں گا؟ فرمایا پوچھ لیتے ہیں، شیخ الہندؒ نے پوچھا تو کہنے لگے کہ حضرت میں بے یارومددگار سا بندہ ہوں، اگر کوئی مجھے اپنا بیٹا بنائے اور اپنی بیٹی کا رشتہ دے تو میں تو اس سنت پر عمل کر لوں گا اور اس سے زیادہ خوش نصیبی کیا ہو سکتی ہے؟ انہوں نے بتا دیا، چنانچہ سسر نے کہا کہ کل عصر کے بعد ہم ان کا نکاح پڑھ دیں گے، فرمانے لگے کہ میں کمرے میں آ گیا،اب میں نے اپنے دوستوں کو بتا دیا کہ بھئی کل میرا نکاح ہونا ہے، لہٰذا یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سب لڑکوں میں پھیل گئی، اب لڑکے آنے شروع ہو گئے، جناب کوئی کچھ کہتا ہے، ایک نے کہا بھئی بات یہ ہے کہ یہ جو تم نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یہ تو بہت میلے کچیلے پرانے ہیں، تم کسی سے ادھار لے کر دوسرے پہن لو، میں نے کہہ دیا بھائی بات یہ ہے کہ میں نے کبھی کسی سے ادھار نہیں مانگا، جو ہیں میرے اپنے ہیں،میں کسی سے لے کر نہیں چلتا۔ ساتھی نے کہا اچھا اگر آپ کسی سے ادھار نہیں مانگ سکتے تو مت مانگئے، ایسا کریں کہ کل ان کپڑوں کو آپ دھو کر صاف کرکے پھر پہن لینا، مجمع میں کم از کم صاف کپڑوں میں تو بیٹھو گے، فرمانے لگے میری بدبختی آ گئی کہ میں نے ہاں بھر لی، اگلے دن سبق ختم ہوا تو میں نے دھوتی سی باندھی اور کپڑے اتارے اور ان کو دھو ڈالا۔ اللہ کی شان سردیوں کا موسم اوپر سے بادل آگئے،اب ظہر کا وقت بھی قریب آ گیا، میرے کپڑے گیلے میں مسجد کے پیچھے جا کر کپڑوں کو لہرا رہا ہوں اور اللہ سے دعا مانگ رہا ہوں، اللہ میرے کپڑے خشک کر دے، وہ تو نہ ہونے تھے نہ ہوئے اور ظہر کی اذان ہو گئی، اب مجھے مجبوراً گیلے کپڑے پہن کر سردی کے موسم میں مجمع میں بیٹھنا پڑا، اب سب کہیں کہ جی دولہا کون ہے؟ اب سب کی نظر مجھ پر پڑے اور پتہ چلے گیلے کپڑے سردی میں پہن کے بیٹھا ہے،فرمانے لگے میرے سسر کو اللہ نے وہ سونے کادل دیا تھا انہوں نے دیکھا کہ کل یہی کپڑے تھے اور میلے تھے، آج یہی ہیں اور گیلے ہیں، اس کا مطلب یہ کہ اس بچے کے پاس دوسرا جوڑا بھی نہیں ہے، ان کے دل پر اس بات کا کوئی اثر نہ ہوا وہ تو میری پیشانی کے نور کو دیکھ رہے تھے۔مرد حقانی کی پیشانی کا نور۔۔کب چھپا رہتا ہے پیش ذی شعور۔تو کہنے لگے انہوں نے میرا نکاح پڑھ دیا، جب میں فارغ ہوگیا،دورۂ حدیث سے اور رخصتی ہوگئی تو جب میں بیوی کو لے آیا تو ابتدائی ایک دو مہینے میرے پاس رہی، ان میں بھی اسے فاقہ کرنا پڑا، کیوں کہ میرے پاس تو کچھ ہوتا نہیں تھا، جو ملتا ہم دونوں کھا لیتے ورنہ فاقہ سے دن گزارتے۔مہینہ کے بعد وہ اپنے میکے گئی جیسے بچیاں جاتی ہیں، شادی کے بعد تو فرماتے ہیں کہ جب وہ اپنے گھر گئی تو اس کی ماں نے پوچھا بیٹی تو نے اپنے گھر کو کیسا پایا؟ فرمانے لگی،اتنی تقیہ تقیہ پاکباز وہ بچی تھی اپنی ماں سے کہنے لگی کہ امی میں تو سنتی تھی کہ مر کر جنت میں جائیں گے اور میں تو جیتے جاگتے جنت میں پہنچ گئی ہوں، اللہ اکبر کبیرا! اتنی صابرہ شاکرہ تھی، کہنے لگے بس پھر اللہ تعالیٰ نے میرے گھر میں برکتیں دینی شروع کر دیں، جب خاوند ایسا ہو اور بیوی ایسی ہو تو پھر برکتیں کیوں نہ ہوں گی، چنانچہ حضرت فرمانے لگے ایک وہ وقت تھا کہ کھانے کو نہیں ملتا تھا،اور ایک آج احمد علی پر وہ وقت ہے کہ میرے کھانے کے لیے طائف سے پھل آتے ہیں اور پھر انہوں نے فرمایا کہ سرگودھا کے علاقہ کے بڑے بڑے لوگ جو سرگودھا کے کلیار ہیں، ان کی بیویاں آج میرے گھر میں آ کر برکت کے لیے جھاڑو دے کر جاتی ہیں، اتنے بڑے لین لارڈوں کی بیویاں برکت کے لیے میرے گھر میں آ کر جھاڑو دے رہی ہیں، آج اللہ کا مجھ پر اتنا کرم ہے۔تو کتنی عجیب بات ہے کہ سکھ گھرانے کا بچہ جس کا کوئی اپنا نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں ایسی عزتیں عطا فرما دیں، چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ اپنی وفات کے بعد وہ علماء میں سے کسی بڑے عالم کو خواب میں نظر آئے، اس نے پوچھا حضرت آگے کیا بنا تو حضرت کثیر البکاء تھے (کثرت سے روتے تھے) خوف خدا ہر وقت دل پر رہتا تھا،فرمانے لگے اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوئی تو پروردگار نے فرمایا احمد علی تو اتنا روتا کیوں تھا؟ کہنے لگے جب مجھ سے پوچھا تو مجھے خیال آیا کہ نبی کریمؐ کا فرمان ہے ’’جس سے حساب کتاب میں پوچھ شروع ہو گئی وہ نہیں بچے گا‘‘ تو میں ڈر گیا اور جب میں ڈرا تو پروردگار نے فرمایا احمد علی اب بھی ڈر رہے ہو، آج تمہارے ڈرنے کا نہیں خوش ہونے کا دن ہے،ہم نے تمہیں معاف کر دیا اور جس قبرستان میں تمہیں دفن کیا وہاں کے سب گناہ گاروں کو بھی ہم نے معاف کر دیا، چنانچہ ان کی قبر کی مٹی سے خوشبو آیا کرتی تھی، ہزاروں انسانوں نے ان کی قبر کی مٹی اٹھا کر گھر لے جانا شروع کر دیا تھا، تو علماء متوجہ ہوئے، پھر انہوں نے مل کر مستقل دعا مانگی اے اللہ! بس جو چیز ظاہر ہو رہی ہے ، اس ظہور کو ختم کر دے، ورنہ لوگ مٹی ہی نہیں چھوڑیں گے،اللہ تعالیٰ نے اتنے صلحاء کی دعا کو قبول کر لیا، تب جا کر ان کی قبر سے خوشبو آنی بند ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ عزتیں عطا فرما دیتے ہیں، جس کا اپنا کوئی نہیں ہوتا ساری دنیا پھر اس کی بن جاتی ہے، جس کو کھانے کے لیے روٹی نہیں ملتی، اس کو کھانے کے لیے پھر طائف سے پھل آیا کرتے ہیں، ماشاء اللہ میرے دوستو آج کے زمانے میں تو یہ آسان ہے، جب بحری جہاز آتے جاتے تھے اس زمانہ میں طائف سے پھل آنا کوئی آسان کام نہیں تھا، تو اللہ رب العزت دنیا میں عزتیں عطا فرماتے ہیں۔