’’ لمحوں کی خطا نے زندگی اُجاڑ دی ‘‘

مشہور واقعہ ہے کہ ایک غریب گھر کی لڑکی تھی جو کہ خوب صورت تھی، ایک نیک امیر گھرانے کے بچے نے اس کی طرف شادی کی آفر بھیجی۔۔۔ شادی ہو گئی، ماں باپ بھی خوش تھے کہ بچی کی شادی اچھی جگہ ہو گئی ہے، اس کے بھائیوں کے لیے بھی کوئی روزگار کی صورت نکل آئے گی اور بچی خود بھی خوش رہے گی، جب یہ گھر پہنچی تو خاوند نے اس کے ساتھ بہت زیادہ محبت کا اظہار کیا،یہ اس محبت کو دیکھ کر نخرے میں آ گئی، خاوند جتنا زیادہ محبت کا

اظہار کرتا یہ اتنا اس کی طرف سے سرد مہری کا ثبوت دیتی، خاوند بہت زیادہ اس کی دلجوئی کرتا، صبح شام اس کی رٹ لگی تھی تم میرے گھر کی ملکہ ہو، تم نے میرے گھر کو جنت بنا دیا، میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی اچھی خوبصورت بیوی مجھے مل جائے گی، یہ جتنا زیادہ اپنی تعریفیں سنتیں اتنی زیادہ نخرے میں آتی، خیر کچھ دن گزرے، ایک دن روتی دھوتی اپنے گھر واپس آ گئی، خاوند اس کو میکے چھوڑ کر چلا گیا، ماں نے پوچھا: بیٹی کیا ہوا؟ کہنے لگی خاوند بہت زیادہ محبت کے موڈ میں تھا، مجھے پیار کر رہا تھا کہ میں اس کے ساتھ محبت کا اظہار کروں اور میں ایسے گم صم تھی جیسے مجھ پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا، بالآخر تنگ آ کر اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں اس قدر تم سے محبت کرتا ہوں کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے؟ کہنے لگی کہ پتہ نہیں کہ کیا میرے دماغ پر پردہ پڑا کہ میں نے اس وقت نخرے میں آ کر کہہ دیا کہ نہیں مجھے تم سے محبت نہیں ہے، بس یہ لفظ کہنے تھے کہ خاوند غصے میں آ گیا اور کہنے لگا کہ جب تمہیں مجھ سے محبت ہی نہیں تو جاؤ! جہاں محبت ہو وہیں زندگی گزارنا، میری طرف سے تمہیں تین طلاق ہے، اب جب شادی کے ایک مہینے بعد اس کو طلاق ہو گئی اور پھر ماں باپ کے گھر میں اس کو رہناپڑا تب اس کی آنکھیں کھلیں۔’’لمحوں نے خطا کی صدیوں نے سزا پائی‘‘پھر اس کے بعد اس کی دوسری شادی نہ ہو سکی، اس لیے کہ جو اچھے رشتے تھے کنواری لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے اور اس کے نام پر شادی کا دھبہ لگ چکا تھا، اور جو رشتے آتے تھے وہ بہت بوڑھے شادی شدہ لوگوں کے آتے تھے، ان سے شادی کرتے ہوئے یہ گھبراتی تھی، تو اس نوجوان، خوبصورت لڑکی کی زندگی روتے دھوتے ہی گزر گئی۔

 

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے

آپ اس خبر پر دوبارہ رائے نہیں دے سکتے - شکریہ

اپنی قیمتی رائے دینے کا شکریہ

Loading...
loading...