’’ اتنی عقل کہاں سے آئی‘‘

شیر‘ بھیڑیا اور لومڑبہت اچھی دوست تھے‘ تینوں نے شکار کرنے کیلئے چھوٹا سا گینگ بنایا‘ تینوں نے مل کرشکار کیا اور جب اس شکار کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو شیر نے سٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کر دیا‘ اس نے سب سے پہلے بھیڑیے سے پوچھا ”تم بتاؤ ہمیں یہ شکار کس فارمولے کے تحت تقسیم کرنا چاہئے“بھیڑیے نے فوراً جواب دیا ”جناب فارمولے کی کیا ضرورت ہے‘ بیل آپ کا ہوا‘ بکری میں کھاؤں گا اور خرگوش لومڑ کو دے دیا جائے“ شیر کو یہ فارمولہ اچھا نہ لگا‘ اس نے غصے سے بھیڑیے کی طرف دیکھا‘اسے زور سے

تھپڑمارا اور بھیڑیے کا سر اڑ کر دور گر گیا۔ بھیڑیا چند لمحے تک زمین پر تڑپتا رہا اور پھر اس کی جان نکل گئی۔ اس کے بعد شیر نے لومڑ کی طرف دیکھا اوراس سے کہا ”اب تم سٹریٹجک ڈائیلاگ شروع کرو“ لومڑ نے ادب سے سر جھکایا اور شیر سے عرض کیا ”جناب فارمولے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ خرگوش سے ناشتہ کریں گے‘ بکری آپ کے لنچ کے کام آئے گی اور بیل آپ کے ڈنر کیلئے حاضر ہے۔ رہ گیا میں تو میں آپ کو کھاتا ہوا دیکھ کر خوش ہو جاؤں گا۔میرے لئے آپ کی خوشنودی ہی کافی ہے“ شیر لومڑ کا جواب سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے اس سے خوشی سے پوچھا ”اے معزز لومڑ تم نے یہ عقل کہاں سے سیکھی“ لومڑ نے بھیڑیے کی لاش کی طرف اشارہ کیا اور عاجزی سے عرض کیا ”جناب میں نے یہ عقل اس نعش سے سیکھی“۔

 

 

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے

آپ اس خبر پر دوبارہ رائے نہیں دے سکتے - شکریہ

اپنی قیمتی رائے دینے کا شکریہ

Loading...
loading...