لکڑ ہضم، پتھر ہضم، لوہا ہضم

لکڑ ہضم، پتھر ہضم، لوہا ہضم بچپن کی معصوم حیرتوں کی تفصیل میں کیا جانا لیکن کچھ باتیں کبھی بھولتی ہی نہیں مثلاً میں نے جب کبھی ڈھکن کے بغیر کھلا مین ہول دیکھا تو پریشان ہوگیا کہ اگر میں اس میں گرجائوں تو کیا ہوگا؟پھر ذرا بڑے ہوئے تو معلوم ہوا کچھ بچے سچ مچ گر بھی جاتے ہیں اور بعض اوقات مر بھی جاتے ہیں ۔ مزید ہوش سنبھالا تو ’’علم‘‘ میں مزید اضافہ یہ ہوا کہ نشئی قسم کے لوگ مین ہولز کے یہ ڈھکن چرا کر اونے پونے لوہا پگھلانے والی بھٹیوں کے مالکان کو بیچ دیتے ہیں۔ اک اور بات جس نے کم سنی میں کافی دیر تک الجھائے رکھا یہ تھی کہ پانی کی سبیلوں پر موجود دھاتی گلاسوں کو زنجیروں میں کیوں جکڑ کے رکھا جاتا ہے۔ ان بظاہر سادہ سوالوں کے جواب بہت پیچیدہ بلکہ بیہودہ تھے جنہیں آج بھی آپ کے ساتھ شیئر کرنے کی جرأت نہیں حالانکہ وقت اور تجربات نے اچھی طرح سمجھادیا ہے کہ ہم جیسے معاشروں میں ایلیٹ یعنی اشرافیہ ہوتی ہی دو قسم کی ہے۔اول:جو لکڑ ہضم، پتھر ہضم اور لوہا ہضم ہوتے ہیں اور پیدائشی طور پر ہی ا یسے ہوتے ہیں۔دوم:وہ جو ’’مسلسل محنت‘‘ اور’’پریکٹس‘‘ کے بعد لکڑ، پتھر اور لوہا وغیرہ بخوبی و بہ آسانی ہضم کرنے کا ہنر سیکھ لیتے ہیں جن کی دیگر اقسام میں گیس، کوئلہ، ایفی ڈرین وغیرہ بھی شامل ہیں اور جو ایسی ثقیل غذائیں بھی دلیے، ساگودانے کی طرح ہضم کرلیں ان کے لئے کمیشن، کک بیک وغیرہ تو ظاہر ہے بہت ہی زود ہضم خوراکیں ہوں گی۔یہ سب کچھ ایک بہت ہی دلچسپ خبر پڑھ کے یاد آیا جسےآپ کے ساتھ شیئر نہ کرنا بدذوقی ہوگی۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ ریل گاڑیوں کی چھتوں کی چادریں، کھڑکیاں، دروازے، بریکیں اور وہیلز وغیرہ چور ی کرکے کباڑ خانوں کو فروخت کئے جارہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گڑھی شاہو، شاہدرہ، مغلپورہ، دھرم پورہ اور دیگر مقامات پر کھڑی ریلوے کی ’’لاوارث‘‘ بوگیوں میں سے قیمتی سامان اتار کر بلکہ نوچ نوچ کر شہر کے مختلف کباڑ خانوں میں فروخت کیا جارہا ہے۔ مصری شاہ میں لوہا پگھلانے والی فرنسز کے مالکان بلکہ معزز مالکان بھی اس کار خیر میں شامل ہیں۔ بچپن والے مین ہولوں کے ڈھکنوں کی طرح چوری کا یہ قیمتی لوہا و دیگر سامان اونے پونے داموں خرید کر بھٹیوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ باقی سامان یعنی کھڑکیاں، شیشے، لکڑی، پلاسٹک وغیرہ الگ سے بیچ دئیے جاتے ہیں۔’’بیچ دے‘‘ اس ملک میں کہاں کہاں عروج پر نہیں۔مقامی طور پر...........’’بیچ دے‘‘بیرون ملک...........’’خریدنے‘‘گھسے پٹے ذرائع کے مطابق ریلوے ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتا ہے لیکن چند نہیں بہت سے چور ریلوے ملازمین کے ساتھ مل کر ریڑھ کی اس ہڈی کے موہرے بے مول بیچ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب ’’سی پیک‘‘ کی مال برداری کا کام ریلوے کے ذمہ ہے، بوگیوں سے کروڑوں روپے کا سامان چوری ہو کر ریلوے کو مزید کھوکھلا کررہا ہے، کسی کے لئے لمحہ فکریہ نہیں کیونکہ لکڑ ہضم، پتھر ہضم، لوہا ہضم ذہنیت غور و فکر سے بے نیاز ہوتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں لوہے کے بعض کارخانے ریلوے کے بل بوتے پر ہی زندہ ہیں۔ ریلوے کے اندر موجود ایک انتہائی مضبوط مافیا اچھی حالت کی مشینری کو بھی سکریپ میں بدل کر ان فیکٹریوں (فائونڈریز؟) کو فروخت کررہا ہے۔ دوسری طرف ریلوےمیں ملازموں کا بھی سیلاب ہے۔ ایک ایک اسامی پر پانچ پانچ افراد تعینات ہیں۔قارئین!میں نے سالوں پہلے برصغیر میں ریلوے متعارف کرانے کے بارے میں ایک کتاب پڑھی تھی کہ غاصب گورے نے کس طرح کیسی منصوبہ بندی اور کتنی جانفشانی سے اس خطہ میں ریلویز کا جال بچھایا اور اس پر کتنی بھاری لاگت آئی۔ یہ سچی اور زندہ کہانی کسی طلسم ہوشربا یا الف لیلیٰ سے کہیں زیادہ دلچسپ، ناقابل یقین اور ششدر کر دینے والی تھی۔ میں آج تک اس سچی کہانی کے سحرسے نہیں نکلا۔ یقیناً ’’سی پیک‘‘ سے کہیں بڑے اس محیرالعقول پراجیکٹ کے پیچھے گورے کی اپنی ترجیحات، ضروریات و مفادات ہوں گے لیکن وہ اس خطہ کے لوگوں کو کیا دے گیا؟ہم نے اس کے ساتھ کیا کیا اور کئے چلے جارہے ہیں تو فرق صاف ظاہر ہے۔ میں اپنی لائبریری کھنگال رہا ہوں، اگر یہ کتاب مل گئی تو اس کی ہائی لائٹس ’’چوراہا‘‘ میں رکھ دوں گا تاکہ عام قاری ’’آزادی‘‘ سے پہلے اور بعد کی گورننس کا موازنہ کرسکے۔یہ ساری تباہی، بربادی، خود غرضی، بے حسی اور وطن دشمنی ٹاپ پر کرپشن سے شروع ہوتی ہے جو نیچے تک سرایت کرتی ہے۔ میں نے ایک بار لکھا تھا اور یہ’’کالا قول‘‘ میری کتاب میں بھی شامل ہے کہ’’جب اوپر آئین ٹوٹتا ہے، نیچے ٹریفک کا سگنل ضرور ٹوٹے گا کیونکہ عام آدمی زیادہ سے زیادہ’’اشارہ‘‘ ہی توڑ سکتا ہے‘‘پرویز مشرف صاحب کے ٹیک اوور پر عرض کیا تھا’’جوزمین پر قبضہ کرلے وہ قبضہ گروپ اور جو سرزمین پر قبضہ کرلے وہ صدر مملکت‘‘۔تو سوال یہ کہ یہ سب ہوتا کیوں ہے؟صرف اس لئے کہ جمہوریت’’ڈی ریل‘‘ ہونے کا ماتم کرنے والے جمہوریت کے لکڑ ہضم، پتھر ہضم، لوہا ہضم چیمپیئنز خود ڈی ریل ہو کر کبھی سرے محل تو کبھی پاناما پہنچ جاتے ہیں اور جب یہ خود ڈی ریل ہوتے ہیں، جمہوریت ان کی دیکھا دیکھی ڈی ریل ہوجاتی ہے۔