بلا عنوان

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جب ناپاکی اور پاکیزگی کے تعین کا یہ عوام دوست پراسیس مکمل ہو کر اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا،’’کالیاں چٹیاں وکھووکھی‘‘ کردی جائیں گی یعنی کالا اور سفید چھانٹ چھانٹ کر علیحدہ کردیا جائے گا، غلاظت اور طہارت میں واضح اور جلی ترین لکیر کھینچ دی جائے گی، ڈکیتیوں کے ثبوتوں کے ڈھیر سامنے آجائیں گے، کھربوں ڈالر کی جائیدادوں کی تصویریں عام ہوجائیں گی تو ان سیاسی اور فکری دروغ گوؤں کا کیا بنے گا جو تمام تر خوبصورت قدروں کو پامال کرکے، بالائے طاق رکھتے ہوئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں.......یہ سب اندر سے پوری طرح جانتے ہیں کہ چور کون ہے؟ ڈاکے کس نے ڈالے لیکن اپنی چند ہڈیوں، چھیچھڑوں کے لئے نیلام گھر کی اشیاء بنے ہوئے ہیں، نہ وطن کا خیال نہ اہل وطن کا احساس تو کل جب سب کچھ ناقابل تردید اور عریاں ہوجائے گا تو یہ کریں گے کیا؟ جائیں گے کہاں؟ مجھ جیسے قبر کنارے پہنچے کیسز کو تو چھوڑیں لیکن جو چنڈال، خلال ابھی جواں سال ہیں، ان کا حال کیا ہوگا؟ ان کا بنے گا کیا؟ مجھے ان پر ترس آتا ہے، مجھے ان کے ساتھ ہمدردی ہے اور ہمدردی اس لئے کہ بھائی بیٹے تو ہمارے ہی ہیں۔کب تک دھول اڑائو گے؟ کب تک کنفیوژن پھیلائو گے؟ کب تک عوام کی جہالت زدہ جذباتیت کا استحصال کروگے؟ملک اور قوم کا نہ سہی، اپنا ہی سوچ لو ........ ایسے ایسے بھیانک انکشافات ہونے جارہے ہیں کہ تمہاری زبانیں پتھرا جائیں گی، تمہارے قلم تم سے روٹھ جائیں گے، تمہاری تقریریں اور چاپلوس تحریریں تمہارے لئے عذاب اور دہکتی ہوئی زنجیریں بن جائیں گی، تمہارے لئے حساب دینا مشکل ہوجائے گا کہ تم نے جونیئر اور نالائق وائس چانسلرز کیسے لگوائے؟ لاڈلیوں کو لاکھوں کے پیکیج کیسے دلوائے؟ جن کی تین تین نسلوں کی رگوں اور نسوں میں ن کا نمک ہو اور وہ دیوانہ وحشیانہ وار دفاع کریں تو بات سمجھ آتی ہے لیکن چند روزہ رفاقت پہ اتنا ادھم تو اسلم گورداسپوری جیسا درویش یاد آتا ہے جس نے کہا؎حد سے زیادہ چاہئے رندوں کو احتیاط شیشے کے ہیں یہ ساغر و مینا بنے ہوئےافسوس جتنے عقل کے اندھے یہاں پہ ہیں وہ قوم کے ہیں دیدہ و بینا بنے ہوئےسپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کا آغاز ہوچکا۔ شریف فیملی، ڈار اور صفدر کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا فیصلہ ہوچکا تو خاطر جمع رکھیں کہ کارروائی صرف جمہوری جنات تک محدود نہیں رہے گی،افسران ا ور سوداگران تک قسم قسم کے بے ایمان لپیٹ میں آئیں گے اور سمیٹ دئیے جائیں گے۔ دعا صرف اتنی ہے کہ ماضی کی طرح احتسابی عمل کسی بھی قسم کے کومپرومائز سے محفوظ رہے کیونکہ سانپوں کو زخمی کرکے چھوڑ دینا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔صرف زیر زمین پانی میں ہی نہیں، پورے معاشرے میں زہریلے مادے خطرناک حد تک پہنچ گئے ہیں۔ لاہور کے 8ٹائونز کے زیر زمین پانی میں ارسینک کی آمیزش 47سے 111مائیکرو گرام فی لیٹر تک پہنچ چکی جبکہ عالمی معیار کی حد صرف10تک ہے۔ میں پہلے بھی اس موضوع پر لکھ اور بول کر وقت ضائع کرچکا ہوں۔ زمین کے اوپر اور نیچے ہرجگہ صفائی اور تطہیر ناگزیر ہوچکی۔10 مائیکروگرام فی لیٹر والی عالمی حد سے مجھے والیوم نمبر دس کی یاد آتی ہے جسے ن لیگ زور و شور سے کھلوانا چاہتی تھی لیکن پھر ایک آدھ جھلک دیکھتے ہی جوش ٹھنڈا پڑگیا اور اب’’ن‘‘ اس کا نام لیتے ہوئے بھی کانپتی ہے۔ بھلا ہو نعیم بخاری کا جس نے ایک انٹرویو میں والیوم 10کے حوالہ سے بتایا کہ اس میں نواز شریف کی بھارت میں سرمایہ کاری کے ایسے ثبوت ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ میں اس میں تھوڑا سا اضافہ کرسکتا ہوں لیکن مناسب نہیں......جس کا کام اسی کو ساجھے۔8اگست کو ڈاکٹر طاہر القادری کی واپسی کا اعلان ہوا ہے۔ چودہ قبروں سے ایک صدا آتی ہے’’آپھر سے ہمیں چھوڑ کے جانے کے لئے آ‘‘ کبھی ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ ضرور پوچھوں گا کہ’’حضرت!کیا آپ اپنے چودہ شہیدوں کو انصاف دلانے کے لئے اپنی جدوجہد سے مطمئن ہیں؟‘‘ ڈاکٹر صاحب شاید مطمئن ہوں لیکن میں ایک’’آئوٹ سائیڈر‘‘ اور عام پاکستانی ہوتے ہوئے بالکل مطمئن نہیں ہوں۔ یہ چودہ معصوم اور مظلوم یقیناً اس سے کہیں زیادہ توجہ اور بہتر سلوک کے مستحق تھے جو ان کے ساتھ روا رکھا گیا۔ یہ سلوک مجھے ہمیشہ یہ قول یاددلاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ اقتدار کے کھیل میں نہ کوئی یار ہوتا ہے نہ رشتہ دار اور خون خاک نشیناں نے رزق خاک ہی ہونا ہوتا ہے۔