پاناما کا ہنگامہ اور سوشل میڈیا ... عمر گوندل

سب سے پہلے میں یہ واضح کرتا چلوں کہ میں کسی سیاسی جماعت کا "ورکر" نہیں ہوں ۔ میں بس ایک عام سا پاکستانی ہوں جس کو پاکستان کی موجودہ صورتحال دیکھ کراپنے بچوں کا مستقبل بہت ہی "مخدوش" نظر آتا ہے لیکن اقبال کا شعر "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ" کو مدنظر رکھتے ہوں دل میں ایک امید جگتی ہے کہ شاید میرے بچوں کا مستقبل " تابناک" نہ سہی "خوشحال" ہی ہو جائے۔ پاناما کے کیس کا فیصلہ محفوظ ہوا اوراس کے بعدسوشل میڈیا ایک عجیب ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ جب سے پاناما کا "جن" پٹارے سے باہر آیا ہے سوشل میڈیا پر ایک طوفان بھرپا ہے جس میں کوئی شریفوں کے حق میں اور کوئی مخالفت میں بیان بازی کر رہا ہے ۔  

پاناما کیس شروع ہونے سے لیکر جےآئی ٹی بننے تک، جے آئی ٹی کے کام شروع کرنے سے رپورٹ جمع کروانے تک، رپورٹ جمع کروانے سے لیکر سپریم کورٹ کی 5 پیشیوں کے بعد فیصلہ محفوظ ہونے تک ۔ میرے حساب سے یہ 3 فیز بنتے ہیں ، اس دوران کون سادھ نکلا کون چور سب آپ کے سامنے ہیں ۔  بس اب حتمی " ٹھپہ" لگنا باقی ہے۔

سوشل میڈیا پر جس طرح سے نواز شریف اور عمران خان کا آپس میں تقابل کیا جا رہا ہے وہ بنتا نہیں کیونکہ اگر عمران خان نے کرپشن کی بھی ہو گی تو کیسے کی ہو گی؟ موقع تو اسے ملا نہیں ۔۔۔۔۔ نہ تو کبھی اس ملک کا وزیر اعلی رہا اور نہ وزیر اعظم ۔ میرا گزشتہ مشاہدہ اور تجربہ کہتا ہے کہ جتنے زور و شور کے ساتھ شریف خاندان اور ن لیگ کے خلاف سوشل میڈیا پر عوام نے ان کی مٹی پلید کر رکھی ہے اسی زور و شور کے ساتھ انہی کرپٹ حکمرانوں کو پھر سے اپنے ووٹ بیچیں گے کیوںکہ ووٹ بیچنا ہمارا ہی کلچر ہے ہمارے نظر میں ووٹ کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہم تھوڑے سے وقتی مفاد یا برادری ازم کے چکر میں اپنے ملک کو رفتہ رفتہ تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں ۔ اگر عوام چاہئے تو کسی کو کرپشن کرنے کی جرات نہ ہو ۔ لیکن ہم خود کرپشن کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں جس کے کئی طریقہ کار ہیں ۔

کرپٹ حکمرانوں نے اس ملک کے ساتھ کیا سلوک کیا اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ موجودہ ملکی صورتحال ہی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ اس ملک کے ساتھ کیا کیا ظلم و ستم روا رکھا گیا اور اور عوام کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا؟

پہلی دفعہ کوئی کرپٹ حکمران فیملی "پاناما کی کٹرکی" میں پھنسی ہے کرپشن تو زرداری صاحب کے دور میں بھی کم نہیں ہوئی لیکن اس وقت کوئی پاناما لیکس غیبی امداد کی صورت میں سامنے نہیں آئی تھیں ۔ شریف خاندان کی پاناما کے ساتھ اور بہت سی کرپشن کی کہانیاں کھلتی جا رہی ہیں اور ایسی ایسی ڈرامائی صورتحال سامنے آئی ہے جس نے ہر صاحب شعور انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ پاکستانی عوام کے پاس اس وقت ایسا سنہری موقع ہے جس سمجھیں تو انقلاب کے مترادف ہے لیکن اگر اس کو مناسب طریقے سے استعمال کیا گیا تو ۔۔۔۔۔ ورنہ صرف شریف خاندان کو کرپشن کے جرم کی سزا دینے سے ملک سے کرپشن اور بے ایمانی ختم نہیں ہو گی اس کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے سب کرپٹ انسانوں کو سیدھا کرنے پڑے گا تب کہیں جا کر کرپشن کے ناسور سے نجات ملے گی اور ملک میں کچھ بہتری آئے گی لیکن اس کے لئے پوری قوم کو سوشل میڈیا سے ہٹ کر اپنی عام زندگی میں بھی اتنی ہی ہمت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا جتنا سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں۔ اپنی توانائیوں کو استعمال میں لا کر علاقائی سطح پر اپنا اپنا حصہ ڈالیں ۔ آئندہ الیکشن میں اپنی ووٹ کو پوری ایمانداری کے ساتھ کسی ایماندار شخص کو دیں اپنا علاقہ کہ کسی ایماندار شخص کو الیکشن میں کھڑے ہونے میں مدد کریں اور اپنے اپنے علاقے میں سے ایماندار شخص کو ووٹ ڈال کر جتوائیں۔ اگر ہم علاقائی بنیاد پر بحثیت ایک دردمند پاکستانی اپنے بچوں کو روشن مستقبل دینے کے لئے کوشش کریں گے تو پھر شاید اس ملک کا مقدر بھی سنور جائے لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ جاننے کے باجود کے ان حکمرانوں نے ہمیں جی بھر کر لوٹا ہے ہم پھر بھی ذاتی مفاد کے چکر میں انہی کو "الیکٹ" کرواتے ہیں اور اجتماعی مفاد کے "جوڑوں میں بیٹھ" جاتے ہیں۔ برائے کرم اپنے ووٹ کوذاتی مفاد کے چکر میں فروخت نہ کریں بلکہ ملکی مفاد اور اپنے بچوں کے مستبقل کے بارے میں تھوڑا سا غوروفکر ضررو کر لیں۔ ورنہ یہ کرپٹ حکمران جائیں گے تو کوئی اور کرپٹ آگے آ جائے گے اپنا حصہ وصول کرنے ۔۔۔۔ اور آئندہ آنے والے وقت میں ہمارے بچے روٹی کو بھی ترسیں گے۔

 

نوٹ: ادارہ اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

 

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے

آپ اس خبر پر دوبارہ رائے نہیں دے سکتے - شکریہ

اپنی قیمتی رائے دینے کا شکریہ

Loading...
loading...