مکافات عمل کیا ہے ؟

لاہور(شیر سلطان ملک)یہ  جولائی 2012ہے،شہر احمد پور شرقیہ ہے۔ ایک دماغی ابنارمل آدمی، غلام عباس، کو قرآن پاک کے اوراق جلانے کے جھوٹے الزام کے تحت گرفتار کر کے پولیس سٹیشن لایا گیا۔ بعد ازاں،گاﺅں کی مسجد سے لاو¿ڈ سپیکر اعلان کیا گیاکہ اس آدمی نے توہینِ قرآن کی ہے اور وہ حوالات میں بند ہے۔ اس پہ گاؤں والے مشتعل ہو کے گھروں سے نکل آئے اور مرکزی لاہور کراچی ہائی وے بلاک کر دی۔ حوالات کے دروازے توڑ کر اس دماغی ابنارمل شخص کو نکال کے شاہراہ پر لایا گیا،اس پر پٹرول چھڑکااور اسے آگ لگا دی۔

لگ بھگ دو ہزار کا ہجوم زندہ جلتے او ر چیختے چلاتے انسان کو وہاں کھڑا دیکھتا رہا اس دوران پتھر بھی مارے جاتے رہے۔سنگ باری کرنے اورتماشہ دیکھنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کواس نوجوان کی بے گناہی کا علم تھا۔اب اس واقعہ کو پورے پانچ سال گزر چکے ہیں مگر وہی گاﺅں ہے وہی مسجد ہے اور وہی شاہراہ ہے۔ چالیس ہزار لٹر پٹرول لیجاتا ٹرالر الٹ گیا۔ لوگوں کو مسجد کے لاو¿ڈ سپیکر سے لیک ہوتے پٹرول کی نوید سنائی گئی۔لوگ بھاگم بھاگ وہاں جاپہنچے۔ ٹینکر دھماکے سے پھٹ گیا ۔ آگ نے وہاں موجودہجوم کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پورے دو سو افراد عین اس جگہ جل کے راکھ ہو گئے جہاں غلام عباس کو پانچ سال پہلے زندہ جلایا گیا تھا۔اگر یہ اتفاق ہے تو بھی مکافات عمل کی اٹل حقیقت کا بیانیہ ہے۔

مریم نواز کہتی ہیں کہ فیصلہ عرش والے کا چلے گا۔اس کے فیصلے تو متقی و پرہیزگار بھی متحمل نہیں ہوسکتے،اللہ کے انصاف سے ڈریں،اللہ سے رحم کرم کی بھیک مانگیں۔اس کے فیصلے مکافات عمل کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

 

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے

آپ اس خبر پر دوبارہ رائے نہیں دے سکتے - شکریہ

اپنی قیمتی رائے دینے کا شکریہ

Loading...
loading...