پرویز مشرف اور فاروق لغاری کا استاد رہنے والے شخص کے ساتھ پاکستان میں کیا سلوک ہو ا اور وہ کس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے ؟ معاشرے کے پول کھول دینے والی خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک)ڈ اکٹر زوار زیدی قائداعظم اکیڈمی کے ہیڈ اور قائد اعظم پیپر پراجیکٹ ایڈیٹر اِن چیف تھے۔ ان کے ہزاروں شاگردوں میں مستقبل کے دو صدر فاروق لغاری اورپرویز مشرف بھی شامل ہیں۔ڈاکٹر زیدی مکمل سکالر، دانشور اور بہترین دوست تھے ۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کے شاگرد ان کی زندگی کا واحد اورعظیم اثاثہ ہیں۔ وہ قائد اعظم کے سچے پیروکار تھے اور اکثر اپنی بیوی کا کہا دہراتے تھے کہ وہ کھاتے جناح کے ساتھ ہیں ، باتیں جناح کے ساتھ کرتے ہیں اور سوتے جناح کے ساتھ ہیں ۔وہ 1928میں پیدا ہوے انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پاکستان حاصل کرنے کی کوششوں میں پوری طرح شامل رہے اور سٹوڈنٹ لیڈر کے طور پہ قائد اعظم ان کا علی گڑھ کے آخر الزکر دوروں میں انتظار کیا کرتےتھے۔ قائداعظم کی شخصیت اور قیادت کا نوجوان زیدی کے دماغ پر بہت اثر تھا۔

ڈاکٹر زیدی نے ایف سی کالج لاہور میں 14سال پڑھایا۔ پھر وہ سکول آف ارئینٹل اینڈ افریقن سٹڈیزکے لیے لندن یونیورسٹی چلے گئے،جہاں انھوں نے پارٹیشن آف بنگال پر تھیسز مکمل کیے۔ 1960 کے بیچ میں انھوں نے یو نیورسٹی میں لیکچرار شپ کی۔ جلد ہی وہ سٹینلے وولپرٹ کے الفاظ میں ساوتھ ایشیاء کے ایک عظیم مستند سکالر کہلائے۔

حتیٰ کہ ایک بار میں نے وولپرٹ کو کہتے ہوے سنا کہ وہ اس موضوع کے عظیم دانشور ہیں۔ وہ ایس او ای ایس میں ساڑھے تین دہایاں کام کرتے رہے۔ اس دوران وہ لندن کے پاکستانی شاگردردوں کے لیے ایک بے ضر پدرانہ شخصیت رہے۔ ریسرچ اورتدریس کے علاوہ انھوں نے درجنوں پی ایچ ڈی سکالرز کی راہنمائی بھی کی ۔ ان کی ساری زندگی کا مقصد جناح کے کاغزات کو جمع کرنا ،ان کی بحالی، ان کو محفوظ رکھنا، ان کو مکمل کرنا، ان میں ترمیم کرنا، اور ان کو شائع کرنا تھا ۔ وہ اپنی تعلیمی اور غیر تعلیمی چھٹیوں میں پاکستان آتے اور مجموعہ کے مسائل دیکھتے جو 150000 دستاویزات پر مشتمل تھا۔انہوں نے ایوب خان سے لے کر سارے صدور پر زور دیا کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کے لیے پاکستان کے بانیوں کی امیرانہ روایت ترک کریں۔ ان کی یہ خط و کتابت ان کے حوصلے، پریشانی اور آمادگی کی عکاس ہے۔

1990 میں آخر کار انہوں نے گورنمنٹ کو قائل کر لیا کے وہ اس منصوبے پر کام کرے۔ انہوں نے اپنی خدمات کسی معاوضے کے بغیر پیش کیں۔ انہوں نے لندن یونیورسٹی کی جاب اس عالیشان قومی مقصد کے لیے قربان کر دی جس کا اکثر وہ حوالہ دیا کرتے تھے۔ اس عرصے میں انہوں نے جناح پر درجنوں کتابیں لکھیں ۔ ان کا جنون اس حد تک تھا کہ وہ دن کے 18 گھنٹے کام کیا کرتے تھے،جبکہ وہ بزرگ تھے اور بیمار بھی تھے۔

ان کو 1993 میں قومی سطحہ کے سکالر کی خدمات پر ستارہ امتیاز سے نوازہ گیا۔ وہ ایک با اصول شخص تھے۔ میں نے انہیں ایک وزیر سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے خود سنا ہے۔ وہ وزیر انہیں اس کے اپنے رشتہ دار کی نوکری لگوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ درخواست میرٹ کے خلاف بھرتی کے لیے تھی اور ڈاکٹر زیدی میرٹ کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ڈاکٹر زیدی نے وزیر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ میرے معاملات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہو۔ فون واپس رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس طرح کے لوگ قائد اعظم کے لیے پانی کی بوتلیں اٹھائے پھرتے تھے۔

انہوں نے ایس او اے ایس فیکلٹی سے 1992 میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد یونیورسٹی میں انہیں سینئر ریسرچ فیلو تعینات کر دیا گیا اور وہ تاحیات یونیورسٹی سے منسلک رہے۔ ایک اور مضحکہ خیز واقعہ یہ تھا کہ ان کی موت سے چند ماہ قبل انہیں خاندان سمیت سرکاری رہائش سے بے دخل کر دیا گیا۔ ایک ایسا ملک جہاں عام لوگ جن میں سے زیدی صاحب کے سابقہ شاگرد بھی شامل تھے غیر قانونی طور پر کئی سال تک سرکاری رہائش میں مقیم رہے وہاں فراز اور زیدی جیسے عظیم لوگوں کو سرکاری رہائش سے سازو سامان کے ساتھ گلی میں چھوڑ دیا گیا۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ یہ کتنا ظلم تھا جو زندگی بھر یہ شعر دہراتا رہا:

تمام عمر احتیاط سے گزری کہ آشیاں کسی شاخ بر پر بار نہ ہو

اپنی بے لوث خدمات کے باوجود ڈاکٹر زیدی اس ناشکری قوم کے فیصلے سے بچ نہ سکے۔ زوار حسین زیدی تقریبا 20 کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے 13 انگریزی، 6 اردو اور ایک فارسی زبان میں لکھی گئی تھی۔(بشکریہ : دنیا پاکستان )