شیخ صاحب گڈی لے جاؤ پیسیاں دی فکر نہ کرو گھر دی گل اے : شیخ رشید اور نور اعوان کے درمیان جھگڑا دراصل کس بات پر ہوا ؟ صف اول کے صحافی نے قصہ ہی ختم کر دیا

لاہور (ویب ڈییسک) شیخ صاب گڈی لےجاﺅ، پیسیاں دی فکر نہ کرو، گھر دی گل اے۔ جب شیخ رشید مسلم لیگ ن میں تھا، عہدے پر تھا تو مسلم لیگ ن کے ورکر نے کرپشن کی گاڑی بطور رشوت دی۔ اب جب شیخ رشید مسلم لیگ ن کی ازلی دشمن تحریک انصاف کا لاﺅڈ سپیکر بن گیا تو مسلم لیگی ن کو گاڑی کی وصولی یاد آگئی؟ پارلیمنٹ کے باہر اس اوچھی حرکت کا مقصد میڈیا کوریج سے قائدین کو خوش کرنا تھا۔ نمبر بنانے تھے۔ حکومت سٹپٹا چکی ہے۔ حسین نواز کی جے آئی ٹی سے لیک شدہ تصویر بھی حکومت کے خلاف گئی ہے اور اب یہ گاڑی والا گلو بٹ بھی حکومت کی بدنامی کا باعث بنا۔ شیخ کو گاڑی دیتے ہوئے اسی قسم کے جملے بولے ہوں گے کہ گاڑی بھیج رہا ہوں، شیخ صاب پیسوں کی فکر نہ کیجئے گا وغیرہ۔۔۔

اور اب مریم نواز کے میڈیا سیل سے ہدایت جاری ہو گئی ہو گی کہ شیخ کو دو کھڑکا دو۔ بس پھر کیا تھا ایک اور تماشہ پیش کر دیا گیا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید 22 لاکھ روپے کے مقروض نکلے اور قرض خواہ مسلم لیگ ن جاپان کے صدر ملک نور اعوان نے اجلاس سے باہر آنے والے شیخ رشید کو پارلیمنٹ کے باہر پکڑ لیا اور الزام عائد کیا کہ شیخ رشید نے 1998ء میں مجھ سے گاڑی خریدی لیکن گاڑی کے 22 لاکھ روپے ادا نہیں کیے، شیخ رشید تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واپس ایوان میں گئے اور معاملہ ا±ٹھایا جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی ہدایت پر ملک نور اعوان کو تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے گرفتار کر لیا جبکہ شیخ رشید سے ملاقات میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔۔۔۔ کون سی کارروائی اور کیسی کاروائی جناب؟ کاروائی بھی شیخ پتر سے رقم نکلوانے جیسی نا ممکن بات ہے۔ گاڑی تحفہ کرنے والا ملک بھی ہے اعوان بھی اور حرکت شوہدوں جیسی؟ 1998ءسے چپ بیٹھے ملک اعوان کو بیس سال بعد یاد آیا کہ شیخ نے گاڑی کے پیسے نہیں دیئے؟ عمران خان نے ٹینٹ والے اور میوزک بینڈ والے کے پیسے نہیں دئیے تھے۔ انہیں تجربہ ہے کہ یہ لوگ کس طرح راہ جاتے بندے کا گریبان پکڑ سکتے ہیں۔ اسی لئے تو شیخ صاب کے حق میں کلمہ جہاد بلند کر دیا کہ جس نے ان کے گلو شیخ کو ہاتھ لگایا اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے۔ مسلم لیگ ن اپنے گلوﺅں کو سمجھا کر رکھے معاملات پہلے ہی حساس صورت اختیار کر چکے ہیں مزید تماشے کارگر ثابت ہونے والے نہیں۔ ملک اور شیخ کا تماشہ، کرپشن کا مال کرپشن میں چلا گیا بات ختم۔ نہ شیخ جھوٹا نہ ملک جھوٹا۔ حق حلال کی کمائی میں وزیروں کو گاڑیوں کے تحفے نہیں دیئے جا سکتے اور نہ وزیر اعظم کے بیٹے کی تصویر لیک کرانا ماڑے بندے کے بس میں ہے۔ جے آئی ٹی سخت سکیورٹی میں تصویر کا منظر عام پر آنا، پاور فل بندہ ملوث ہے۔ حسین نواز کی تصویر لیک کرانے کا مقصد عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا تھیں مگر تدبیر الٹی پڑ گئی۔ عوام نے جب خوب سنائیں کہ ہم روزانہ عدالتوں میں خوار ہوتے ہیں اگر وزیر اعظم کا بیٹا چند گھنٹے پیشی بھگت گیا تو ترس کی کیا بات ہے؟ عوامی رد عمل پر حکومت نے تصویر کا جرم اپوزیشن کے گلے ڈال دیا۔ کچھ واقعات بڑے واضح ہوتے ہیں دل و دماغ ڈرامے قبول نہیں کرتا خواہ لاکھ پروپیگنڈہ کیا جائے۔ نہال ہاشمی کاڈرامہ ”ابھی پارٹی شروع ہوئی ہے“ کے مصداق لسی بننے جا رہا ہے۔ نہال ہاشمی کہتا ہے مجھ سے اجتماعی زبردستی ہوئی ہے۔ پھر شرعی حد تو بنتی ہے۔ خود بھی مذاق بنتے ہیں اور ملک کو بھی مذاق بنا رکھا ہے۔ عوامی ہمدردیاں لینے کے لئے کئی قسم کے ڈرامے کرواتے ہیں۔ ڈرامے الٹے پڑ جایئں تو مکر جاتے ہیں سیدھے پڑ جایئں تو نکھر جاتے ہیں۔ پرویز رشید، مشاہد اللہ، نہال ہاشمی، حسین نواز کی بوقت پیشی تصویر اور اب شیخ رشید کے گلے پڑا ملک۔۔۔ یہ تازہ سٹوریاں ہیں جبکہ ماضی تماشوں سے بھرا پڑا ہے۔ سرکاری کالم نگار لکھتا ہے کہ اسے سیاسی کالم لکھنا پسند نہیں مگر دلچسپ بات کہ نواز حکومت سے عہدے ہمیشہ سیاسی لیتا ہے۔ بغیر مفادات کے میاں صاحبان کے حق میں یہ لوگ دو جملے لکھنے کا تکلف نہیں کرتے۔ میاں صاحب کی عزت اور سیاست اس وقت داﺅ پر لگی ہوئی ہے اور اب بھی انہیں آئینہ دکھانے کی کسی میں ہمت نہیں۔ کوئی انہیں بتائے کہ قطر کی کھل کر حمایت کی جائے۔ سعودی عرب اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔ اسامہ بن لادن سعودی باشندہ القاعدہ کی دہشت گردی کے بعد کسی دوسرے ملک پر دہشت گردی کا الزام دھرنا سعودیہ کو سوٹ نہیں کرتا۔ ایران، قطر اور کسی بھی مسلم بھائی سے مخالفت سعودی عرب کو تنہا کر سکتی ہے۔ خارجی پالیسی میں پاکستان یعنی نواز حکومت کو بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے اور داخلی پالیسی میں اپنی جماعت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی تعلیم واپس لینی چاہئیے۔ ورکروں کے بھونڈے ہتھکنڈوں سے میاں صاحب کا نام خراب ہو رہا ہے۔ عمران خان کا کیا ہے کبھی بنی گالہ کبھی نتھیا گلی۔۔۔۔ خان کو چھان بورا اکٹھا کرنا ہے جس گلی یا گالہ سے مل جائے۔ چھان بورے سے الیکشن نہیں جیتا جا سکتا۔ خاکم بدہن خان کو کچھ ہو گیا تو بے نظیر بھٹو کی طرح قاتل کا سراغ نہیں ملے گا۔اللہ تعالی عمران خان کو زندگی دے۔۔۔۔ بنی گالہ میں بیٹھ کر چھان بورا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ زرداری کے عزائم کو نظر انداز کرنا حماقت ہو گی۔۔۔(ش س م ۔ ن)

 
Loading...