سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں نے قطر کو اکیلا کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی : تازہ ترین خبر آگئی

دوحہ (ویب ڈیسک) خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ ’’یو ایس نیول فورسز سینٹرل کمانڈ کا حصہ قطری فوجیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اس اتحاد کو چھوڑ کر آئندہ 48 گھنٹوں کو بحرین کی سرزمین کو چھوڑ دیں۔

اس ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’’بحرین نے امریکی جنرل اِن کمانڈ کو بتایا ہے کہ قطری فوجیوں کو ملک چھوڑ کر جانا ہو گا۔‘‘ اس ذریعے کے مطابق یہ فوجی ابھی تک بحرین میں ہی ہیں جبکہ یہ آئندہ دو دنوں میں یہ اپنے ملک واپس چلے جائیں گے۔یہ خبر ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب خلیجی ریاست قطر کے ساتھ اس کی ہمسایہ ریاستوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے علاوہ مصر اور کئی دیگر ریاستوں نے سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں اور اس نسبتا چھوٹی سے عرب ریاست کی زمینی، فضائی اور سمندری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ان ممالک نے قطر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوحہ حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

قطر اور بحرین کے درمیان تناؤ میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب مناما حکومت نے الزام عائد کیا کہ دوحہ اس کے داخلی معاملات دخل اندازی کر رہا ہے۔ قطر کی طرف سے اس الزام کی بھی تردید کی گئی ہے۔اے ایف پی کے ذریعے نے تاہم اس بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی کہ اس وقت قطر کے کتنے فوجی امریکی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم ایک اور مبصر کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے۔(ش س م۔ ن)