میاں نواز شریف نے جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد عوام کو بہت بڑا دھوکہ دیا ، لیکن کیسے ؟ نامور اور معتبر کالم نگار نے انکشاف کر دیا

لاہور (شیر سلطان ملک ) صف اول کے پاکستانی  کالم نگار  محمد عامر خاکوانی  اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عربی زبان میں چیزوں کو ان کی اصل جگہ سے ہٹاکر دوسری جگہ رکھنا ظلم کہلاتا ہے (وضع الشئی علیٰ غیر محلہ)۔ ہمارے ہاں اکثر معاملوں میں یہی ظلم ہوتا ہے کہ جو چیز جہاں ہونی چاہیے، وہاں اسے نہیں رکھا جاتا۔ تجزیہ کرنے والے خاص کر اپنے تعصبات، پسندناپسند یا پھر مختلف مفادات کے تحت ایسا ہی کرتے ہیں۔ جس چیز کو سراہنا چاہیے، اس میں بخل برتا جائے گا، جس حد تک تعریف ہونی چاہیے، اس سے کئی گنا مبالغہ کے ساتھ بات کی جائے گی۔ جو پہلو نظر انداز نہیں ہونے چاہییں، ان سے نظر چرا لی جاتی ہے اور غیر متعلقہ باتوں کو زبردستی مرکز ی نکات بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ پانامہ کیس اور خاص کر وزیراعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی والے معاملے میں بھی دونوں اطراف سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ یہ ظلم ہے، جس سے بچنا چاہیے۔

سب سے پہلے تواس کا اعتراف کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کا جے آئی ٹی میں جانا ایک بہت اچھی روایت کا آغاز ہے۔ مسلم لیگ ن والے اسے گلوریفائی کرنا چاہ رہے ہیں، ان کے ایک حلقے نے اس پیشی کو حضرت فاروق اعظم ؓ کی پیروی کا نام بھی دیا ہے۔ یہ تو خیر مبالغہ ہے، تاہم مسلم لیگیوں کو اتنا حق تو ہمیں دینا چاہیے کہ وہ اسے تاریخ ساز موقع قرار دیں۔ ایک نئی تاریخ تو بہرحال رقم ہوئی ہے۔ یہ درست کہ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوچکے ہیں، بھٹو صاحب بھی ایک طرح سے منتخب وزیراعظم ہی تھے، ان پر عدالت میں مقدمہ چلتا رہا، خود میاں نوازشریف چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ اس کے باوجود یہ معاملہ ان سب سے مختلف تھا۔

سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی ایک خاص حیثیت اور تقدس ہے، وہاں کسی سیاسی لیڈر یا حکمران کا حاضر ہونا مختلف معاملہ ہے۔ جے آئی ٹی بہرحال گریڈ بیس اکیس کے افسروں پر مشتمل ہے، عام حالات میں جو وزیراعظم ہاؤس کے گرد پر بھی نہیں مار سکتے۔ اس اعتبار سے یہ نئی اور اچھی روایت قائم ہوئی ہے کہ کسی منتخب اور طاقتور وزیراعظم نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہو کر ان کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس امر کو سراہنا چاہیے۔ جو چیز درست ہے، اس کی ستائش ضرور کرنی چاہیے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اب مستقبل میں کسی اور وزیراعظم یا دوسرے طاقتور صاحب منصب کے لیے جے آئی ٹی ٹائپ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے گریز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ ہمارے جمہوری نظام نے بہرحال ایک قدم آگے بڑھایا ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو اس پر خوش ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نواز شریف کے عدالت میں پیش ہونے کے حوالے سے جو بحثیں ہوئیں، ان میں کئی حلقوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ دیکھیں سیاست دان تو عدالت کا احترام کر رہا ہے، جبکہ جنرل پرویز مشرف جیسے آمر اور آئین شکن نے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا اور بعض طاقتور حلقوں نے اس کا ساتھ دیا، حتیٰ کہ اسے بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے باہر بھی جانے دیا۔ مسلم لیگ ن کے حامی اخبار نویسوں کی بہت سی باتوں سے اختلاف کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ ان کا یہ اعتراض درست ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ہمارے سیاسی، جمہوری اور عدالتی نظام کی کمزوریاں بری طرح ایکسپوز کی ہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ چلایا جا رہا تھا، جس کا مضبوط جواز موجود تھا۔ وہ پاکستان کے واحد ڈکٹیٹر ہیں جس نے دو بار آئین شکنی کی۔ پرویز مشرف کو نادیدہ قوتوں کی حمایت حاصل رہی اور سیاسی حکومت اپنی تمام تر کوشش کے باوجود اس کے خلاف ٹرائل مکمل نہیں کر سکی۔

ان دنوں جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے۔ وہ اگر اپنا وزن پارلیمنٹ، عدلیہ اور آئین کے حق میں ڈالتے تو پرویز مشرف کو سزا ہوسکتی تھی۔ راحیل شریف نے ایسا نہیں کیا۔ وجوہات جو بھی ہوں، یہ بہرحال حقیقت ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے پوری قوت کے ساتھ ایک غاصب کا ساتھ دیا۔ زیادتی تو ہمارے ان سینئر ترین ڈاکٹروں نے بھی کی جنہوں نے جنرل مشرف کو سنگین بیماریوں کا مریض قرار دیا، بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی حالت ویسی ہرگز نہیں تھی۔ انہیں شدید کمر درد کی شکایت بتائی گئی، ملک سے باہر جانے کے بعد ایسی ویڈیوز آئیں جن میں وہ کسی شادی فنکشن میں والہانہ رقص کرتے پائے گئے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ جس طرح زرداری صاحب اپنی اسیری کے دوران ڈیمنشیا اور دیگر بیماریوں کے سرٹیفکیٹ پیش کر کے عدالتوں سے وقت لیتے رہے، اسی طرح پرویز مشرف نے بھی میڈیکل سرٹیفکیٹس کو استعمال کیا۔ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہماری سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، وکلا برادری اور میڈیا نے بھی پرویز مشرف کے خلاف عدالتی عمل کا ساتھ نہیں دیا۔ اس کی اپنی وجوہات تھیں۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو وزیراعظم اور حکمران جماعت کی نیت پر شک تھا۔ انہیں شکوہ تھا کہ مسلم لیگ ن نے پرویز مشرف کے بہت سے ساتھیوں کو تو ساتھ ملا لیا ہے، انہیں وزارتیں بھی دے ڈالی ہیں، مگر پرویز مشرف کو اپنے جذبہ انتقام کی تسکین کی خاطر نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ امیر مقام، زاہد حامد، دانیال عزیز، ماروی میمن، طلال چودھری جیسوں کو ساتھ بٹھا کر صرف پرویز مشرف کو ہدف بنایا جائے۔ بعض حلقے تو میاں نواز شریف کو یہ طعنہ بھی دیتے ہیں کہ جب عدالتی عمل شروع ہوچکا تھا، پھر دبنے اور کمزوری دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ آئی سی ایل سے نام نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت خاموش کمپرومائز نہ کر لیتی تو پرویز مشرف کبھی بیرون ملک نہ جا سکتے تھے۔ خیر معاملہ جو بھی رہا ہو، پرویز مشرف کے خلاف کیسز ختم نہیں ہوئے۔ عدلیہ نے خاصی پیش رفت کی ہے، وہ عدالتوں سے اشتہاری قرار پا چکے ہیں۔ راحیل شریف بھی رخصت ہوچکے۔ عسکری قیادت نے جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ ہونے کے نہایت مثبت اور دل خوش کن اشارے دیے ہیں۔ اگر وزیراعظم چاہیں تو وہ انٹرپول کے ذریعے پرویز مشرف کو وطن واپس لا سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں صرف جرات رندانہ کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے بعد میڈیا کے سامنے لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ معذرت کے ساتھ اس میں انہوں نے ٹھیک ٹھاک ڈنڈی ماری اور پاکستان کے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ وزیراعظم اور ان کی جماعت اس خالصتاً عدالتی معاملے کو سیاسی ایشو بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہ کسی بھی صورت میں سیاسی ایشو نہیں ہے۔ پانامہ سکینڈل بنیادی طور پر کرپٹ شخصیات کے خلاف تھا، جن میں سے بعض مختلف ممالک کے حکمران بھی ہیں۔ اس سکینڈل میں بتایا گیا کہ کس طرح بعض لوگوں نے جعلی آف شور کمپنیاں بنا کر بیرون ممالک جائیدادیں خریدیں، ایسا کرنے کے لئے انہوںنے اپنے ملک سے لوٹی ہوئی دولت غیر قانونی طریقوں سے باہر بھیجی، یعنی منی لانڈرنگ کی۔ اس سکینڈل میں جناب وزیراعظم کی اولاد کے نام بھی آئے۔ اب یہ اتفاق ہے کہ لندن کی جس جائیداد کے بارے میں پانامہ سکینڈل میں دستاویزی ثبوت آئے، وہ ایک طویل عرصے سے نواز شریف صاحب کے لیے وجہ تنازع بنی ہوئی تھی۔ ان کے سیاسی مخالفین اور بعض عالمی میڈیا کے لکھاری بھی یہ لکھتے رہے ہیں کہ یہ جائیدادیں میاں نواز شریف کی ملکیت ہیں۔ میاں صاحب اور ان کا خاندان ہمیشہ اس کی تردید کرتا رہا۔ پانامہ سکینڈل نے سب کچھ ہلا کر رکھ دیا۔ میاں نواز شریف نے پانامہ سکینڈل کے بعد مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم سے خطاب کیا اور خود کو تحقیقات کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا۔ بعد کے معاملات سب کے سامنے ہیں کہ کس طرح حکمران جماعت نے تکنیکی طور پر جوڈیشل کمیشن بنانے میں رخنے ڈالے۔ پارلیمنٹ میں معاملہ لے جانے کا کہا، وہاں ٹی او آرز بنانے میں کئی ہفتے لگ گئے، مگر کچھ نہ بنا۔ پھر جب عمران خان نے عوامی احتجاج شروع کیا، اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کی دھمکی دی، ٹکراؤ بڑھ گیا تو پھرسپریم کورٹ نے اس معاملے کو ٹیک اپ کر لیا۔ پانامہ کیس اور اس کا فیصلہ بھی سب کے سامنے ہے۔ دو ججوں نے تو نواز شریف صاحب کو نااہل قرار دے دیا، تین ججز کے خیال میں ابھی ایسے ثبوت موجود نہیں اور ان کے لئے جے آئی ٹی کی تحقیق وتفتیش ضروری ہے۔ ویسے جے آئی ٹی کی سفارش تو پانچوں جج صاحبان نے کی تھی۔

اس تمام معاملے میں سیاست کہاں سے آگئی؟ سیدھا سادا عدالتی معاملہ ہے۔ اگر رخنے نہ ڈالے گئے ہوتے تو کئی ماہ پہلے یہ فیصلے ہوجاتے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بھی مذاق ہے کہ میری پیدائش سے پہلے ان کے خاندان کا احتساب ہوتا رہا۔ کون سا احتساب اور وہ کس نے کیا؟ رہی ستر کے عشرے میں نیشنلائزیشن تو وہ بھٹو حکومت نے سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کی ملیں، فیکٹریاں لیں۔ ایک عمومی فیصلہ تھا، بے شمار سرمایہ کار جس کا نشانہ بنے۔ اس میں احتساب کہاں سے آ گیا؟ پرویز مشرف کے دور میں احتساب ممکن ہے ہوجاتا، مگر میاں صاحب معاہدہ کر کے باہر چلے گئے، جسے بعد میں کئی برسوں تک تسلیم نہیں کیا، پھر مجبوراً ماننا پڑا۔ اصول ہے کہ جو چیز جہاں ہے، اسے وہاں ہی رکھا جائے، ایسا نہ کرنا ظلم ہے۔ جناب وزیراعظم احتساب آپ کا اب ہو رہا ہے، اسے ہونے دیجیے، سیاست کا نشانہ نہ بنائیے۔