چور بھی کہے چور چور : پاکستان ریلویزکا ایس پی انعام الرحمٰن سحری تو خود کرپشن زدہ نکلا ، دنگ کر ڈالنے والا ماضی سامنے آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)شریف خاندان کیخلاف مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے دعویداراور اب پانامہ کیس کی تحقیقات کےلئے قائم جے آئی ٹی میں بطور گواہ پیش ہونے کے خواہشمند ریلویز پولیس کا سابق ایس پی انعام الرحمن نیب زدہ نکلا اور سابق صدر پرویز مشرف اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہونے والے قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) سے بھی مستفید ہوا ۔

انٹرپول نے ملزم انعام الرحمن کی گرفتاری کےلئے ریڈوارنٹ جاری کررکھے ہیں ۔نیب نے سال 2007ءمیں انعام الرحمان سمیت پانچ ملزمان کی بیرون ملک سے گرفتاری کےلئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا ،انعام الرحمن تاحال بیرون ملک روپوش ہے ۔ذرائع کے مطابق انعام الرحمن خود کرپشن میں ملوث رہا ہے اور نیب نے سال 2002ءمیں سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انعام الرحمن سحری کیخلاف کرپشن کی انکوائری اور تحقیقات مکمل کر کے کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا تھا جس میں ان کے اثاثوں کی مالیت کو ان کی انکم سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا تھا اور ان پر خوردبرد کے الزامات عائد کئے گئے تھے جس کے بعد انعام الرحمن گرفتاری سے بچنے کےلئے روپوش ہوااور بیرون ملک فرار ہوگیا تھا ، احتساب عدالت کی طرف سے ملزم کو اشتہاری قراردیا گیا تھا جس پر سال2007میں نیب نے ملزم کی گرفتاری کےلئے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا۔(ش س م۔ ن)