"سوار محمد حسین شہید"

کل سوار محمد حسین شہید کا یو م شہادت تھا ،اس حوالے سے یہ تحریر ان کو ایک طرح سے خراج عقیدت بھی ہے ۔اس عظیم شہید کی شہادت کے تین سال بعد کی کہانی سنانے سے پہلے میں ان کی حیات پر ایک نظر ڈالنا چاہوں گا سوا محمد حسین شہید 18 جون 1949 ء کو ڈھوک پیر بخش کے مقام پر پیدا ہوئے تین ستمبر 1966ء کو پاک فوج میں بھرتی ہوئے ۔ پاک فوج میں بھرتی ہونے کے بعد آپ نے ڈرائیونگ میں مہارت حاصل کی ۔1971ء کو سوار محمد حسین شہید نشان حیدر شکر گڑھ کے محاذ پر جا کر نوجوانوں کو اسلحہ اور بارودپہنچا رہے تھے 6 ستمبر 1971 ء کو وہ ایک لڑاکا اور پر خطر مہمات میں ان کے ہمراہ جاتے رہے ۔10 دسمبر 1971ء کو سوار محمد حسین شہید نے دشمن کو ہرا ر خورد گاؤں میں مورچے کھودتے دیکھ کر یونٹ کمانڈر کو اطلاع دی ۔ سوار محمد حسین شہید کی ذاتی کوششوں سے دشمن کے 16 ٹینک تباہ ہوئے دس دسمبر کو ہی چار بجے سوار محمد حسین شہید اپنے ایک رائفل سے دشمن کو ٹھکانے لگاتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ میں شہید ہوئے میجر امان اللہ کی سفارش پر سوار محمد حسین شہید کو نشان حیدر سے نوازا گیا ۔آپ کی شادی 1971ء میں ہوئی ۔ آپ کی اولاد میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سوار محمد حسین شہید نشان حیدر ابھی دیوی ہائی سکول میں زیر تعلیم تھے لیکن ان کے دل میں وطن سے بھر پور محبت کا جزبہ موجود تھا آپ نے پرائمری تک تعلیم جھنگ پیرو میں حاصل کی ۔ آپ گھر میں شلوار قمیض یا تہبند باندھتے تھے جنگ پر جانے سے پہلے آپ کے والد محترم نے آپ کو سفید کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔سوار محمد حسین شہید اکثر واقعہ کربلا دہرایا کرتے تھے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جرات و شجاعت پر جھوم جھوم جایا کرتے تھے ۔ آپ جب شہید ہوئے تو آپ کی جیب سے سو روپے ایک منی آرڈر اور دو خون آلود خط بر آمد ہوئے جب سوار محمد حسین شہید کی شہادت کی خبر ان کے والد کو دی گئی تو ان کے پہلے الفاظ یہ تھے کہ محمد حسین شہید نے کہیں میدان جنگ میں بزدلی تو نہیں دکھائیمیدان جنگ میں جب ان کے ساتھیوں سے پوچھا گیا کہ ان کا جزبہ کیا تھا تو ساتھی بتاتے ہیں کہ سوار محمد حسین شہید کو وطن کی خاطر جان قربان کرنے کا بہت شوق تھا وہ بہت زیادہ جزبے سے لڑ رہے تھے اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کا مورال بلند کرتے رہتے تھے رات کو آگ جلا کر سب کو مختلف طریقوں سے خوش کرتے لطیفے سناتے ۔ درج بالا معلومات تو شاید کافی لوگوں کو معلوم ہوں گی مگر اب جو میں بتانے جارہا ہوں وہ بہت کم لوگ جانتے ہیں سوار محمد حسین جب شہید ہوئےتو جنگ کے حالات تھے ان کا جسد خاکی ان کے گاؤں نہیں پہنچایا جا سکتا تھا اس لئے ان کو وہیں محاذ پر ہی امانتا ً دفنا دیا گیا ۔ تقریبا ً ایک ماہ کے بعد ان کے جسدخاکی کو وہاں سے نکال کر ان کے گاؤں میں لایا گیا مگر ان کے دادا نے کسی کو بھی شہید کا دیدار نہ کرنے دیا ۔ تقریبا ً تین سال کے بعد پاک فوج نے آپ کا مزار بنانے کیلئے آپ کا تابوت مبارک قبر سے نکالا تو دادا نے علماء کرام کہ مشورے سے تابوت کوصرف چہرے کے حصے سے کھولا تو ماشاءاللہ اب بھی خون تازہ تھا اور پورا علاقہ خوشبو سے بھر گیا پورے گاؤں نے تسلی سے شہید کا دیدار کیا ۔ شہادت کے تیسرے سال بھی وہ ایسے ہی تھے جیسے ابھی ابھی انہیں شہید کیا گیا ہو بےشک شہید کو موت نہیں ہے میری آنکھوں کے سامنے آج بھی وہ منظر بالکل تازہ ہے ۔

 

 

اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے

آپ اس خبر پر دوبارہ رائے نہیں دے سکتے - شکریہ

اپنی قیمتی رائے دینے کا شکریہ

Loading...
loading...