"کسان کا بیٹا اور نوجوان لڑکی"

کسان کا  نوجوان بیٹا  اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا،ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا،ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا،  وہ بھی مسکرا رہی تھی، میرے ساتھ گھر چلو گی ؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ہولی، وہ فضاؤں میں اڑنے لگا۔چوہدری کا ڈیرہ آباد تھا دوست احباب کے مجمع میں نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے ہوئے چوھدری جی!! چوھدری جی!! اُس کا خادمِ خاص ڈیرے میں ہانپتا کانپتا داخل ہوا، خیر تو ہے ؟ خیر تو ہے ؟ او جی خیر کہاں.!! میں چوک میں کھڑا تھا،نورے جٹ کا جوان لڑکا ایک ایسی حسینہ کے ساتھ گزر کے گھر جارہا تھا کہ اس جیسی حسین  عورت میں نے اپنی  زندگی میں کبھی نہیں دیکھی، پتہ نہیں کہاں سے لایا ہے؟  چاند کا ٹکڑا  ہے،  چوھدری جی اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کہاں بٹھائے۔ نورے جٹ کے بیٹے کا آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا ،اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا، واقعی جب خدا دیتا  ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا  ہے، اسے کچھ شور کی آواز آرہی تھی جو اور قریب آگئی،پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا، دروازہ کھلا، چوھدری بھی ہکا بکا رہ گیااور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھنے لگا ، نوجوان جٹ ایک آہنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ہو گیا اوع کہنے لگا کہ  تم میری لاش پر سے گزر کر ہی اس  لڑکی تک پہنچ پاؤ گے۔ تم اس کے قابل نہیں، نہ یہ گھر اس کے قابل ہے۔ یہ میری حویلی میں رہے گی،نوکرانیاں، راحت،آرام، عزّت،  اسے وہاں ملے گی، نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا عدالت پورے جوبن پر تھی۔ سائل، مدعی، وکلاء،اہلکارو عملہ سب  ہی موجود تھے، جج صاحب اپنی مسند ِخاص پر رونق افروز ہوئے اورانہوں نے نظر آٹھائی ،جج صاحب کو بھی اپنی  نظروں پر یقین نہیں آرہا تھا، انہوں نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا، جج صاحب بھی بلا اختیار کہہ اٹھے کہ" ارے یہ منہ اور مسور کی دال"  اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن دیکھوں ،  یہ تم دونوں کے ہی  لائق نہیں،  میرے پاس مال و دولت ہے ،  عہدہ ہے،  بنگلے ہیں،  گاڑیاں ہیں،  نوکر چاکر اور  معاشرے میں ایک حیثیت حاصل ہے ، یہ میرے لائق  ہے چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو۔  وہ ہکّے بکّے رہ گئے ، نہیں چوہدری چلایا۔ یہ نہیں ہوسکتا نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں، اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے۔  بادشاہ کے پاس چلو جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگے، دربار سجا ہوا تھا وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا، اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا۔  دربان اِن  تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ہے  بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا،  ایسی حسینہ اور میری سلطنت میں؟  اس نے حکم دیا کہ ان تینوں کو ایک طرف لے جاؤ اور حسینہ کو میرے محل میں لے جاؤ۔ جج صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو بادشاہ سلامت نے ایک طرف دیکھا تین ہٹے کٹے دربان آگے بڑھے اور تینوں خاموشی سے ایک طرف کو ہو گئے ۔ وہ حسینہ جو اب تک خاموش تھی اس نے خاموشی کو توڑا اور بولی فیصلہ میں کروں گی،  تم چاروں میرے پیچھے دوڑو جو مجھے پکڑ لے گا میں اس کی یہ کہہ کر وہ جلدی سے دربار سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی،  بادشاہ کو اپنا تخت بھول گیا اور اگلے ہی لمحے  وہ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رنےلگے،  وہ ہوا سے باتیں کررہی تھی،  بادشاہ سلامت تھوڑی ہی دور جاکر دوڑنے کی تاب نہ لاسکے اور ایک لمبی آہ بھر کر وہیں ڈھیر ہو گئے،  جج صاحب بھی زیادہ دیر پیچھا نہ کرسکے اور اسکی سانسیں بھی جواب دے گئیں ، چوھدری صاحب ہمت ہارنے والے تو نہ تھے لیکن آخر کب تک اب وہ تھی اور نوجون تھا جو کہ ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا،  مگر یہ کیا راستے کے ایک پتھر سے وہ ایسا ٹکرایا کہ منہ کہ بل گرا اور اسکے منہ سے ایک دل خراش چینج بلند ہوئی جو کہ حسینہ کے قہقہوں میں دب گئی آؤ میرے عاشقو میرے پیچھے آؤ،  تم مجھے کبھی نہیں پاسکتے اور واقعی ہی اسے کوئی نہ پاسکا کہ وہ دیکھنے میں تو حسینہ تھی حور کے حسن والی تھی دل فریب تھی عقل کو محو کرنے والی تھی،  لیکن حقیقت میں وہ دنیا تھی اسکے پیچھے دوڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا  ہے۔