میں نے شریف برادران کو کس شخص کی سفارش پر سعودی عرب جانے دیا ؟ پرویز مشرف نے اصل نام بتا دیا

کراچی(ویب ڈیسک)  سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ شریف فیملی کی منی لانڈرنگ سے متعلق اسحاق ڈار نے حلفیہ بیان دیا تھا، اسحاق ڈار پر کوئی تشدد کیا گیا نہ ہی انہیں دھمکایا گیا، شاہ عبداللہ کی درخواست پر شریف برادران کو سعودی عرب بھیجا۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نےشریف فیملی سےمتعلق منی لانڈرنگ کاحلفیہ بیان دیا، منی ٹریل میں سب کچھ سامنے تھا اُس میں مزید کیا ثبوتوں کی ضرورت نہیں تھی۔پرویزمشرف نے کہا کہ اسحاق ڈار پر دوران قید کوئی تشدد یا انہیں ہراساں نہیں کیا گیا، انہوں نے خود شریف فیملی کی منی لانڈرنگ سے متعلق بیان دیا جس کے بعد نوازشریف پر کرپشن کا کیس بنایا گیا۔سابق صدر نے کہا کہ نوازشریف نے طیارہ ہائی جیک کر کے انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی تو اُن پر اس کا مقدمہ بنایا گیا، نوازشریف کی سعودی عرب روانگی کسی کی دھمکی کا نتیجہ نہیں بلکہ شاہ عبداللہ نے شریف برادران کو بھیجنے کی درخواست کی تھی۔پرویز مشرف نے کہا کہ عامر عزیز کو نہیں جانتا اور نہ ہی اُن سے میرے کوئی تعلقات ہیں، تعلقات سے متعلق باتیں پاناما کو طول دینے کے لیے کی جارہی ہیں، حکومتی دفاع میں بولنے والے دانیال عزیز وزارت کے لیے چمچہ گیری کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جےآئی ٹی کاہررکن حکومت کےماتحت ادارےکا ملازم ہے ، شریف فیملی اب اپنے ماتحت اداروں پر ہی الزامات لگارہی ہے، میرےپاکستان میں سیاسی جماعتوں کےرہنماؤں سےرابطےہیں وقت آنے پر نیا اتحاد بنایا جائے گا۔سابق صدر نے کہا کہ پاک بھارت میچ گراؤنڈ میں بیٹھ کر دیکھنے کی خواہش تھی مگر مصروفیات کے باعث ایسا ممکن نہیں، پاکستانی ٹیم کے نوجوان کھلاڑی اچھا کھیل پیش کررہے ہیں، امید ہے کل پاکستان ٹیم بھارت کو شکست دے گی۔(ش س م۔ ن)

 
Loading...