میاں صاحب یہ ڈرامہ بازی بند کرو اور ۔۔۔۔۔۔۔۔خاتون صحافی نے میاں نواز شریف کو کھلا خط لکھ ڈالا ، آپ بھی پڑھیے

لاہور (شیر سلطان  ملک) روزنامہ نوائے وقت کی خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔اس زمانے میں بڑے دو ہی اخبار تھے اور ایک سرکاری ٹی وی چینل تھا جس زمانے میں میاں صاحبان جلا وطن کئے گئے تھے۔ ایک بڑا اخبار جس کی پالیسی ہمیشہ حکومت کے حق میں رہی ہے۔ اس دور میں میاں صاحب کی حکومت جاتے ہی میاں صاحب کے خلاف لکھتا رہا۔ واحد اخبار نوائے وقت تھا جس نے مشرف آمر کے خلاف ڈٹ کر جہاد کیا اور میاں صاحبان کی جلا وطنی میں بھی میاں برادران کو جائز طور پر سپورٹ کرتا رہا۔ گو کہ میاں صاحب کے اس مرتبہ بھی اقتدار میں آتے ہی دوسرا بڑا اخبار جو اب نجی ٹی وی بھی چلا رہا ہے پھر سے میاں صاحب کے لئے بطور لاﺅڈ سپیکر کام کر رہا ہے۔ 2002 کی غالباً بات ہے میں امریکہ سے عمرہ کے لئے گئی ہوئی تھی۔

 مرحوم مجید نظامی صاحب سے مکہ معظمہ سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے مجھے میاں صاحبان کی خیریت دریافت کرنے کو کہا۔ بزرگوں کا حکم بجا لاتے ہوئے دوبارہ مدینہ منورہ پہنچی۔ جلا وطنی میں بھی شریف خاندان کی مدینہ کے معروف ہوٹل میں شاہانہ انداز زندگی بلا شبہ ایک عام شہری کے لیے قابل رشک تھا۔ آج جو لوگ وزارتوں میں بیٹھے ہیں یہ تمام چہرے ہوٹل میں مفت کے عمروں پر پہنچے ہوئے تھے۔نوائے وقت کے حوالہ سے میاں نواز شریف شہباز شریف اور بیگم کلثوم سے ہماری وہ پہلی ملاقات تھی۔جب سے اب 2017 تک میاں صاحبان یا ان کی حکومت سے کوئی کام سفارش عہدہ لفافہ جیسی کسی لعنت کا تصور بھی ہمارے لئے قابل شرم ہے۔بلکہ دور جلا وطنی میں اس خاندان کی حمایت و ہمدردی میں اتنا لکھا کہ میری پیشانی پر مسلم لیگ نواز لکھ دیا گیا حالانکہ میرا تعلق اپنے والد کے مسلم لیگی نظریہ سے تھا ہے اور انشا اللہ رہے گا۔ قائد اعظم اور علامہ اقبال کا نظریہ پاکستان زندہ باد۔ اسی محبت میں نوائے وقت بھی جائن کیا اور نظریاتی سوچ کی کھل کر تشہیر کرتی ہوں۔ مسلم لیگ نون قاف وغیرہ کو حروف تہجی کی مسلم لیگیں کہتی ہوں۔ امریکہ رہنے کی وجہ سے پاکستان کے نظام سے براہ راست واسطہ نہیں پڑا البتہ عوام کی تکالیف کی ترجمانی زبانی اور قلمی جاری رکھی۔ میاں نواز شریف میاں شہباز شریف اور بیگم کلثوم نواز سے مدینہ منورہ میں ملاقات اور ان کا جلا وطنی کے بعد پہلے تفصیلی انٹرویو نے مجھے ان لوگوں سے جذباتی طور پرقریب کر دیا۔ پردیس میں رہنے کی وجہ سے میں نے شریف خاندان کی جلا وطنی کو جذباتی طور پر محسوس کیا۔مدینہ منورہ کی ملاقات میں غیر سیاسی تعلق بن گیا۔ اس ملاقات کے کچھ عرصہ بعد میاں شہباز شریف کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا اور علاج کے لئے نیو یارک آنا پڑا۔ہمارا ان سے رابطہ ہوا اور مدینہ کی ملاقات کے حوالہ سے میاں شہباز شریف کے دوران بیماری ان سے اور ان کی فیملی سے رابطے میں رہے۔یاد رہے کہ وہ دور میاں صاحبان کے زوال کا دور تھا اور آج جب اقتدار میں ہیں تو ہم ان کے خلاف بھی کھل کرلکھتے ہیں۔ تعلق مدینہ منورہ سے بنا تھا اور مدینہ والے کے صدقے حکمرانوں کی خامیاں بھی کھلے دل سے لکھتے رہیں گے۔ میاں شہباز شریف سے قطعی غیر سیاسی تعلق ہونے کی وجہ سے ہر بار ملاقات ہوتی ہے۔ کلثوم نواز سے ملاقات ہوتی ہے۔ لیکن جہاں تک سیاست اور مسلم لیگ جماعت کا تعلق ہے نواز شریف کے اطراف کرپٹ اور دو نمبری لوگ جمع ہیں۔ الا ما شا اللہ مفاد پرست اور ضمیر فروش وزرا اور مشیر اکٹھے کر رکھے ہیں۔پاکستان میں طویل عرصہ گزارا۔ ہر محکمہ میں جانا ہوا۔ کچھ کام کی غرض سے کچھ عوام کی شکایات لے کر۔ شاید ہی کوئی محکمہ ایسا ہو جہاں غلط لوگ نہ بٹھائے گئے ہوں۔ رشوت خور، چور بیٹھے ہو ئے ہیں۔ ہم نے براہ راست ان کرپٹ افراد اور محکموں کاتجربہ اور مشاہدہ کیا۔ ملک بھر میں یہی صورتحال ہے۔وزیر اعظم ملک کا سربراہ ہوتا ہے اورمیاں صاحب نے وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہوئے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ وزیر اعظم کے لئے عوام اولاد کی طرح ہوتے ہیں۔ لیکن جناب کی اولاد اورلائف سٹائل اور ایک عام شہری کے طرز زندگی میں اتنی تفریق؟ اس قدر کرپٹ نظام اور حاکم وقت لا علم ہو؟ بڑے بڑے منصوبوں کے افتتاح کرنے والے کیا اتنے بے خبر ہیں کہ ایک عام شہری کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے بھی بھاری سفارش اور رشوت کی لعنت سے گزرنا پڑتا ہے؟ میں نے عام شہری کی زندگی کو قریب سے دیکھا ہے۔ پتہ نہیں نواز شریف کو ووٹ اتنے کیسے مل گئے جبکہ صرف پنجاب میں لوگ ان کی حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔ داتا صاحب چلے جاﺅ دیگوں والے پھوکوں والے سب ناراض ہیں۔ تعلیمی خدمات کے سلسلے میں ملک کے گلی محلوں دیہاتوں شہروں صوبوں میں گھومتی ہوں۔ عوام وزیر اعظم اور ان کے وزرا سے خائف ہیں۔ میاں شہباز شریف کو ہم سیاستدانوں میں بہتر سیاستدان سمجھتے ہیں لیکن میرٹ اور نظام میں شفافیت ان کے بس سے بھی باہر نظر آتی ہے۔ ہم حکومت پر تنقید ان کے منہ پر کرتے ہیں۔ چاپلوسی اور خوشامد سے نفرت ہے۔میاں نواز شریف سے جذباتی وابستگی کا پس منظر جلا وطنی کا دور ہے لیکن سیاسی وابستگی نہ ہے نہ ہو گی کہ اقتدار میں آکر یہ لوگ صرف حکومت کرتے ہیں حقیقی خدمت نہیں۔ اللہ نے آج یہ دن بھی دکھانا تھا کہ میاں نواز شریف پاکستان کاپہلا وزیر اعظم ہے جسے کرپشن اور خورد برد کے الزام میں جوائنٹ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ کیا ملک ہے۔ یہاں شرمندگی پر بھی کریڈٹ لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حواری کہتے ہیں کہ وزیر اعظم پروٹوکول کے بغیر پیش ہوئے۔ علاقے میں کرفیو لگا تھا۔خاندان اور تمام اہم خوشامدی ہمرکاب تھے۔ تقریر لکھی لکھائی مل جاتی ہے۔ ٹھنڈے کمرے سے ٹھنڈی گاڑی اور وہاں سے ٹھنڈی عدالت۔ چند گھنٹے بات چیت ہوئی۔ باہر نکلے ہیرو بننے والی تقریر پڑھی اور چل دیئے۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستان کا وزیر اعظم کرپشن کے الزامات بھگت رہا ہے۔ اور ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے کہ وہ سر خرو ہوگا؟ رمضان شریف کا آخری عشرہ پھر مدینہ منورہ میں گزرے گا میاں صاحب کا۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ پاکستان کاوزیراعظم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت سے سرخرو ہو کر وہیں مسجد نبوی کے باہر کھڑے ہو کرتقریر کرے۔