ہمیں ہم سے تعارف کی ضرورت ہے

پہلے صدیوں پرانا رونا رولیں پھر تازہ ترین تاریخی ’’پیشی‘‘ پر بھی بھنگڑا ڈال لیں گے۔ یہ کون لوگ ہیں اور کیوں اپنے حکمرانوں کو بری الذمہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں؟ یہ عالم اسلام کے حکمران خاندانوں کو کس خوشی میں کلین چٹیں جاری فرمارہے ہیں؟یہ کیسی سوچ اور زنگ آلود ذہنیت ہے جو اپنی خود غرضیوں، نالائقیوں، نااہلیوں اور غیر ذمہ داریوں کا سارا ملبہ غیروں پر ڈال کر اپنے آپ کو صدیوں سے دھوکہ دے رہی ہے، کہتے ہیں’’مسلمانوں کو آپس میں لڑانا امریکہ کا ایجنڈا ہے‘‘’’مسلمانوں کے درمیان جو کچھ ہورہا ہے وہ اہل مغرب کی سازش کا نتیجہ ہے‘‘۔’’یہ عالم اسلام کو شیعہ، سنی بلاکس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔یہ تو غصے اور ترس کے قابل بھی نہیں۔ اپنے’’شاہی‘‘ اور’’آمرانہ‘‘ گریبانوں میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے والے اس بیمار رویے نے پہلے عالم اسلام کی کون سی خدمت سرانجام دی جو آئندہ کوئی توقع رکھیں؟ صدیوں پر محیط اس فالج زدہ سوچ نے کیا دیا جو آئندہ دے گی؟ان لوگوں کو یہ چند بنیادی اور سادہ سی باتیں بھی سمجھ کیوں نہیں آتیں کہ بھائی! اگر کوئی بلکہ کوئی بھی نہیں، تمہارا جانا پہچانا دیرینہ حریف تمہیں آپس میں لڑوانا، مروانا چاہتا ہے تو کیا تم دودھ پیتے بچے، کوئی چھنے کاکے، نابالغ لونڈے یا جذباتی ٹین ایجرہو یا ریمورٹ سے چلنے والے بے جان کھلونے اور کٹھ پتلیاں ہیں ہم جنہیں’’اغیار‘‘ صدیوں سے اپنے اشاروں پر نچوائے جارہے ہیں؟ کیا ہم نسل در نسل ری ٹارڈڈ ہیں جنہیں اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں؟ اپنے پرائے کی پہچان نہیں؟ اور جہاں تک تعلق ہے ’’سازش‘‘ کا تو قبلہ حضور فیض گنجور! سازش اور سٹرٹیجی میں پل صراط جیسی باریک لکیر ہے جسے دیکھنے کے لئے چشم بینا کی ضرورت ہے اور ہم وہ نابینا جو کسی آئی سپیشلسٹ کی نہیں سنتے اور ایک ہی پریکٹس بار بار کرنے کے بعد مختلف نتائج کی امید کرتے ہیں، اگر ’’وہ‘‘ پے درپے سازشیں کئے جارہے ہیں تو تم بھی کرلو۔ تمہارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں یا دماغ بند ہیں؟ اگر ایک دوسرے کے خلاف سازشوں پہ سازشیں کئے جارہے ہو تو ایک بار متحد ہو کر اپنے حریف کے خلاف تم بھی کوئی’’سازش‘‘ کر دکھائو کہ رب نے تو تمہیں عددی قوت سے لے کر پٹرول اور گیس تک سب کچھ عطا کیا لیکن بے شک انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے اس نے سعی کی ہو، جدوجہد کی ہو، جان ماری ہو، تن من دھن قربان کیا ہو اور تم تو’’سازشیوں‘‘ کے مقابلہ پر اپنی تمام تر دولت کے باوجود ایک ایسا تعلیمی ادارہ نہ بنا سکے جو ان کے تعلیمی اداروں کا ہم پلہ ہو۔ تم نے برج بنائے، شاہرائیں بنائیں، پرتعیش مہنگے ترین ہوائی اور بحری جہاز خریدے، کیسینوز آباد کئے، کسٹم میڈ گاڑیاں خریدیں کہ اکیلے سلطان آف برونائی ہی مان نہیں۔ تم نے اسراف اور نمود و نمائش کے لازوال نمونے اور سمبلز تو پیش کئے لیکن ایک آئین سٹائن یا سٹیفن ہاکنگ پیدا نہ کرسکے کیونکہ ہر قسم کی’’پیداوار‘‘ کے لئے مخصوص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ مخصوص ماحول کے بغیر تو نہ بیکٹریا جنم لیتا ہے نہ فصل تیار ہوتی ہے نہ چاک سے سنگ مرمر بنتا ہے نہ کوئلے کی کوکھ سے ہیرا برآمد ہوتا ہے تو کب تک’’پدرم سلطان بود‘‘ تمہاری بود وباش کی ریتلی بنیاد بنارہے گا؟کھجور کھانا سنت ہےمسواک کرنا سنت ہےداڑھی رکھنا سنت ہےتو انسانوں کی نشو و نما کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنا بھی عظیم سنت ہے، انسانوں کی ’’آزادی‘‘ اور اعلیٰ ترین تربیت کرکے انہیں مقام امامت تک پہنچادینا بھی سنت ہے، ممولوں کو جان لیوا مراحل سے گزار کر شہبازوں میں تبدیل کردینا بھی ہمارے آقا ؐ کی عالیشان لازوال سنت ہے۔ علم، اعتدال، انصاف، اسراف سے بچنا، جھوٹ نہ بولنا، کم نہ تولنا، ملاوٹ نہ کرنا، رشوت نہ لینا نہ دینا بھی سنت ہے، امارت میں موروثیت کی نفی بھی سنت ہے۔اور اب نہ گورو ٹھیک نہ چیلےنہ حکام صحیح نہ عوامنہ لیڈر درست نہ ورکر.....نہ میں نہ آپ نہ ہمارا کوئی مائی باپ حکمران۔غیر جانبداری اور دیانتداری سے سوچو کہ عالم اسلام کے خلاف اصل سازش کیا اور سازشی کون ہے؟ کون ہیں جو عشق کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن عاشقی کے آداب سے واقف نہیں۔ ہم تو زوال کی پاتال پھاڑ کے اس سے بھی آگے نکل گئے اور آج ہمارے’’فخر‘‘ کی انتہا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی جواب دہی پر بگل اور بغلیں بجارہے ہیں کہ ’’تاریخ‘‘ رقم ہورہی ہے۔واقعی تاریخ رقم ہورہی ہے۔جیسے خواب ویسی تعبیرجیسے ہم ویسی ہماری حالیہ تاریخہم بدلیں نہ بدلیں، لفظوں کے معنی ضرور بدل ڈالے ہیں، کب کہا تھا اقبال نے کہ’’خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں‘‘ ۔ ہم ہیں کون؟ اپنا اصل تعارف تو صرف اتنا ہے کہ ملزم وزیر اعظم کی پیشی پر ان سڑکوں کی مرمت ہورہی ہے جن پر سے گزر کر اس نے خود پر عائد الزامات کا دفاع کرنا ہے۔ بس اتنی سی بات اور اتنا رئولا اتنا شور۔میں کون ہوں میں یہی تو نہیں بتاپایامیں تم سے اپنا تعارف نہیں کراپایاکوئی ہے جو ہمیں ہم سے متعارف کرائے؟