اک سچی کہانی

ہاتھیوں کی لڑائی میں اک ایسا کرلا بری طرح کچلا گیا جو اندھی خوشامد کے زور پر ایک حقیر کرلے سے ’’کنگ کانگ‘‘ بننا چاہتا تھا۔ حال ان کا یہ ہے کہ ’’ایمبولینس‘‘ والا معاملہ بھی الٹ کر ان کے جمہوری منہ پر جا پڑا کہ اک اور وزیر نے جوشِ چمچہ گیری میں ایمبولینس بطور ’’حفظ ماتقدم‘‘ خود روانہ کی تھی۔ اس کا یہ خوشامدانہ اور فاتحانہ ’’اقرار‘‘ ریکارڈ پر موجود ہے لیکن جب بات الٹ گئی تو اس نے ڈھیٹوں کی طرح آئیں بائیں شائیں شروع کر دی۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ان منصبوں میں ایسا کیا ہے کہ لوگ اپنی عزت، انا سب کچھ گروی رکھ دیتے ہیں؟ پھر شرم نہیں آتی یہ بڑھکیں مارتے ہوئے کہ نواز شریف نے JITکے سامنے پیش ہو کر تاریخ رقم کر دی حالانکہ ہمارے اسلاف صدیوں پہلے یہ تاریخ رقم کر چکے اور آج کی مہذب، باضمیر دنیا میں یہ روٹین میٹر ہے۔ بل کلنٹن پیش ہو سکتا ہے تو کوئی اور کس کھاتے میں کہ ملک کا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے۔ JITعدالت عالیہ کی ’’ایکسٹینشن ‘‘ ہے تو ’’ملزم‘‘ وہاں پیش نہ ہو گا تو کیا کرے گا؟ کیا اس بار اس جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو بم سے اڑا دو گے؟ٹی وی پر سنا، عمران خان غلط کہہ رہا تھا کہ دو عزت مآب ججز انہیں ’’غیر معیاری‘‘ قرار دے چکے، نہیں عمران خان! تیسرے عزب مآب منصف نے بھی انہیں یہی کچھ قرار دے دیا ہے۔ مجھ جیسے کم فہم اور ’’لاء آف کامن سینس‘‘ کے مارے ہوئے کے لئے تو فیصلہ آ چکا۔ قوم کے ’’باشعور‘‘ اور ’’غیور‘‘ ہونے کا امتحان بھی شروع ہو چکا۔ کئی بار کہہ چکا، لکھ چکا کہ شخصیت پرستی، بت پرستی کی مکروہ اور بدترین شکل ہے۔ رہ گیا ’’استثناء‘‘ تو یہ بھی عوام کے لئے گالی ہے کہ اگر خلفائے راشدین کو کوئی استثناء حاصل نہیں رہا تو یہ کون ہے؟ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور بہت ہی تازہ مثال یہ کہ اگر یوسف رضا گیلانی یہ سب کچھ بھگت سکتا ہے تو نواز شریف کو کیا پرابلم؟ اور اس سے بھی کیا فرق پڑتا ہے کہ پرائم منسٹر نے JITمیں پیشی کا فیصلہ سمن ملنے سے پہلے کیا یا بعد میں؟ اک اور اسکول آف تھاٹ یہ کہ وزارت عظمیٰ کا منصب بہت محترم ہے جس کی تحقیر ہو رہی ہے۔ خاکسار کے نزدیک نہ دنیاداری کا کوئی پیشہ مقدس ہے نہ کوئی عہدہ محترم ہے۔ عہدوں کی عزت اور پیشوں کے تقدس کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ وہاں متمکن کون ہے؟ کوئی معلم یا منصف خود اپنے عہدے یا پیشے کی بے حرمتی پر اتر آئے تو کیا عزت اور وقعت؟ دوسری طرف کوئی خاکروب یا موچی بھی اپنے کام سے انصاف کرے تو میں اس کا احترام کروں گا۔ کچھ لوگوں کی پرفارمنس کے صدقے پیشے اور عہدے باوقار اور کچھ کی کارکردگی کے سبب بے توقیر ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم تو معین قریشی صاحب اور جناب شوکت عزیز بھی تھے۔ میرے نزدیک جس نے JITمیں پیش ہونا ہے وہ وزیراعظم نہیں، میاں نواز شریف نام کے ایک صاحب ہیں اور ’’جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں‘‘۔ جنہیں عزت عزیز ہو وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں اور ان کی کیفیت اس سے بھی دس ہاتھ آگے ہوتی ہے کہ۔’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘یہ کچے کانچ کے پل پر چلنے کے مترادف ہے۔ یہ کروڑوں لوگوں کا بوجھ اٹھا کر پل صراط پار کرنے کے برابر ہے۔ ہم الٹی سیدھی حرکتوں کے اس طرح عادی ہو چکے کہ ہماری دبیز کھالوں پر اثر نہیں ہوتا ورنہ پاکستان جیسے ملک کا کوئی سربراہ بیرون ملک اربوں کھربوں کی جائیدادیں خریدے اور دھڑلے سے اربوں کھربوں کا بزنس بھی کرے تو سچی بات ہے، بات نہیں بنتی۔ اپنے وطن یا ہم وطنوں کے ساتھ یہ کیسی کمٹمنٹ ہے کہ اولادیں، جائیدادیں اور سرمایہ کاریاں تو اپنے ملک سے باہر ہوں، اقتدار ملک کے اندر ہو۔ میں منی ٹریل کی نہیں ’’موریلٹی ٹریل‘‘ کی بات کر رہا ہوں، جائز ناجائز، حرام حلال کی بات نہیں کر رہا۔۔۔ میرا سوال ہی کچھ اور ہے جس کا تعلق رویوں اور اخلاقیات کے ساتھ ہے کہ یہ سب تکنیکی طور پر جائز اور درست بھی ہو تو نامناسب ہے اور زیب نہیں دیتا۔حالت کیا ہے؟ JITکے پاس فوٹیج ہو گی جب وہ کہتے ہیں ’’حسین نواز پہلی پیشی پر کوئی ریکارڈ ساتھ لائے نہ سوالوں کے جواب دیئے اور کہا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تاہم اپنی درخواست میں اس کے برعکس تاثر پیش کیا ‘‘ اور پھر یہ کہ ’’سرکاری ادارے ریکارڈ میں ردوبدل اور تاخیر کر رہے ہیں‘‘سارا کاروبار ایسا ہی ہے جیسے اتواز بازار کے دورے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ’’تلاشی‘‘ دیتے ہوئے بنائی اور پھر اہتمام سے جاری کی گئی تصویر جسے دیکھنے کے بعد میں اب تک ہنس رہا ہوں۔ بیوقوف بنانے کے بھی کچھ اصول اور ادب آداب ہوتے ہیں لیکن شاید اقتدار کے علاوہ انہیں اور کچھ بھی یاد نہیں رہا۔اور اب آخر پر اک سچی کہانی۔سارہ برطانوی علاقے نارتھ ویلز میں رہتی تھی۔ اسے رابرٹ نامی شخص سے محبت ہو گئی۔ دونوں نے شادی کر لی۔ دونوں غریب تھے۔ پھر ان کے دو بیٹیاں بھی پیدا ہو گئیں۔ دونوں نے حالات سے تنگ آ کر آن لائن مارکیٹنگ کا کاروبار شروع کیا جو اس طرح چل نکلا کہ میاں بیوی کے وارے نیارے ہو گئے۔ ان کے پاس ڈھائی کروڑ پائونڈ کا پینٹ ہائوس آ گیا۔ 2 کروڑ 20لاکھ کی پُر تعیش کشتی بھی خرید لی، ذاتی جہاز بھی رکھ لیا اور بیشمار جائیداد بھی بنا لی لیکن اس سارے پراسیس میں پیار کرنے والا شوہر دولت کی زیادتی سے بدکار ہو گیا اور اس نے بیوی کی دولت کا بیشتر حصہ بھی آف شور کمپنیوں میں غائب کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میں طلاق ہو گئی اور بیوی نے 2سال قانونی جنگ لڑنے کے بعد لوٹ کا مال بھی واپس لے لیا یعنی خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔آج سارہ نامی یہ خاتون کہتی ہے۔۔۔ ’’ہم نے دولت تو بہت بنا لی لیکن گھر اور سکون برباد کر لیا۔ اتنی ڈھیر دولت سے کہیں بہتر تھا کہ میں رابرٹ اور اپنی بچیوں کے ساتھ کسی چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں خوش و خرم پُر سکون زندگی گزار رہی ہوتی‘‘

 
Loading...