دنیا کی پانچ بلند ترین عمارتیں کون سی ہیں ؟ پڑھیے ایک معلوماتی خبر

لاہور (ویب ڈیسک) بادشاہوں اور حکمرانوں کو ہمیشہ بلند و بالا اور خوبصورت عمارات بنانے کا شوق رہا ہے۔ یہ عمارات ان کے جاہ و جلال اور طاقت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جدید ٹٰیکنالوجی کی وجہ سے طاقت کا یہ مظاہرہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ اسی لئے اب دنیا کا ہر ملک اونچی عمارات بنانے کے مقابلے میں جتا رہتا ہے۔یہ عمارات صرف حکمرانوں کا بلند عمارت بنانے کا شوق ہی پورا نہیں کرتیں بلکہ یہ ملک میں سیاحت کو بھی فروغ دیتی ہیں۔ دنیا بھر سے لوگ ایسی عمارات کو دیکھنے کے لئے اور ان کے ساتھ تصاویر اتروانے کے لئے خاص طور پر ان ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی دنیا کی بلند عمارات  لی سیر کرنا اور ان کے ساتھ تصویر اتارنا چاہیں تو یہ لیں دنیا کی پانچ بلند ترین عمارات کی فہرست حاضر ہے۔

1۔برج خلیفہ

2009ء سے دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز برج خلیفہ کو حاصل ہے۔ برج خلیفہ متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں واقع ہے۔ اس کی اونچائی آٹھ سو انتیس میٹر ہے جو کہ دو ہزار سات سو بائیس فٹ کے برابر ہے۔ ایک سو اڑسٹھ منزلہ یہ عمارت دنیا کی واحد ایسی بلند ترین عمارت ہے جس میں کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کے باہر نکلنے کے لئے خاص لفٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔

یہ عمارت چھ سال کے عرصے میں مکمل ہوئی تھی۔ یہاں دنیا کا بلند ترین ریستوران بھی موجود ہے اور اس کی لفٹ کے ذریعے دنیا کا لمبا ترین سفر کیا جا سکتا ہے۔ اگر برج خلیفہ کی عمارت بالکل خالی ہو تو اس کا وزن پانچ لاکھ ٹن ہو گا۔

ہر سال دنیا بھر سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد برج خلیفہ کو دیکھنے کے لئے آتی ہے۔ اگر آپ نے اس کے ٹاپ فلور پر جانا ہو تو آپ ایک سو پچیس درہم سے لے کر پانچ سو درہم تک کی ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔ ٹکٹ کی قیمت فلور اور وقت کے لحاظ سے طے کی جاتی ہے۔ اگر آپ دوپہر کے وقت جائیں تو ٹکٹ سستی ہو گی اور اگر آپ رات میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ٹکٹ مہنگی ہو گی۔

2۔شنگھائی ٹاور

شنگھائی ٹاور چائنا کے شہر شنگھائی میں واقع ہے۔ اس کی اونچائی چھ سو بتیس میٹر یعنی دو ہزار تہتر فٹ ہے۔ اس کی ایک سو اٹھائیس منزلیں ہیں۔ شنگھائی ٹاور کی تعمیر دو ہزار آٹھ میں شروع ہوئی اور دو ہزار پندرہ میں مکمل ہوئی تھی۔ شنگھائی ٹاور کو اس کے خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے دو ہزار پندرہ میں ایمپورس سکائی سکریپر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

اس پوری عمارت کو پانچ مختلف کاروباری حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں دنیا کی تیز رفتار لفٹ لگائی گئی ہے جو صرف پچپن سیکنڈز میں عمارت کی ایک سو انیسویں منزل تک جا سکتی ہے۔ اس لفٹ کا ٹکٹ ایک سو انیس یو آن میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ شام ہوتے ہی یہ ٹاور روشنوں سے نہا جاتا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے پہنچ جاتی ہے۔

3۔ابراج البیت کلاک ٹاور

سعودی عرب کے شہر مکہ میں واقع ابراج البیت کلاک ٹاور دنیا کی تیسری بلند ترین عمارت ہے۔ اس کو مکہ رائل کلاک ٹاور بھی کہا جاتا ہے۔ اصل میں یہ ایک ہوٹل ہے جس میں رہائش کا خرچہ بہت امیر لوگ ہی برداشت کر سکتے ہیں۔ اس کلاک ٹاور کی اونچائی چھ سو ایک میٹر ہے جو کہ ایک ہزار نو سو بہتر فٹ بنتی ہے۔ اس کے ایک سو بیس فلور ہیں۔ اس ٹاور کی تعمیر 2004ء میں شروع ہوئی تھی اور 2011ء میں اس عمارت کو عوام کے لئے کھول دیا گیا تھا۔ یہ کلاک ٹاور دنیا کا بلند ترین کلال ٹاور بھی ہے اور اس کا گھڑیال دنیا کا سب سے بڑا گھڑیال ہے۔ اس ٹاور میں ایک بہت بڑا ہال نماز کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ اس ہال میں بیک وقت دس ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ نماز کے وقت اس ٹاور کی اکیس ہزار سبز اور گرین بتیاں جلنا اور بجھنا شروع کر دیتی ہیں تا کہ سب کو نماز کے وقت کا پتہ لگ سکے۔

4۔پینگ ان فنانس سینٹر

دنیا کی چوتھی بلند ترین عمارت پینگ آن فنانس سینٹر چائنا کے شہر شینزن میں واقع ہے۔ یہ چائنا کی دوسری بلند ترین عمارت ہے۔ اس کی اونچائی چھ سو میٹر ہے جو کہ ایک ہزار نو سو اکہتر فٹ بنتی ہے۔ اس فنانس سینٹر کی ایک سو پندرہ منزلیں ہیں۔ اس عمارت کی خاص بات اس میں نصب ڈبل ڈیکر لفٹ ہے جو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بیک وقت اونچائی پر لے جانے کے قابل ہے۔

اس عمارت کے ساتھ ایک اور سینتالیس منزلہ ٹاور بنایا جا رہا ہے جس کی تعمیر اگلے سال مکمل ہو گی۔ اس ٹاور کو ایک پُل کے ذریعے پینگ آن فنانس سینٹر سے جوڑا جائے گا اور لوگ بذریعہ پل ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور میں جا سکیں گے۔  (ا،خ ۔ س)

5۔لوٹے ورلڈ ٹاور

دنیا کی پانچویں بڑی اور جنوبی کوریا کی سب سے اونچی عمارت لوٹے ورلڈ ٹاور جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں واقع ہے۔ اس ٹاور کی اونچائی پانچ سو پچپن میٹر یعنی کہ ایک ہزار آٹھ سو تئیس فٹ ہے اور اس کی ایک سو تئیس منزلیں ہیں۔ لوٹے ورلڈ ٹاور کی تعمیر 2011ء میں شروع کی گئی تھی اور اسے مکمل ہونے میں تقریباً پانچ سال کا عرصہ لگا۔ اس ٹاور کو تین اپریل 2017ء کو عوام کے لئے کھول دیا گیا تھا۔ لوٹے ورلڈ ٹاور کو ایشیا کی تیسری بلند ترین عمارت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ یہاں دنیا کا بلند ترین سوئمنگ پول بھی بنایا گیا ہے۔ (ا،خ ۔ س)