میرا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا۔۔۔عمران خان پر یو ٹرن کا الزام لگانے والے رانا ثناء اللہ صاف مکر گئے

اسلام آباد(ویب  ڈیسک) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے  کہا ہے کہ راسخ العقیدہ مسلمان ہوں ، ختم نبوت کو  ایمان کا لازمی جزو  سمجھتا ہوں، جو اس پر یقین نہیں رکھتا وہ اسلام سے خارج ہے اور اسی بنیاد پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، ہمارا آئین تمام غیر مسلم اقلیتوں کےمذہبی، شہری حقوق کا تحفظ فراہم کرتا ہے، عیسائی، ہندو، سکھوں کومکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور شہری آبادی حاصل ہے اور ان کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔

نیوز کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے  کہا  کہ احمدی کمیونٹی کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ ان کو نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے تبلیغ کرتے ہیں جبکہ اسلامی شعائر کو استعمال کرتے ہیں جن کی ان کو اجازت نہیں اور یہی بات میں نے کہی۔ مگر میری بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ ان تمام باتوں کے باوجود احمدی کمیونٹی کو ریاست پاکستان جان و مال کا تحفظ فراہم کرتی ہے۔ احمد ی آئین پاکستان کو تسلیم کریں ۔اس معاملے میں چند لوگ سیاسی اور مذموم مقاصد کیلئے اس ایشو کو استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس پر علمائے کرام کو نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں احتساب عدالت میں پیش آئے واقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وکلا پر تشدد کیا گیا اور خواتین وکلا کے ساتھ نازیبا سلوک کیا گیا۔ نیب ایک اوپن کورٹ ہے جس میں وکلا سمیت تمام شہریوں کو جانے کی اجازت ہے اور اس سلسلے میں اگر بدمزگی ہوئی ہے تو اس پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ کیپٹن صفدر کی اسمبلی میں قادیانی ایشو پر تقریر پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر کے بیان کا جہاں تک تعلق ہے اس پر ڈی جی آئی ایس پی نے دو ٹوک بات کرتے ہوئے ختم نبوت حلف نامے کی بات کی ہے اوراب اس معاملے کو زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایک وسیع بار ہے جس کے 21ہزار ممبر ہیں ، چند لوگوں کی جانب سے مجھ پر پابندی لگانے کی کوئی حیثیت نہیں۔ چند لوگ سیاسی مقاصد کیلئے اس ایشو کا استعمال کر رہے ہیں۔ نیب کورٹ کا احاطہ نہ صوبائی اور نہ وفاقی حکومت کے انڈر آتا ہے ۔ نیب کورٹ رجسٹرار اس کے ذمہ دار ہیں، نیب کورٹ میںپیش آنے والے واقعہ کی انکوائری رجسٹرار نیب کورٹ کو کرنی چاہئے، ناخوشگوار واقعہ کمرہ عدالت میں پیش آیا جس پر عدالت کو نوٹس لینا چاہئے۔ اگر کمرہ عدالت میں گنجائش کم ہے تو وہاں افراد کی گنجائش دیکھ کر عدالت نے خود فیصلہ کرنا ہے کہ کتنے افراد کو اجازت دی جائے۔

نیوز کانفرنس سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ  ہم جمہوری حکومت کا حصہ ہیں جس کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں کہ لوگوں کیساتھ اس طرح سلوک کیا جائے۔ جمہوری قوتیں لوگوں کی مشاورت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہیں۔ ہمارا جہاں بھی اختیار ہے وہ لوگوں کے ساتھ چلنے میں مضمر ہے، کسی بھی جگہ ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جس سے جمہوریت کی ساکھ کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچے۔(ا،خ ۔س)