خلطِ مبحث (ہارون الرشید) ۔۔۔ 13 اکتوبر 2017

ان کے سوا، جنہیں تدبر اور توبہ کی توفیق ملے، ہر کوئی اپنے انجام کو بڑھتا جاتا ہے ۔ یہی آدمی کی تقدیر ہے ۔ 

معیشت پر جنرل قمر باجوہ کا بیان آیا تو اسی ہنگام میاں محمد شہباز شریف نے کیسا دلچسپ موقف اختیار کیا: 1999ء کا مارشل لا ترقی کا سفر روکنے آیا تھا۔ ارے بھائی، ارے بھائی ، یہ سول ملٹری تنازعہ تھا۔ معاشی ترقی تو جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواز عہد سے دوگنا؛ حتیٰ کہ آٹھ فیصد تک جا پہنچی تھی۔ سی پیک کے باوجود اب بمشکل پانچ فیصد کو چھو سکی ہے۔ 1999ء میں نواز حکومت نامقبول تھی۔ اس کے باوجود اپوزیشن ہی نہیں، میڈیا اور فوج کو تسخیر کرنے کے درپے تھی۔ ایک بڑے اخبار کے دفاتر پر پولیس اور ایف آئی اے مسلط تھی ۔ صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ نجی ٹی وی چینل اسی دور کا ثمر ہیں ۔ گیلپ سے پوچھیے کہ 70 فیصد رائے دہندگان نے مارشل لا کا خیر مقدم کیا تھا، صرف 20 فیصد نے مخالفت۔ بعد ازاں اگرچہ قوم نے، جمہوریت کے لیے جنرل کو مسترد کر دیا۔ 

خلط مبحث میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔ مسائل کا سامنا کرنا ہمارا مزاج ہی نہیں۔ قادیانی مسئلے پر فکر و نظر کے ایسے موتی لٹائے جا رہے ہیں کہ مخلوق دنگ ہے۔ 1974ء میں یہ تنازعہ حل کر دیا گیا تھا... سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے پورے اتفاقِ رائے کے ساتھ ۔ گنتی کے چند لوگ چوں چوں کرتے رہے ۔ ایسے لوگ ہر کہیں ہوا ہی کرتے ہیں ۔ اشتراکیوں اور کٹھ ملائوں میں اب بھی ایسے دانا موجود ہیں، جو قائدِ اعظم کو انگریز کا ایجنٹ کہتے ہیں۔ شاہراہ سے الگ ہو کر پگڈنڈیوں پر جب لوگ بھٹکنے لگتے ہیں تو وہ بھٹکتے ہی رہتے ہیں ۔ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ 

کیپٹن صفدر نے قومی اسمبلی میں جہاد کا نعرہ بلند کیا تو قادیانیت ان کا ہدف ہرگز نہیں تھی۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے نام پر قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام بہت دن پہلے رکھا گیا تھا‘ اور خود میاں محمد نواز شریف کی اجازت کے ساتھ۔ چند برس قبل جب لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کیا گیا تھا تو میاں صاحب نے کہا تھا کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں۔ اس پر میاں صاحب کے خلاف نعرے بلند ہوئے تو اس ناچیز نے ان کے حق میں کلمہء خیر بلند کیا تھا کہ کسی بھی اقلیت پر حملے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ کیپٹن صاحب کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے قائدِ اعظم یونیورسٹی کا ایک شعبہ منسوب کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ جنہیں تھا، وہ روئے پیٹے مگر قوم کے لیے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہ تھا؛ چنانچہ وقت کی گرد میں گم ہو گیا۔ 

کیپٹن صاحب اس معاملے میں واقعی حساس ہوتے تو چند روز قبل پارلیمان میں مرزائیت سے متعلق حلف نامہ ہٹا دینے پر احتجاج کرتے۔ اسے تو وہ شہد کی طرح پی گئے۔ اس کے فوراً بعد اچانک ہڑبڑا کر کیوں جاگے۔ ایک پچھلے بیان کی روشنی میں ان کی ذہنی کیفیت سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ فرمایا تھا کہ پاناما کیس نظریہء پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ پاکستان میں اس سکینڈل کا انکشاف سب سے پہلے میاں صاحب کے حامی اخبار نے کیا تھا۔ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کئی لیڈروں کے نام تھے ۔ بعض کی وضاحت قبول کر لی گئی ۔ کچھ مارے گئے ۔ سوچی سمجھی ایک سازش ہوتی تو اسی وقت ایک طوفان اٹھا دیا جاتا۔ جنرل راحیل شریف وزیرِ اعظم سے نالاں تھے ۔ عمران خان تو مشتعل تھے ہی ۔ سال بھر یہ سلسلہ کیوں لٹکتا رہا ؟ آخر کو اس کا نوٹس لیا تو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے۔ کوئی ان کے خلاف بات کیوں نہیں کرتا۔ بینچ موجودہ چیف جسٹس نے تشکیل دیا۔ ان پر بھی کبھی اعتراض نہ کیا گیا ۔ سامنے کی بات یہ ہے کہ شریف خاندان سمندر پار اپنی دولت کا جواز پیش نہ کر سکا۔ محترمہ مریم نواز سے کس نے کہا تھا کہ وہ ایون فیلڈ کے مکانات کا وجود تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔ قطر کے شہزادے سے مضحکہ خیز خط لکھوانے کا مشورہ کس نے دیا تھا ؟

استغفراللہ پڑھتے ہوئے ، وزیرِ قانون نے اپنی غلطی مان لی ہے ۔ اقرار نامے کو پھر سے حلف میں بدل دیا گیا ہے ۔ سازش تھی یا حماقت، اس کا ارتکاب خود وزارتِ قانون نے کیا تھا ۔ تحقیقات ہوتی رہیں گی۔ ایک دن آخر حقائق سامنے آجائیں گے ۔ تاریخ اپنے سینے میں کوئی راز چھپا کر نہیں رکھتی۔ اس شر میں سے خیر یہ برآمد ہوئی کہ اوّل اوّل تاویل کے بعد ، نون لیگ کو سجدۂ سہو کرنا پڑا ۔ اتفاقِ رائے سے پارلیمنٹ نے ترمیم منظور کر لی۔ واضح ہو گیا کہ پاکستانی قوم اس معاملے میں انتہا کی حساس ہے ۔ اصولی سطح پر معاملہ نمٹ چکا۔ تاریخی ریکارڈ کے لیے جستجو کرنے والوں کے سوا باقی سب کو سکھ کا سانس لینا چاہئے۔ رانا ثناء اللہ کے سوا ہر کسی نے سبق سیکھ لیا ہے۔ 

کیپٹن صاحب اس لیے آتش زیرپا ہیں کہ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ انہی کا کیا، پورے شریف خاندان کا۔ ذہنی طور پر وہ کسی قدر پسماندہ آدمی ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ کسی مقبول نعرے کی آڑ لے کر مخالفین کو بدنام اور کمزور کیا جا سکتاہے ۔ پھر شریف خاندان کے سامنے خود کو وفادار اور با وقعت ثابت کرنے کا آسیب بھی سوار رہتا ہے۔ ایسے آدمی پہ ہنس دینا چاہیے، ہمہ وقت جو ذہنی الجھنوں میں گرفتار رہے ۔ ان سے ہمدردی کی جا سکتی ہے ۔ وہ کوئی مذہبی سکالر ہیں اور نہ مقبول لیڈر کہ ان کے فرمودات پر سنجیدگی سے بحث کی جائے۔ ایک بڑے خاندان سے تعلق استوار نہ ہوتا تو زیادہ سے زیادہ میجر کے منصب سے سبکدوش ہو کر کھیتی باڑی میں جتے ہوتے ۔ 

زندگی کیا کیا تماشے دکھاتی ہے ۔ حواس سلامت ہوں اور غور و فکر کی توفیق تو ان سے سبق سیکھا جا سکتا ہے ۔ جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ دولت اور اقتدار سے زندگی ثمر بار ہو سکتی ہے ۔ ان کی حالت پہ غور کریں ۔ علم اور سلیقہ اگر نہ ہو تو سونے کا پہاڑ بھی افلاس سے نجات نہیں دلا سکتا۔ 

رانا ثناء اللہ پہ البتہ حیرت ہے ۔ کیپٹن صاحب کے انتہا پسند طرزِ عمل پہ ناپسندیدگی کا اظہار نون لیگ کے دوسرے لیڈروں نے بھی کیا ۔ ایک انتہا پسند مذہبی مکتبِ فکر کے لیڈروں سے ان کے رشتہ و پیوند کا چرچا رہتا ہے۔ اب اچانک یہ پھل جھڑی چھوڑنے کا خیال انہیں کیوں آیا؟ کیا اس دیوانگی کے پیچھے کوئی منصوبہ ہے کہ ملک میں انتشار پھیلے ؟ شریف خاندان کے گرد تنگ ہوتا ہوا گھیرا کسی طرح ٹوٹ جائے؟ کیا یہ محض حد سے بڑھے ہوئے اعتماد کا شاخسانہ ہے، جس میں آدمی آخری درجے کی حماقت کا مرتکب ہو سکتا ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ وہ پنجاب میں شریف خاندان کا بازوئے شمشیر زن ہیں ۔ ان کے ایما پر کسی پہ حملہ آور ہونے اور ہر طرح سے دفاع کرنے والے ۔ طاقت چھن جانے کے خوف میں بھی آدمی گاہے پہاڑ سی غلطی کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وفاقی وزیر عابد شیر علی کے گرامی قدر والد چوہدری شیر علی ان پر 16 بے گناہوں کے قتل کا الزام عائد کرتے رہتے ہیں؛ اگرچہ ثبوت کبھی پیش نہ کیا۔ کیا شریف خاندان کے ساتھ رانا صاحب کا یومِ حساب بھی آپہنچا ہے ؟ ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ قوم سے معافی نہ مانگی، اپنے الفاظ واپس نہ لیے تو ڈیزل کا یہ داغ دھل نہ سکے گا۔ انسانوں کا معاملہ عجیب ہے ۔ مذہبی پارٹیوں ہی کو دیکھ لیجیے کہ ایک بار پھر ڈیزل سے غسل پر آمادہ ہیں۔ ان کے سوا، جنہیں تدبر اور توبہ کی توفیق ملے، ہر کوئی اپنے انجام کو بڑھتا جاتا ہے ۔ یہی آدمی کی تقدیر ہے۔