قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں اور اجتماعی گناہ (ڈاکٹر محمد اجمل نیازی) ۔۔۔ 13 اکتوبر 2017

میں وزیر قانون زاہد حامد کو نہیں جانتا۔ اتنا جانتا ہوں کہ وہ بڑی شے ہیں۔ صدر جنرل مشرف کے بھی وزیر قانون ہوا کرتے تھے۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے مگر مسلم لیگ ن والوں نے انہیں پھر پارٹی صدر بنا لیا۔ انہوں نے ہی نواز شریف کو وزیراعظم بنایا تھا۔ وہ ان کو پھر وزیراعظم بھی بنا سکتے ہیں۔

لوگ حیران رہ گئے کہ یہ کیا ہو گیا ہے بلکہ وہ پریشان ہو گئے۔ سینٹ میں اس فیصلے کے خلاف قرارداد منظور ہو گئی جبکہ حکومتی سنیٹرز نے اس کی مخالفت کی۔ وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ قانون بھی بن گیا ہے۔ اب قرارداد کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ پاکستان میں وزیر قانون ایسے ہی شخص کو بنایا جاتا ہے جو قانون اور لاقانونیت میں کوئی فرق نہ کرتا ہو۔
قرارداد کی واقعی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ جو بھی جو قرارداد منظور کرانا چاہے آسانی سے کرا سکتا ہے۔ یہ تو ایک درخواست ہے۔ ایک خواہش اور ایک خیال ہے کہ ایسا ہو جانا چاہیے۔ ایسا ہو گیا ہے اور ایسا ہونا چاہیے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
پچاس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لیے قراردادیں منظور کی گئی تھیں۔ وہ بھارت کے لیے کاغذ کے ردی ٹکڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں۔ اقوام متحدہ کا اجلاس بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔
ایک حیران کن بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے الگ وطن پاکستان کے لیے بھی ایک قرارداد ہی قائداعظم کی صدارت میں منظور ہوئی تھی اور پھر پاکستان بن گیا۔ یہ تو قرارداد منظور کرنے والوں کے جذبہ، جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ کے نعرے کو سچ کر دکھایا۔
ختم نبوت کے حوالے سے ایک طے شدہ بات کو دوبارہ متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی مگر پھر ایک سخت ردعمل آنے کے بعد یہ قانون واپس لے لیا گیا۔ حیرت ہے کہ ایک بڑی غلطی کے لیے کسی کو پتہ نہ چل سکا۔ نہ وزیراعظم کو نہ کسی وزیر شذیر کو نہ اپوزیشن لیڈرز کو نہ کسی ممبر اسمبلی کو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی اس معاملے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ کیا قانون بن رہا ہے۔ کون سے بل پر کیا بحث ہو رہی ہے۔ بل بلہ بن چکا ہے بلکہ باگڑ بلہ بن چکا ہے۔ ممبران اور وزیراعظم اسمبلی کے سیشن کے دوران اسلام آباد تو آ جاتے ہیں مگر اسمبلی میں نہیں آتے۔ جو آتے ہیں وہ مسلسل خاموش رہتے ہیں۔ ان کا کام صرف ہاتھ اٹھا کر اپنے لوگوں کے لیے کسی بل کی حمایت کرنا ہوتا ہے۔ بہت سے ممبران کو اسمبلی میں اپنی نیند پوری کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہ اس موقعے سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کہتے ہیں ایک حکومتی ممبر اسمبلی کو اجلاس کے دوران نیند آ جاتی تھی۔ وہ بڑے اطمینان سے گہری نیند کے مزے لیتے تھے۔ خراٹے بھی لیتے تھے۔ دوسرے ممبران اس تماشے کو بھی انجوائے کرتے رہے۔
اچانک بل پر رائے شماری کا وقت آ گیا۔ اسے پتہ نہ چلا۔ اس نے ہڑبڑا کر جاگنے کے بعد ہاتھ کھڑا کر دیا۔ ایک دو ووٹوں سے بل پاس ہو گیا۔ حکومتی حلقوں میں کہرام مچ گیا۔ نیند کے مزے لوٹنے والے ممبر کو تب صورت حال کا پتہ چلا جب اسے یہ نوٹس ملا کہ تمہاری وجہ سے حکومت کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔
قومی اسمبلی میں عجیب مضحکہ خیز صورتحال بن گئی۔ جب مولانا فضل الرحمن نے تقریر کی۔ وہ حکومت میں بھی ہوتے ہیں اور اپوزیشن میں بھی ہوتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں بھی اپنی پوزیشن بنا لیتے ہیں۔ بڑے زبردست آدمی ہیں۔ وہ مولانا بھی اتنے ہی وزن کے ہیں جتنے وزن کے سیاستدان ہیں۔
مولانا نے کہا کہ ہم سے ایک اجتماعی گناہ ہوا ہے تو پھر کچھ دنوں بعد کسی قومی گناہ کا ذکر بھی ہو گا۔ اس کے بعد اصول کے مطابق مولانا کو استغفراللہ پڑھنا چاہیے تھا جو انہوں نے نہیں پڑھا۔
ہم پاکستان میں جس حال میں ہیں اتنا تو ہمیں پتہ ہے کہ ہم اجتماعی گناہ کا شکار ہیں مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہے۔ ایک سیاسی عدم استحکام اور معاشی زوال نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔