جگا جسکے نام پر جگا ٹیکس کی اصطلاح متعارف ہوئی

لاہور (انتخاب : شیر سلطان ملک) لاہور کے بڑے بوڑھوں کے ذہن سے اس انوکھے کردار کی یاد شاید محو نہ ہوئی ہو، کسی کسی کو یاد ہو کہ کسی زمانے میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر فتح محمد بندیال نام کے بااصول انسان تھے۔ بندیال صاحب جی اوآر (بہاولپور ہاؤس) میں مقیم تھے۔وہ اپنے چھوٹے موٹے کام خود کرتے ، کچھ لینے جانا ہوتا تو ڈرائیور کے ساتھ نکل پڑتے۔ ایسے ہی ایک روز وہ مزنگ چونگی کی ایک دکان سے پھل خریدنے گئے، وہ دکان ان کی رہائش گاہ کے قریب تھی، وہ اکثر عام سے لباس میں بغیر پروٹوکول کے عام سی گاڑی میں اس دکان پھل لیا کرتے تھے، پھل لینے میں دیر ہی کتنی لگا کرتی۔وہ پھل لے لر اپنی رہائش گاہ پر آ جاتے۔ لیکن اس دن روز ایک عجیب با ت ہوئی۔

 نامور پاکستانی کالم نگار محمد اقبال قریشی اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ڈپٹی کمشنر بندیال صاحب نے دیکھا کہ ان کی گاڑی کے آگے ایک اور گاڑی آکر رکی۔ گاڑی میں چھ سات مسلح باڈی گارڈز کے حصار میں ایک پہلوان نکلا اور پھلوں کی دکا ن کا رخ کیا۔ دوکاندار نے ڈپٹی کمشنر صاحب کا آرڈر وہیں چھرڑ کر اس شخص کو یوں سلام کیا جیسے وہ اس کا باس ہو اور نہایت احترام سے مخاطب ہو کر کہا "جگابادشاہ سلام"۔ جگے نے اپنے مخصوص انداز میں ہتھوڑے جیسا ہاتھ لہرا کر جواب دیا۔ پھلوں کی ٹوکریاں اور تین چار بوتلیں لیں اور بغیر پیسے دیے گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔جگا کے جانے کے بعد ڈپٹی کمشنر صاحب نے دوکاندار سے پوچھا،یہ کون شخص تھا؟

دوکاندار کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ لاہور کا ڈی سی اس سے مخاطب ہے اس لیے روایتی  بےپرواہی سے جواب دیا: "باؤ جی تسیں لہور دے نہیں لگدے، تہانوں پتا نہیں جگا کون اے؟ اے جگا بادشاہ سی جناب! ایہہ لہور دا حاکم اے، لہور دا حاکم"۔ ڈپٹی کمشنر صاحب یہ سن کر پریشان ہو گئے کہ لاہور کا حاکم تو میں ہوں، یہ نیا حاکم کہاں سے آ گیا۔ بہر کیف گھر جانے کے بجائے مزنگ تھانے میں چلے گئے وہاں انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو تمام پولیس اہلکار کھڑے ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا: "میں جو کچھ دیکھ کر آیا ہوں، اس سے تعجب ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام احوال پولیس والوں کو بتایا اور کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو ہم سرکار سے کس بات کی تنخواہ وصول کرتے ہو۔ڈپٹی کمشنر کی باتیں سن کر پولیس اہلکارخاموش کھڑے رہے۔ توقف کے بعد ایس ایچ او نے ڈی سی کہا اگر جان کی امان ہو تو کچھ عرض کروں۔ ڈی سی نے کہا ہاں بتاؤ اصل صورتحال کیا ہے۔ ایس ایچ او نے کہا میرا خیال ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ڈی سی نے کہا کہ اس میں غلط فہمی کی کیا بات ہے میں سب کچھ دیکھ کر آیا ہوں۔ ایس ایچ او اسی وقت ڈی سی کو پھلوں کی دکان پر لے گیا۔ دوکاندار ایس ایچ او کو دیکھ کو کھڑا ہو گیا اور کہا کہ کیا حکم ہے۔ایس ایچ او نے دوکاندار سے ڈی سی کا تعارف کرایا اور دریافت کیا کہ ابھی جگا نام کا کوئی شخص یہاں سے مفت پھل لے گیا ہے۔ دوکاندار نے کہا کہ اس نام کا کوئی ٓشخص نہیں آیا اور پھر ہم کسی کو مفت پھل کیوں دیں۔ ڈی سی دوکاندار کی بات سن کر حیران ہوا، تاہم وہ سمجھ گیا کہ تھانیدار کی موجودگی میں وہ حقیقت نہیں بتائے گا۔ ڈی سی  بندیال صاحب وہاں سے سیدھا ایس ایس پی کے گھر چلے گئے اور تمام واقعہ سنایا۔ ایس ایس پی نے کہا اچھا ہوا آپ نے شہر کی صورتحال اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ خیر اس ملاقات کے بعد ڈی سی نے سخت احکامات جاری کیے کہ جگا کی کاروائیاں جاری نہیں رہنی چاہیں ۔ جگا گجرکو لوگ جگا بادشاہ کہہ کر بلاتے تھے اور لاہورہی نہیں بلکہ پورے ملک کی پولیس اس کا نام سن کر کانپتی تھی۔اس کو گرفتار کرنا شیر کے شکار جیسا تھا۔ جگا گجر کی رائج کی ہوئی "جگا ٹیکس کی اصطلاح آج تک مستعمل ہے۔ جگا تھا تو بدمعاش لیکن اس کی یہ خوبی اسے دوسرے غنڈے موالیوں سے ممتاز کرتی تھی کہ اس کے گھر شام کو جو ٹیکس جاتا تھا، اس میں غریبوں اور بیواؤں کا بھی حصہ ہوتا تھا۔ اس کے ٹارگٹ امیر اور صنعت کار ہوتے تھے۔ جگا کی ڈی سی سے غائبانہ ملاقات اس کی موت کا پروانہ ثابت ہوئی۔ریاست سے بھلا کون ٹکر لے سکتا ہے؟ ان کے خلاف ایس ایس پی جناب حاجی حبیب الرحمن نے ایسا گھیرا تنگ کیا کہ لاہور کا یہ بے تاج بادشاہ مفرورہوگیا۔بلآخر غنڈہ ایکٹ کے دنوں میں ایک مخبر کی اطلاح پر اس کے ٹھکانے کا کھوج لگایا گیا اور پولیس مقابلے میں اپنی چھوڑی چھاتی پر بے شمار گولیاں کھا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ اس کی لاش کو دیکھنے کے لیے ایک لمبی قطار لگ گئی۔ جگا گجر کا اصل نام محمد شریف تھا،اسے اس کی والدہ پیار سے جگا کہا کرتی تھی۔ جگا کے غنڈہ بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے ، اس کے بھائی مکھن گجر کا ایک میلے میں نامی گرامی بدمعاش اچھا شوکر والا سے جھگڑا ہو گیا۔ شوکر والا کے آدمی نے مکھن گجر کو قتل کر دیا، تب جگا کی عمر چودہ سال تھی، جگا نے آٹھ دن بعد اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر دیا اور جیل جا پہنچا۔ وہاں جب اسے پتا چلا کہ قتل کا اصل محرک شوکر والا ہے تو اس نے اس کے خلاف جیل میں ہی ایک منظم تحریک کا آغاز کیا اور اس پر حملہ بھی کروایا۔اس حملے میں شوکو والا کے دو آدمی مارے گئے اور شوکر والا زخمی ہوا، تاہم یہ سلسلہ جگا کو باقاعدہ غنڈہ بنانے میں اہم کردار کا حامل رہا۔