اب اگر  اس لہجے میں مجھ سے بات کی تو۔۔۔۔ اعتزاز احسن نے زرداری کی ہمشیرہ کو  اُسکی اوقات یاد دلا دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کےپروگرام ’آف دی ریکارڈ‘میں معروف اینکر کاشف عباسی نے فریال تالپور کا جلسے میں شرکا کو ووٹ کیلئے دھمکیاں دینے کا کلپ چلایا توپروگرام کے مہمان معروف قانون دان اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ فریال تالپور جیسے بات کر رہی ہیں اور جس طرح جلسے کے شرکاسے مخاطب ہیں تو جلسے کے شرکا تو دور کی بات میں بھی ان کی بات نہ مانوں۔

 واضح رہے کہ شہداد کوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کی بہن اور پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپور نے انتہائی درشت اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’شہداد کوٹ کے باسیو!اس دھرتی کے رہنے والو!قمبر شہداد کوٹ اور دور سے آنیوالو!کان کھول کر سن لو ایک ہی نعرہ ہے، بھٹو کا نعرہ ہے، ایک ہی نشان ہے وہ تیر کا نشان ہے، سارے تماشے بند ہونے چاہئیں، اور تیر کو ووٹ دینا ہے، اور اگر کسی کے دماغ میں مدھیرا (نشہ، شراب، شرارت)ہے تے برائے مہربانی کڈی چھڈیو‘۔ شہداد کوٹ میں انتخابی جلسے سے فریال تالپور کے اس خطاب پر کاشف عباسی کے سوال پر اعتزاز احسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کان کھول کر ان کی(فریال تالپور)کی آواز میں بھی نہیں سنتا، یہ جس طرح بات فرما رہی ہیں جلسے میں ’ادی فریال‘یہ جلسے کا انداز ہوتا ہے، جلسے کے موڈ میں پلٹن میدان میں شیخ مجیب کھڑا ہوتا تھا یا نشتر پارک میں یا موچی دروازے میں بھٹو شہید کھڑا ہوتا تھا تو ایسا ہی انداز ہوتا تھا جس پر کاشف عباسی نے اعتزاز احسن سے سوال کیا کہ کیا آپ فریال تالپور کی اس تقریر اور انداز کو شیخ مجیب اور بھٹو سے ملا رہے ہیں تو اس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جلسے میں موڈ مختلف ہو جاتا ہےمگر یہ ایسا لہجہ ہے جس کو میں بھی نہ سنوں۔