شریفو اور زر والو !!!!! ریما کیا سوچتی ہو گی

لاہور (شیر سلطان ملک )   ہمارا ملک  گزشتہ کئی دہائیوں سے شریفوں اور زر والوں کے قبضے میں ہے  یا پھر  جناب مشرف نے 9 سال تک اقتدار کی موجیں لوٹیں ۔  ان  30 سالوں میں پاکستان میں ہر شعبہ ہائے زندگی  سے ہائے ہائے کی صدائیں اور بے بس  افراد  کی آہیں  ہی سنائی دے رہی ہیں ۔ صرف امن و امان کی صورتحال یہ ہے کہ اس ملک  کے  غریب اور بے بس عوام  کے نہ  بیٹوں کی جانیں محفوظ ہیں نہ   بیٹیوں کی عصمتیں ۔جرائم پیشہ  طاقتور اور باااثر لوگ دندناتے پھر رہے ہیں اور کمزور  بے بس طبقہ انکے ہاتھوں  ظلم و ستم کا مسلسل شکار ہو رہا ہے ۔

تازہ ترین خبر یہ ہے کہ  کراچی میں  ریما نامی ایک لڑکی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ وہ اپنی ماں  کے قتل کی چشم دید گواہ تھی ۔  ریما  کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا  گیا  ۔اسکے ہاتھ جسم کے پیچھے باندھ دیے گئے  اور پھر اسکے منہ پر بھی پٹی باندھ دی گئی ، اور پھر مار مار کر  اس بدقسمت  لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا  بلکہ ریما  کی لاش  کو گھسیٹ کر چھت پر لے جایا گیا اور پھر اس معصوم بے گناہ  نوجوان لڑکی کو پانی کی ٹینکی میں پھینک دیا گیا جہاںوہ کئی گھنٹے  پانی میں تیرتی رہی ۔

باقی باتوں کو تو چھوڑیئے ذرا  تصور کیجیے اس   بے بس اور کمزور لڑکی نے اپنے دشمنوں  کے شکنجے میں آنے کے بعد  اور  اپنی آخری سانس نکلنے سے پہلے کیا کیا سوچا ہو گا ۔

کیا ریما سوچتی نہیں ہو گی کہ ۔۔۔۔۔۔۔

نواز شریف زرداری  عمران خان راحیل شریف اور قمر جاوید  باجوہ  کے پاکستان میں کوئی بھی ایسا محمد بن قساسم نہیں جو    بے گناہ  اور مظلوم بیٹیوں اور بہنوں کو ظالموں کے ہاتھوں موت کے منہ میں دھکیلے جانے سے روک لے ۔

کیا  ریما سوچتی  نہیں ہو گی کہ  اس اسلامی فلاحی اور جمہوری  پاکستان   میں کیا یہی  اسلام  فلاح اور جمہوریت باقی رہ گئی ہے کہ   نہ صرف اسکی ماں کو قتل کر دیا گیا بلکہ اس   جرم کا  گواہ ہونے کے جرم میں  اسے بھی بے پناہ تشدد کے بعد بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔

کیا ریما سوچتی نہیں ہو گی کہ کاش وہ  یا تو پیدا نہ ہوئی ہوتی یا اگر پیدا ہو بھی جاتی تو بھلے کسی  عیسائی یا یہودی ملک میں جنم لے  لیتی ، کافر کہلائی جاتی ،  اس پر جنت میں داخلہ بند ہوتا ،  مگر وہ ایک محفوظ اور بے خوف زندگی تو  گزارپاتی اور اس طرح اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست میں  قتل کرکے پانی کی ٹینکی میں تو نہ پھینکی جاتی۔

کیا  ریما اور اس کی طرح پاکستان میں روزانہ درجنوں کی تعدا دمیں قتل کی جانیوالی مائیں بہنیں اور بیٹیاں   مرتے وقت ایک ٹھنڈی آہ بھر کر نہیں سوچتی ہونگی کہ کاش وہ بھی مریم نواز   ، بختاور  اور آصفہ بھٹو   یا پھر ایان علی جیسی قسمت کی دھنی نکلتیں  اور  ان  کی مانند   محفوظ زندگی گزارتیں ۔ انہیں کوئی گلا گھونٹ کر قتل کرتا نہ ہی انہیں زندہ دفن کرتا اور  نہ ہاتھ پاؤں باندھ کر دریا برد کیا جاتا۔