لیڈر بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں

لاہور (انتخاب : شیر  سلطان ملک ) کہتے ہیں ایک اونٹ کہیں جا رہا تھا ۔ اتفاق سے ا سکی نکیل کسی چوہے کے منہ میں آ گئی ۔ چوہے نے اسے منہ میں اچھی طرح دبایا۔ اور اکڑتاہوا ، اونٹ کے آگے آگے دوڑنے لگا۔اونٹ بھی تیزی سے اس کے ساتھ چلا تو چوہے نے دل میں کہا کہ مجھے آج پتا چلا کہ میں کون ہوں ۔میرے اندر اتنی جان ہے کہ  تو میری پیروی کرنے پر مجبور ہے ۔ ادھر چوہے نے یہ بات سوچی ، ادھر اونٹ کو کشف سے یہ معلوم ہوا کہ چوہا کیا سمجھ رہا ہے ۔

اس نے کہا اچھا بیٹا ، دیکھتا جا ، تجھے کیسا سبق سکھاتا ہوں ۔ ؑغرض یہ کہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے ایک عظیم الشان دریا کے کنارے پہنچے، دریا کا پانی اس قدر گہرا تھا کہ ہاتھی کا نام ونشان نہ ملے ۔ چوہے کا خون سرد پڑ گیا اور سارا جوش و خروش ختم ہو گیا۔ اونٹ نے کہا کیوں کیا ہوا رک کیسے کئے اور اب کس فکر میں ڈوبے ہوئے ہو اور یہ حیرت کس بات کی ہے ؟ کچھ مردانگی اور جی داری دکھاؤ۔ تم تو رہنما ہو ادھر راستے میں رک کر ہمت ہارنا م مردوں کا شیوہ نہیں ۔چلو آگے بڑھو تاکہ چودہ طبع روشن ہوں چوہے نے خوف سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا اتروں کیا خاک ، دریا بہت گہرا معلوم ہوتا ہے ۔ میرا تو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کہاں گیا ۔ نا بابا ، یہ اپنے بس کی بات نہیں ۔ اونٹ نے کہا تف ہے تمہاری اوقات پر کس بات پر اکڑتا تھا؟ پرے ہٹو ، میں بھی ذرا دیکھوں پانی کتنا گہرا ہے۔ یہ کہہ کر اونٹ نے دریا میں پاؤں رکھا اور کہنے لگا : ارے اوندھے چوہے تو تو بک رہا کہ دریا بہت گہرا معلوم ہوتا ہے اس میں تو زانو زانو پانی ہے بس اتنے ہی پانی سے دہشت کھا گیا؟ چوہے نے جواب دیا بھائی، میں کیا کہوں جو چیز تیری جسامت اور قوت کے سامنے حقیر چیونٹی ہے وہ ہی چیز میرے لیے ہیبت ناک اژدہا ہے۔تیرے اور میرے زانو ں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ یہ پانی مجھے غرق کر دہنے کے لیے کافی ہے ۔ یہ سن کر اونٹ نے للکار کر کہا خبردار ہوش میں آ اور آئندہ ایسی شیخی مت مارنا ورنہ جل کر راکھ ہو جائے گا ایسی گستاخیاں معاف نہیں کی جاتی ۔ اپنے ہم جنسوں میں بیٹھ کے چاہے جو ڈینگ مار ، کوئی حرج نہیں۔ مگر اونٹ کے آگے چوہے زبان کھولے ، اللہ غنی، کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا۔ توبہ کر کان پکڑ۔ چوہے نے کہا میری توبہ ـ! میرے باپ کی بھی توبہ ! آئندہ یہ گستاخی نہ ہو گی ۔ اب اللہ کے واسطے مجھے بچا۔ اونٹ کو اس کی التجا اور درخوست پر رحم آیا۔کہنے لگا، ٹھیک ہے آ میری کوہان پر بیٹھ جا۔یہاں تو ہر طرح سے پانی محفوظ رہے گا۔

اے عزیز ! اونٹ اور چوہے کی حکایت سے تو کیا نتیجہ اخذ کرتا ہے؟تو پیر نہیں مقرر سیدھے رستے پر چل تاکہ سلامتی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ جائے اور جب تو بادشاہ نہیں توفرماں بردار رعایا بن کر رہ اور جب تو کشتی چلانی نہیں جانتا تو کشتی ہرگز نہ چلا۔ دلبراور دلدار کو دیکھ، اس کے نقش قدم پر چل ۔ وہ دلبراور دلدار لوگ کون ہیں ؟ وہ لوگ ہیں جو زمین کو اٹھا کرآسمان تک لے جاتے ہیں اور ایسا سفر جو تو برسوں میں بھی طے نہیں کر سکتا ، چند لمحوں میں طے کر لیتے ہیں ۔(ش س م۔ س )